اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

رمضان المبارک سے قبل چاند دیکھنے کا تنازعہ پھر سر اٹھانے لگا

datetime 14  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ ) لیں صاحب سال گزرا ، رمضان آیا۔ عید آئی ، لیکن ساتھ چاند دیکھنے کا ایشو بھی آگیا۔ لیکن اس بار رمضان اور عید ایک ہی دن کرنے کے لئے سرکار نے ابھی سے دوڑ دھوپ شروع کر دی ہے جس کا مطلب ہے کہ دونوں چاند بھی ایک ہی دن دکھیں اور عید روزے بھی ایک ہی دن ہوں اور پھر محکمہ موسمیات نے کہہ دیا ہے کہ سترہ جون کو رمضان کا چاند نظر آنے کا تو امکان نہیں ہے۔ ملک ایک لیکن کبھی پہلا روزہ الگ الگ اور تین تین عیدیں۔ دنیا چاند پر پہنچی لیکن ہم چاند ڈھونڈنے کے دائرے سے باہر نہ نکلے ، ملک میں دوریاں تو دنیا میں جگ ہنسائی۔ اسی اودھم اور قوم سے مذاق کو ختم کرنے کے لئے وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے صوبوں اور علمائے کرام سے رابطے اور مشاورت شروع کی ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے خیبر پختونخوا کے وزیر اوقاف حاجی حبیب الرحمان سے رابطہ کیا ہے کہ جناب قومی یکجہتی کو مدنظر رکھیں اور پوری قوم کے ساتھ رمضان المبارک کے چاند کا اعلان کریں اور عید کی خوشیاں بھی اکٹھی منائیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے حاجی صاحب سے کہا ہے کہ مسجد قاسم علی خان کی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی سے بات کریں کہ ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کے بجائے قومی دھارے میں شامل ہوکر قومی جذبات کو مدنظر رکھیں اورایک ہی دن روزے اور عید کے چاند کا اعلان کریں۔ اب ذرا دیکھیئے کہ رمضان اور عید کے چاند پر محکمہ موسمیات کیا کہتا ہے۔ موسم کی خبر دینے والوں کا خیال ہے کہ سترہ جون کو تو رمضان کا چاند نظر آنے کا چانس کم ہی ہے ، اس طرح انیس جون کو جمعہ کے دن پہلا روزہ ہو سکتا ہے۔ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ دونوں چاند جس دن بھی دکھیں وہ ایک ہی ہو تاکہ پوری قوم ایک دن ماہ صیام جیسا بابرکت مہینہ شروع کرے اور ایک ہی دن پوری قوم عید جیسا خوبصورت تہوار منائے اور دنیا کو نظر آئے کہ پاکستانی ایک خوبصورت لڑی میں پروئے ہوئے ہیں کاش اب کی بار ایسا ہی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…