پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

شفقت حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد چوتھی بار موخر

datetime 9  جون‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کرلی گئی ہے جس کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی شب کو شفقت حسین کی سزا پر عملدرآمد ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ہے۔پیر کو شفقت حسین کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کرلی گئی۔اس مقدمے کی سماعت منگل کو چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کرے گی۔شفقت حسین کی عمر کے تنازعے کو بنیاد بناکر سزائے موت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیے جانے کے بعد شفقت حسین کی سزا پر عملدرآمد چوتھی بار موخر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کے بلیک وارنٹ جاری کیے تھے جس کے تحت 9 جون یعنی منگل کو ان کو کراچی سینٹرل جیل میں پھانسی دی جانی تھی۔امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جیل حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں شفقت حسین کی سزائے موت کے خلاف درخواست کی سماعت کی منظوری کے بعد سزا پر عملدرآمد موخر کیا گیا ہے۔جیل حکام کا کہنا تھا کہ شفقت حسین کو کراچی سینٹرل جیل میں منگل کی صبح پھانسی دی جانی تھی۔واضح رہے کہ اس سے پہلے انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج پر ان کی سزا پر عمل درآمد مؤخر کیا جاتا رہا۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ جرم کے وقت شفقت حسین خود نوعمر تھے مگر وفاقی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں جرم کے وقت ان کی کم عمری ثابت نہیں ہو سکی۔اس سے قبل شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے روک دیا تھا۔تاہم بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پھانسی کے مجرم شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔24 سالہ شفقت حسین کا نام ان 17 افراد کی ابتدائی فہرست میں شامل ہے جنھیں وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے اعلان کے بعد پھانسی دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ شفقت حسین کے کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کیونکہ ٹرائل کورٹ میں ان کی عمر کے معاملے کو نہیں اٹھایا گیا تھا اس لیے اب عدالتِ عظمٰی کسی نئے ثبوت پر غور نہیں کر سکتی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…