پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

جنرل کیانی نے سویلین سیٹ اپ کی مدد سے الیکشن میں دھاندلی کرائی، شہباز شریف اتھارٹی منوانےکیلئے طاقت استعمال ،نواز شریف دوسروں کو سنتے ہیں، چوہدری شجاعت

datetime 7  جون‬‮  2015 |

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تو نوازشریف کیلیے وکلاکی خدمات بھی حاصل کرلی تھیں اور وہ اٹک کے دورے بھی کرتے رہے جہاں نواز شریف کو رکھا گیا تھا ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2003میں سعودی عرب روانگی سے دوروز قبل نواز شریف نے انہیں (چوہدری شجاعت)، پرویزالہی اور اعجاز الحق کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے بعد سے ان کی نوازشریف سے اب تک کبھی کوئی تفصیلی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دوران حراست نواز شریف کو اٹک قلعہ میں تمام تر سہولتیں حاصل تھیں حتی کہ وہ کھانوں کیلئے اپنا مینو استعمال کرتے تھے۔ نواز شریف کی کارکردگی کے بارے میں شجاعت نے پیشنگوئی کی کہ انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں اور آئندہ عام انتخابات کے بعد وہ ریٹائرمنٹ کی جانب جارہے ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ ان کی جگہ کون لے گا؟ چوہدری شجاعت حسین نے جواب دیا کہ ان کا کوئی متبادل نہیں اور نواز شریف کے بغیر تمام ہی صفر ہیں۔ جن لوگوں نے حکمراں شریف برادران کے قریب رہ کر کام کیا، ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے رویوں میں فرق ہے۔ جب اس کی وجہ سے دریافت کی گئی تو چوہدری شجاحت حسین نے توقف کے ساتھ جواب دیا کہ شہباز شریف اپنے اختیارات کی طاقت کو استعمال کرتے اور نواز شریف دیگر کو سنتے ہیں۔ اگست2014 میں نواز شریف کے خلاف چوہدری شجاعت حسین پاکستان عوامی تحریک اور اس کے سربراہ طاہر القادری کے حامی رہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ احتجاجی دھرنا مطلوبہ مقاصد کے حصول میں کیوں ناکام رہا؟ شجاعت نے بتایا کہ انہوں نے طاہر القادری کو نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ واپس لینے اور باقی مطالبات پرزور دینے کیلئے کہا تھا لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔ ان کے مطابق اچانک طاہر القادری نے انہیں بتایا کہ انہوں نے دھرنا کی جگہ چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کیلئے انہوں نے تفصیلی مشاورت نہیں کی۔ چوہدری شجاعت حسین کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی تعلقات رہے۔ میں نے ان سے دھرنے سے قبل آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) ظہیر الاسلام کے ساتھ ان کی ملاقات کی تفصیلات دریافت کیں تو انہوں نے ملاقات ہونے سے انکار نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر قومی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ جب پوچھا گیا کہ آیا جولائی میں جنرل ظہیر الاسلام کی امریکا کے دورے سے واپسی پر ان کی لندن میں آئی ایس آئی کے سربراہ سے ملاقات ہوئی تھی؟ جسے حکمراں شریف برادران کے خلافلندن پلان کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…