پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

این جی اوزاہلکاروں کے سینکڑوں ویزوں میں توسیع کاانکشاف

datetime 13  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں غیرملکی این جی اوزمتعلقہ ایجنسیوں سے کلئیرنس لئے بغیر کام کے لئے مفاہمت کی یادداشتوں اورویزوں میں توسیع لے رہی ہیں ۔دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ این اجی اوزاتنی بااثرہوگئی ہیں کہ اپنے ساتھ کام کرنے والے غیرملکی شہریوں کے ویزوں میں توسیع خفیہ اداروں سے کلئیرنس لئے بغیراقتصادی امورڈویژن سے اجازت لے کروزارت داخلہ سے ایم اویوز میں بھی توسیع کرالیتی ہیں ۔دستاویزات کے مطابق یونیک لاجسٹکس کے نام کاایک مشاورتی ادارہ ان مختلف غیرملکی این جی اوز سے وابستہ افرادکوویزے دلانے کے علاوہ مفاہمت کی یادداشتوں میں توسیع کراکے دیتاہے لیکن اس عمل میں کلئیرنس سمیت کئی ضروری امورکونظراندازکردیاجاتاہے ۔اقتصادی امورڈویژن کی ایڈوائس پروزارت داخلہ نے متعدد غیرملکیوں کوویزے جاری ہوتے ہیں اوراس ضمن متعلقہ ایجنسیوں سے اجازت نہیں لی جاتی ۔دستاویزات کے مطابق وزارت داخلہ نے جن غیرملکیوں کے ویزوں میں توسیع دی ان میں Johanniterمیں کام کرنے والے مارکس شین میتھیوزاور Jens Somerfeldt کاتعلق آسٹریلیا سے ہے ۔انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن فارالیکٹورل سسٹمز کے ساتھ کام کرنے والے رومانیہ کے Pavel Cabaceno ،نیپال کی مس اجونپاستھا،لاہورمیں مقیم مس جین ایشلے بار۔مس لڈسے این نارتھ اورمس جل ٹرنورکوبغیرکلئیرنس کے ویزوں میں توسیع دی گئی ´معاملہ کی تحقیقات کرنے والے ذرائع نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ ایسالگتاہے کہ یونیک لاجسٹکس کے اقتصادی امورڈویژن اوروزار ت داخلہ میں رابطے ہیں اسی وجہ سے اسکے کلائنٹس کومجوزہ طریقہ کارسے ہٹ کرکلیئرنس مل جاتی ہے ۔اس سارے معاملے میں زیادہ تراین جی اوز اہلکاروں کی تفصیلات مشکوک پائی گئی ہیں اوران کی پڑتال کی جارہی ہے ۔ایسی این جی اوزکے خلاف سخت کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان این جی اوزکوپاکستان سے کام سمیٹنے کاکہاجائے گااوران سے وابستہ افرادکوناپسندیدہ قراردے کرپاکستان بدرکردیاجائے گا،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…