پیر‬‮ ، 12 اکتوبر‬‮ 2026 

کراچی ,ڈی جی رینجرز نے سب کی پول کھول دی،اہم شخصیات بھی زدمیں آگئیں

datetime 11  جون‬‮  2015 |

جاتی ہے، یہ رقوم سیاسی اورمذہی جماعتوں کےعسکری ونگزکو چلانے میں استعمال ہوتی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیشترجرائم کی سرپرستی کراچی کی ایک بڑی جماعت کرتی ہے، غیرقانونی کاروبار میں ایک بڑا حصہ پانی کی غیرقانونی ترسیل کا نظام ہے، پانی کی غیرقانونی ترسیل سے حاصل شدہ رقم بھی کروڑوں میں ہے، سرکاری اراضی پرقبضہ اورتعمیرات اور پرائیویٹ پراپرٹی پرقبضہ شامل ہیں، غیرقانونی شادی ہالز،غیرقانونی پارکنگ کا کاروبار دہشت گردی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، میچ فکسنگ،منی لانڈرنگ دہشت گردی کو فروغ دینےکااہم ذریعہ ہے، سائبر کرائم، فقیر مافیا اور مدارس کی بیرونی فنڈنگ بھی دہشت گردی کو فروغ دینےکااہم ذریعہ ہے جبکہ رینجرزنے سندھ کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی اور مجرمانہ کارروائیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ جاری کردی ہے۔ترجمان رینجرز کی جانب سے جاری بریفنگ میں کہا گیا ہےکہ کراچی میں غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی کروڑوں روپے ماہانہ کی رقم لیاری گینگ وار اور مختلف دھڑوں سمیت صوبے کی اعلیٰ بااثر شخصیات میں تقسیم کی جاتی ہے، غیر قانونی کاروبار میں سندھ کے با اثرافراد ملوث ہیں جب کہ سیاسی لیڈران اور بلڈرز بھی مکروں دھندوں میں ملوث ہیں۔رینجرز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی کاروبار میں ایک بڑا حصہ غیر قانونی پانی کی ترسیل کا نظام ہے جب کہ بریفنگ میں زکوٰہ اور فطرے کے نام پر جبری رقوم وصولی کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس سے حاصل شدہ رقم کا تخمینہ کروڑوں روپے سالانہ ہے جو اسلحہ خریدنے میں استعمال ہوتا ہے۔رینجرز رپورٹ کے مطابق 230 بلین سالانہ سے زائد کی رقم مختلف غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے وصول کی جاتی ہے، کھالوں سے حاصل کی گئی رقم سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مسلح گروپس کو چلانے میں استعمال ہوتی ہے اس کے علاوہ لینڈ گریپنگ اور چائنہ کٹنگ شہر میں جرائم کے پس منظر میں ایک نئی جہت ہے جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جب کہ لینڈگریپنگ مافیا میں سیاسی جماعتیں، شہری حکومت، ضلعی انتظامیہ، اسٹیٹ ایجنٹ اور پولیس اہلکار شامل ہیں اور ان میں سے بیشتر کی سربراہی کراچی کی ایک بڑی سیاسی جماعت کرتی ہے۔رینجرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ سے حاصل شدہ رقم بھی جرائم اور دہشت گردی کی فنڈنگ کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہ رقم سندھ کے سیاسی گروہوں اور وڈیروں کے لشکروں کو پالنے سمیت دیگر جرائم میں استعمال ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…