پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی جھنڈے لہرانے والے کشمیریوں کو گولی ماردی جائے،وشوا ہندو پریشد کے صدر کی ہرزہ سرائی

datetime 16  جون‬‮  2015 |

بڑودہ / سری نگر (نیوز ڈیسک) ہندو انتہاپسند جماعت وشوا ہندو پریشد کے صدرپراوین توگڑیا نے بھارتی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی جھنڈے لہرانے والے کشمیریوں کو گولی ماردی جائے، دوسری جانب ضلع بارہ مولہ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک شہری کو گھر کے باہر گولی مارکر قتل کر دیا۔پراوین توگڑیا نے بھارتی ریاست گجرات کے شہر راج کوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرائے جارہے ہیں وہ باعث تشویش ہے اور اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ جو لوگ پاکستان کے حق میں نعرے لگائیں یا پاکستانی جھنڈے لہرائے تو ان کے سینوں پر گولیاں چلائی جائیں۔ پراوین توگڑیا نے کشمیر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں ایک سوال پر بی جے پی کی بھارتی حکومت کو حریت رہنماؤں کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پاکستان کے حامی ازادی پسندوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور میں پراسرار ہلاکتوں کی تازہ واردات میں پیر کی صبح نامعلوم مسلح افراد نے اعجاز احمد ریشی نامی شہری کو گھر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔گزشتہ چند روز میں 4 کشمیریوں کو نامعلوم افراد قتل کرچکے ہیں جن کا ماضی میں تحریک حریت کی مسلح مزاحمت کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ اگرچہ ان ہلاکتوں کا دائرہ ابھی صرف سوپور تک محدود ہے تاہم ٹارگٹ کلنگ کے نئے رجحان نے پوری وادی کو خوف زہ کر دیا ہے۔ دریں اثنا معصوم شہریوں کے قتل کے خلاف ضلع بارہ مولہ میں احتجاجی ہڑتال جاری ہے جبکہ سوپور میں مسلسل تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال ہے۔سوپور کی صورت حال پر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ مفتی سعید نے ابھی تک لب کشائی نہیں کی جبکہ پولیس سربراہ راجندرا کا اصرار ہے کہ مسلح تنظیموں کے درمیان بالادستی کی کشمکش کے نتیجے میں گروہی تصادم ہو رہے ہیں اور یہ ہلاکتیں اسی کا نتیجہ ہیں۔ حریت رہنماؤں سید علی گیلانی‘ یاسین ملک، شبیر احمد شاہ نے سوپور میں جاری معصوم شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف17جون کو مکمل ہڑتال اور19جون کو سوپور کی طرف مارچ کرنے کی کال دی ہے۔ دوسری جانب سید علی گیلانی اور مسلح تنظیموں کے اتحاد جہادکونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے ان ہلاکتوں کا بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ علی گیلانی نے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ مفتی سعید سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…