اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ

datetime 3  جون‬‮  2015 |

20ستمبر 1972ءمیں لیاقت باغ میں فیصلے کئے گئے بھٹو پر فائر کیا گیا وہ روس گئے کہ بھارت کو روکا جاسکے اور بتایا کہ پاکستان کی یہ صورتحال ہے آئین کہہ رہا تھا کہ بنگلہ دیش الگ سے ملک ہوگا رپورٹ میں 2000 ترامیم کیں اور اس پر باہمی اتفاق کیا گیا اس دوران اپوزیشن نے اہم کردار ادا کیا آپ والیم دیکھ سکتے ہیں ۔23مارچ 1973ءکو عوامی پارٹی نے لیاقت باغ میں اجلاس منعقد کیا وہاں بدقسمت واقع پیش آیا اور کئی لوگ مارے گئے ہاﺅس ڈیڈ ہوکر رہ گیا ہر کلاز اور آرٹیکل کی تبدیلی کے لئے ہاتھ اٹھا کر قراردادیں پیش کی گئیں 71 ممبران باقی رہ گئے تھے الگ سے 200ترامیم کی گئیں اور اپوزیشن کا انتظار کیا گیا بدقسمتی سے ہم سات افراد نے کام کیا اصل میں اکیس اپریل 1973ءکو آئین بن چکا تھا ٹکا خان نے کہا کہ جلد سے جلد آئین منظور کیا جائے اپوزیشن تو موجود ہی نہ تھی ہمارے پاس بلوچستان سے کوئی نمائندہ تک نہ تھا ۔ مولانا عبدالعزیز کو لورا لائی سے بلایا گیا مفتی محمود کو بلایا گیا مولانا عبدالعزیز نہیں پئے میں نے کہا کہ اگر یہ ترامیم منظور کریں تو کیا آپ ووٹنگ میں حصہ لیں گے تو حاصل بزنجو ، پروفیسر غفور احمد سمیت چار افراد نے 13 ویں ترمیم منظور کی سپیکر کے لیے تالیاں بجائی گئیں تمام اپوزیشن نے بھی ووٹ دیا دو کلاس رولز آئین کو ختم نہ کراسکے یہ کمپرومائز ڈاکومنٹ کیخلاف رہا بھٹو بھی اس میں تبدیلیاں لائے آپ لوگوں کی خواہشات کا جائزہ لے سکتے ہیں تمام تر اختیارات پارلیمنٹ کو دیئے گئے آرٹیکل 63 جمہوریت کے لئے لازم قرار دیا گیا پارلیمنٹ کو مکمل اختیار نہ دیں یہ عوامی خواہش ہے کہ آپ اپنا اختیار استعمال کریں ۔ وکلاءمجاز کیس میں ترمیم سامنے لائیں ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت تمام تر اختیارات پارٹی ہیڈز کو دے دی گئی اور وہ پارلیمنٹ کا ممبر نہ ہونے کے باوجود بھی بااختیار تھے اور باہر بیٹھ کر اسمبلی چلا رہے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…