پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں،سپریم کورٹ

datetime 4  جون‬‮  2015 |

عدلیہ نے فوجی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ مارشل لاء جنرل اعظم نے خود لگایا ۔ حامد خان نے کہا کہ سول حکومت نے انتظامیہ کے ذریعے فوج سے مدد کی درخواست کی تھی ۔ چیف جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ مارشل لاء بھی مشاورت سے لگایا گیا ۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ 1953 میں فوجی عدالتیں نظریہ ضرورت کے تحت بنائی گئیں ۔ 1953 میں ایک غلطی کی درستگی کے لئے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں اگر دہشت گردی 200 سال جاری رہے تو کیا فوجی عدالتیں بھی اتنے عرصے تک قائم کرتی رہیں گی اور اس کا کیا جواز ہے ؟ حامد خان نے دنیا بھر میں مارشل لاء لگانے اور اس بارے تاریخ بیان کی ۔ بعض مارشل لاﺅں کو تحفظ دینے کی بھی کوشش کی گئی ۔ بھارتی سپریم کورٹ فیصلے کا بھی حوالہ دیا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مارشل لاء اچھا ہے یا برا ۔ مارشل لاءتو مارشل لاءہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مارشل لاءکی کوئی ( وضاحت ) نہیں ہے چاہے وہ مکمل ہو یا ادھورا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے مارشل لاﺅں میں عدلیہ کو شامل نہیں رکھا گیا مگر 21 ویں ترمیم میں عدلیہ کو ساتھ رکھ کر گیپ پر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ حامد خان نے کہا کہ کوشش کی گئی کہ موجودہ آئین کے تحت مارشل لاء نہ لگایا جا سکے ۔ مارشل لاء کی وضاحت نظریہ ضرورت کے تحت بھی نہیں کی جا سکتی ۔ ہر مقدمے کے اپنے حالات ہوتے ہیں ۔ انہوں نے جسٹس کرم الہیٰ چوہان کے فیصلے بھی پڑھ کر سنایا ۔ جس میں کہا گیا کہ تمام تر معاملات کا فیصلے آئین و قانون کے مطابق ہو گا اور کوئی بھی معاملہ عدالت کے دائر کار سے باہر نہیں ہو گا ۔سول کورٹس کی طرح سے سپیشل ٹریبونلز قائم کئے جا سکتے ہیں ۔ صرف آرٹیکل 245 کے تحت ہی سول اداروں کی مدد کے لئے فوج کو وفاقی حکومت طلب کر سکتی ہے اور جہاں مسئلہ ہے وہیں پر فوج کام کرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…