منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

جنرل کیانی نے سویلین سیٹ اپ کی مدد سے الیکشن میں دھاندلی کرائی، شہباز شریف اتھارٹی منوانےکیلئے طاقت استعمال ،نواز شریف دوسروں کو سنتے ہیں، چوہدری شجاعت

datetime 7  جون‬‮  2015 |

چوہدری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ میں یہ بات نہیں جانتا لیکن میں جانتا ہوں کہ کیانی خفیہ طور پر شریف سے ملے ہوئے تھے اور انہوں نے آرمی چیف کی حیثیت سے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔ میں نے چوہدری شجاعت سے ایک اور سوال کیاکہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ فوج اس دھاندلی میں ملوث تھی۔ چوہدری شجاعت حسین نے اس پر نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کیلیے کیانی نے سول سیٹ اپ کو استعمال کیا تھا۔میں نے ایک اور سوال پوچھا کہ آیا وہ چاہتے ہیں کہ عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والا کمیشن جنرل کیا نی اور ان کے آئی ایس آئی کے چیف جنرل ظہیر الاسلام سے پوچھ گچھ کرتے ہیں انہوں نے ایک ہوشیار سیاستدان کی طرح اس سوا ل کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے اپنا مشہور جملہ دہرایا مٹی پائو۔2008کے عام انتخاب کے نتائج کے حوالے سے چوہدری شجاعت کبھی جنرل مشرف پر تنقید کرتے تھے لیکن حال ہی میں جب دونوں ملے تو دونوں کے اختلافات ختم ہوگئے۔ جنرل پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ کے دھڑے کے سربراہ ہیں اور چوہدری شجاعت ایک سینئر سیاستدان کی حیثیت سے مسلم لیگوں کے اتحاد کیلیے مصروف عمل ہیں ۔ چوہدری شجاعت نے مسکراتے ہوئے کہا کہ نہ صرف مشرف بلکہ دیگر کئی لوگ بھی اس حوالے سے قائل ہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ 2008کے عام انتخابات میں تو وہ اس حوالے سے کچھ نہیں بولے لیکن2013کے انتخابات کے حوالے سے انکشافات کیے ہیںمیں نے ان کی توجہ اس امرکی جانب بھی مبذول کرائی کہ سول ملٹری عدم توازن فوج کے حق میں ہے تو شجاعت نے کہا کہ فوج کو ملک میں اپنا کردار جاری رکھنا ہوگاچنانچہ اس کیلیے ایک آئینی کردار بھی ہونا چاہئے۔چوہدری شجاعت حسین اور ان کی ق لیگ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور طرفداری کیلیے معروف رہی ہیں۔ سیاسی پس منظر کے باوجود ان کا خیال ہے کہ ملک کے داخلی معاملات میں فوج کا کردار ہونا چاہئے۔چوہدری شجاعت 80اور 90کی دہائی میں نواز شریف کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے اس وقت کہ فیصلہ کیوں کیا کہ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دینا چاہئے جب 1999کی فوجی بغاوت کے بعد انہیں گرفتار ی کا سامنا تھا توشجاعت نے بڑی شائستگی کے ساتھ اپنے ردعمل میں کہا کہ نواز شریف کو چوہدریوں نے نہیں چھوڑا بلکہ خود نوازشریف نے انہیں چھوڑا ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…