بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

تحریک انصاف کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کوتحقیقاتی کمیشن میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد

datetime 15  جون‬‮  2015 |

الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ سے متعلق ہیں ۔ نواب غوث سے جرح کرتے ہوئے ( ن ) لیگ کے وکیل شاہد حامد نے پوچھا کہ کیا آپ نے بھائی کے الیکشن ہارنے پر پٹیشن دائر کی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ہم نے پٹیشن دائر کی تھی لیکن وہ خارج ہو گئی اس کے بعد ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے ۔ ڈسٹرکٹ ریٹئرننگ آفیسر مراد علی سے جرح کرتے ہوئے شاہ خاور نے پوچھا کہ الیکشن 2013 میں آپ کہاں تھے تو انہوں نے بتایا کہ میں پی پی 42 اور 43 کا ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر تھا ۔ وکیل نے پوچھا کہ کیا 13 مئی کو امیدواران نے آپ سے ملاقات کی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ہاں الیکشن والے دن تمام امیدوار مجھ سے ملنے آئے تھے اور مذکورہ حلقوں سے الیکشن کی تاریخ کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ متعلقہ آر اوز کو درخواست کریں ۔ متعلقہ آر اوز نے صوبائی الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ الیکشن آج نہیں ہو سکتے لہذا تاریخ آگے بڑھائی جائے ۔ وکیل نے پوچھا کہ الیکشن والے دن کتنی پولنگ ہوئی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ٹاﺅن ایریاز میں پولنگ ہوئی لیکن دیہی علاقوں میں پولنگ نہیں ہوئی ۔ 72 میں سے 36 پولنگ سٹیشنز پر پولنگ نہیں ہوئی ۔ میر پراچہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے صوبائی الیکشن کمیشن کو اس صورت حال سے آگاہ کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہم نے صوبائی الیکشن کمیشن کو تمام تر صورت حال سے آگاہ کر دیا تھا ۔ شاہد حامد نے پوچھا کہ کیا آر اوز نے متعلقہ حلقوں کا رزلٹ دے دیا تھا جس پر انہوں نے کہاکہ ہاں آر اوز نے دونوں حلقوں کا رزلٹ دے دیا تھا اور دونوں حلقوں سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے ۔ شکیل احمد سے جرح کرتے ہوئے وکیل نے پوچھا کہ مذکورہ حلقے سے 69 پولنگ سٹیشنز سے کتنے فارم 15 موصول ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ 29 فارم 15 موصول ہوئے تھے ۔ 54 تھیلے سیل تھے جبکہ 15 تھیلے سیل نہیں تھے کیا یہ درست ہے کہ تو آر او نے بتایا کہ نہیں یہ الزام ہے
پورے 69 تھیلے سیل تھے اور اس حلقہ سے رضا محمد جیتے تھے جن کے ووٹ 5345 تھے جبکہ ہارنے والے امیدوار اختر حسین کے ووٹ 5191 تھے ۔ وکیل نے پوچھا کہ متعلقہ حلقے کے کچھ لفافے غائب تھے تو انہوں نے بتایا کہ جو لفافے غائب تھے وہ قومی اسمبلی پولنگ بیگ میں چلے گئے ۔ شاہد حامد نے پوچھا کہ کیا آپ نے نتائج مرتب کر لئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ۔ نصیر احمد جرح کرتے ہوئے منیر پراچہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے حلقے کا رزلٹ دیا تھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے سرکاری نتیجہ مرتب نہیں کیا تھا میں نے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کا اعلان کیا تھا کیونکہ مجھے سرکاری رزلٹ مرتب کرنے پر دھمکیاں مل رہی تھیں اس لئے میں نے الیکشن کمیشن کو لکھا کہ میری جگہ کسی دوسرے افسر کو تعینات کیا جائے جو سرکاری رزلٹ دے سکے ۔ تو میرے بعد اسسٹنٹ کمشنر ضلع خضدار کو ریٹئرننگ آفیسر بنایا گیا ۔ اکرم اللہ سے جرح کرتے ہوئے شاہ خاور نے پوچھا کہ پولنگ سکیم آپ کو کب ملی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے تاریخ یاد نہیں ۔ وکیل نے پوچھا کہ کیا آپ نے 9 مئی کو الیکشن سٹاف تعینات کر دیا تھا تو انہوں نے بتایا کہ نہیں میں نے 10 مئی کو الیکشن سٹاف کو تعینات کیا اس سے قبل دو مرتبہ پولنگ سٹاف کا اعلان کیا تھا لیکن ٹیچرز ایسوسی ایشن ، کلرک ایسوسی ایشن ، لیکچرار ایسوسی ایشن کے احتجاج کی وجہ سے ہمیں متعلقہ سٹاف نہیں مل سکا ۔ وکیل نے پوچھا کہ آپ نے تمام امیدواروں کو مطلع کیا تھا کہ آج الیکشن نہیں ہو سکیں گے تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ۔ وکیل نے پوچھا کہ الیکشن کے بعد کیا آپ نے رزلت کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں مجھے 43 میں سے 21 پولنگ سٹیشن کے رزلٹ موصول ہوئے تھے محمد نور سے جرح کرتے ہوئے شاہ خاور نے پوچھا کہ آپ کو کب تعینات کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے الیکشن کے دن صبح 8 بجے اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر تعینات کیا گیا ۔ دن 12 بجے پولنگ سٹیشن پر پولنگ سے متعلق سامان بھجوایا گیا اور وقت ختم ہونے پر کوئی ووٹرز پولنگ سٹیشن پر نہ آیا ۔ مراد علی جرح کرتے ہوئے شاہ خاور نے پوچھا کہ آپ کو کب پولنگ آفیسر بنایا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے انتخابات والے دن صبح 8 بجے پولنگ آفیسر تعینات کیا گیا ۔ پہلے سٹیشن بند تھا ۔ ڈیڑھ بجے پولنگ سٹیشن کا تالہ کھلا اور پولنگ کا سامان لایا گیا لیکن شام تک کوئی ووٹرز نہیں آیا ۔ شاہ خاور نے کہا کہ ہمارے ایک انتہائی اہم گواہ عبدارسول ہیں جن کے پاس اہم ویڈیو ریکارڈنگ ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ پولنگ سٹیشن کے باہر بیگ دوبارہ کھولے گئے اور ان کو پھر سے سیل کیا گیا ۔ عدالت نے پوچھا کہ یہ شخص الیکشن میں کیا تھا تو وکیل نے بتایا کہ یہ شخص الیکشن سے متعلقہ نہیں ۔ یہ شخص وہاں نائب قاصد تھا عدالت نے ویڈیو دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ ویڈیو عدالت کا وقت ضائع کرنے کے مترادف تھی ۔ تمام ریٹرننگ آفیسران کو بیگ سیل کرنے کا یہی طریقہ کار ہے ۔ اس لئے آپ کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے وکیل نے کچھ اور گواہان کو بلانے کی استدعا کی جس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے جن کو بلانا تھا بلا چکے ہیں ۔ رﺅف نامی شخص نے عدالت سے کہا کہ ہمارے گواہان کو بلایا جائے ۔ جوڈیشل کمیشن ہمیں انصاف مہیا کرے اور بلوچستان میں ہوئی دھاندلی کو بے نقاب کرے جس پر عدالت نے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ عدالت کو بتائیں عدالت میں تقریر نہ کی جائے



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…