منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ملتان :بس اغوا کی جھوٹی اطلاع دینے والا مسافر گرفتار

datetime 10  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک ایس ایم ایس نے کئی اضلاع کی پولیس کی دوڑیں لگوا دیں ، فیصل آباد سے ملتان جانے والی بس کے اغواء کا ڈراپ سین ہوگیا ، جھوٹی اطلاع کے ذریعے سنسنی پھیلانے والا مسافر گرفتار کرلیا گیا۔ ڈی پی او خانیوال کا کہنا ہے نوجوان نے منصوبے کے تحت ڈرامہ رچایا۔ پولیس کو ایک پیغام موصول ہوا ، فیصل آباد سے ملتان جانے والی مسافر بس کو خانیوال کے قریب اغواء کرلیا گیا ہے جس کو اغواء کرنے والے ڈی جی خان لے جا رہے ہیں۔ اس پیغام نے میڈیا پر آتے ہی ہر طرف سنسنی پھیلا دی۔ ابتدائی اطلاع کے مطابق نجی کمپنی کی بس پر 45 افراد سوار ہیں جسے خانیوال کے قریب ٹاٹے پور میں مسلح افراد نے اغوا کیا جس پر قریبی دو تین اضلاع کی پولیس کو الرٹ کر دیا گیا اور راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ ضلعی حکام بھی ایک دوسرے سے رابطے میں آگئے یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا اور پھر اطلاع آئی بس اغوا نہیں ہوئی بلکہ ڈجکوٹ کے قریب پتھر لگنے سے اسے روک لیا گیا۔ ڈرائیور نے بھی اس بات کی تصدیق کردی کہ بس اغوا ہوئی اور نہ ہی ڈکیتی کی کوئی واردات پیش آئی۔ بس کے خانیوال پہنچنے کے بعد سارے مسافروں کے کوائف معلوم کئے گئے ، مسافروں نے بھی تمام افواہوں کی تردید کی اس تمام ڈرامے کا مرکزی کردار بس کا مسافر میاں چنوں کا رہائشی نوجوان تنویر یوسف تھا جس نے اپنی ہمشیرہ کو پیغام دیا کہ بس میں مسلح افراد چڑھ گئے ہیں جنہوں نے بے ہوشی کا سپرے کرکے بس کو اغوا کرلیا ہے اور اب ڈی جی خان کی جانب لے جا رہے ہیں۔ یہی وہ پیغام تھا جس نے تمام سنسنی پھیلائی۔ خانیوال میں پولیس نے تنویرکو حراست میں لے لیا ، ڈی پی او کے مطابق تنویر پرائز بانڈز کا کام کرتا ہے ، اس کے پاس سات لاکھ پینتالیس ہزار روپے تھے۔ انہوں نے بتایا نوجوان سے مزید تفتیش کیلئے اسے فیصل آباد پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے:دنیا کی سب سے لمبی زبان والی لڑکی جو ۔۔۔۔۔۔۔۔

یہی وہ پیغام تھا جس نے تمام سنسنی پھیلائی۔ خانیوال میں پولیس نے تنویرکو حراست میں لے لیا ، ڈی پی او کے مطابق تنویر پرائز بانڈز کا کام کرتا ہے ، اس کے پاس سات لاکھ پینتالیس ہزار روپے تھے۔ انہوں نے بتایا نوجوان سے مزید تفتیش کیلئے اسے فیصل آباد پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…