منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پرویز مشرف کے ساتھیوں سے جان چھڑائیں؛ نوازشریف پر ن لیگی رہنماﺅں کا دباﺅ

datetime 15  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد( آن لائن) وزیراعظم محمد نواز شریف پر ان کے وفادار ساتھیوں کی جانب سے سخت دباﺅ ہے کہ وہ 1999ئ میں مسلم لیگی حکومت کے خاتمے کے بعد پرویز مشرف کا ساتھ دینے والوں سے جان چھڑائیں، اور انہیں پارٹی سے نکال باہر کریں۔ مےڈےا رپورٹس کے مطابق اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وزےراعظم نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی نے مےڈےا کو بتاےا کہ کہ ق لیگ میں شامل ہونے والوں نے قیادت کو دھوکہ دیا، وہ اب کابینہ میں شامل ہیں۔ یہ بات اب وزیراعظم کا ساتھ دینے والوں کیلئے قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ وفاداریاں بدلنے والے ان لوگوں نے پارٹی کا مشکل میں ساتھ دینے والوں کی حق تلفی کی ہے۔ وزیراعظم بھی یہ بات مانتے ہیں مگر وہ انہیں فارغ کرنے سے گریزاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پارٹی رہنماﺅں کو بتایا کہ لوگوں کے لئے دروازے بند نہیںکئے جاسکتے۔ وفاداروں کا خیال ہے کہ مخالفین کا پارٹی میں خیرمقدم کیا جائے مگر انہیں اہم عہدے اور وزارتیں نہیں دینی چاہئیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چودھری نے کہا کہ بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں، وفادار کارکن مشرف کی ٹیم کو کابینہ میں شامل کرنے پر خوش نہیں مگر یہ ہماری سیاست کا طریقہ ہے، ہمیں یقین ہے کہ کابینہ میں توسیع کے بعد مرکز اور پنجاب میں نئے وزرا وفاداریاں بدلنے والوں میں سے نہیں بلکہ کمٹڈ کارکنوں سے ہوں گے۔ مشرف دور کے کچھ لوگ کابینہ میں لئے گئے ہیں

مزید پڑھئے:وینا ملک کا برما میں مسلم کمیونٹی کیساتھ اظہار یکجہتی

مگر وزیراعظم مشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ امیر مقام، اویس لغاری، سکندر حیات بوسن، زاہد حامد، ماروی میمن، دانیال عزیز مشرف کی ٹیم میں شامل تھے اور وہ مسلم لیگ ن میں بھی اہم عہدوں پر ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ ھارون اخترکو وزےراعظم کا معاون خصوصی بنانے پر کسی بھی وفادار کارکن کی حوصلہ شکنی نہےں کی گئی ان کی تعنےاتی کا پارٹی پالےسی سے کوئی تعلق نہےں ہے بلکہ ان کو ان کے تجربے کی بنےاد پر وزےر اعظم کا معاون خصوصی مقر ر کےا گےا ہے کےونکہ بعض اوقات حکمران جماعت کو اےسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کا ماضی بے داغ ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ 2001 مےں مسلم لےگ ( ن)کے چند ممبران نے پارٹی کو توڑ کر مےاں اظہر کی قےادت مےں نئی پارٹی بنائی بعدازاں پارٹی کی صدارت چوہدری شجاعت حسےن کو سونپ دی گئی جسکے بعد پروےز مشرف سے قرےبی تعلقات کی بناءپر ےہ پارٹی کنگ پارٹی بن گئی

مزید پڑھئے:فلموں میں کیا کر تی ہو ں ودیا بالن نے راز بتا دیا

طلال چوہدری کے اس بےان پر پاکستان مسلم لےگ ( ق) کے رہنما و سےنےٹر سےعد الحسن مندو خےل کا کہنا ہے کہ پاکستانی سسٹم مےں ےہ چلتا رہتا ہے کہ کوئی پارٹی اقتدار مےں ہوتی ہے تو لوگ اس پارٹی مےں شامل ہوجاتے ہےں اور جب اس پر کڑا وقت آتا ہے تو اس سے کنارہ کر لےتے ہےںانہوں نے مزےد کہا کہ بہت سے اےسے وزراءہےں جو شوکت عزےز کی کابےنہ مےں شامل تھے اور آج وہ مسلم لےگ ن کا دفاع کررہے ہےںلہذا ےہ کلچر ختم ہونے والا نہےں ہے ہمےں سےا سی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا کارکنوں کو اپنی پارٹی کے ساتھ اس بات عہد کرنا چاےئے کہ انہےں ہر حال مےں پارٹی کے سا تھ وابستہ ہونا چاےئے ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…