بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ

datetime 3  جون‬‮  2015 |

بھٹو اور مجیب الرحمان نے آپس میں ملاقات نہ کی ۔ یہ ہمین اچھا موقع ملا تھا اور ہم فیصلہ کرتے مرزا ابراہیم نے ڈاکٹر مبشر کو 85 ہزار ووٹ حاصل کئے ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کو بھٹو نے لاہور میں شکست دی ہے ۔ اے رحیم سے کہا گیا کہ آپ بنگالی نہیں بول سکتے جس سے ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔ بھٹو نے دو شرائط پیش کیں کہ تمام آئین ختم کر دیا جائے اور 120 دنوں میں دوبارہ سے تیار کیا جائے ۔ مجیب الرحمان نے اس کو قبول نہ کیا ۔ اجلاس طلب کیا گیا مشرقی فورس نے دفاع کرنے سے انکار کر دیا اور مسلح افواج کو مداخلت کرنا پڑی ۔ بنگلہ دیش کا پرچم بنایا گیا ۔ عوامی لیگ کی آخری پوزیشن بتائی گئی ہے مشرقی پاکستان کی اپنی روایات ہیں اور آپ کی اپنی آپ اپنی مرضی کریں ہم اپنی کرینگے ۔26 مارچ 1971ءکو قوم نے ڈھاکہ میںذمہ داریاں سنبھالیں اور ڈھاکہ سقوط پیش آیا ۔ جنرل یحییٰ خان نے خود کو صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین دے دیا جنرل حمید اس وقت آرمی چیف تھے بھٹو کو سمن جاری کئے گئے اور جنرل یحییٰ خان سے اختیار لے کر بھٹو کو چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا گیا ہم نے راولپنڈی میں بھٹو سے ملاقات کی جنرل یحییٰ خان نے نیشنل عوامی پارٹی اور عوامی لیگ سے پابندی اٹھالی اور پہلا سیاسی فیصلہ کیا ۔ خان ولی خان کو بلایا گیا یہ سب ہوا مارچ 1971ءمیں مذاکرات کئے گئے پی پی نیب اور جے یو آئی (ف) سے ملاقات ہوئی 1971ءمیں مارشل لاء جاری رکھنے کی بات کی گئی خان ولی خان ، مولوی محمود الحسن اور دیگر اس اجلاس میں شریک ہوئے ریاست پاکستان کو انٹرم آئین نے محفوظ کیا قومی اسمبلی نے اجتماعی قرارداد پاس کی کہ مارشل لاءجاری رہے گا 1935ء کا آئین متعدد ضروریات پوری نہیں کرتا تھا آئینی کمیٹی بنائی گئی عوامی لیگ سے کہا گیا کہ ہم آپ کوجغرافیائی بنیادوں پر ڈیل کررہے ہیں ہم نے سخت محنت کی اور مشترکہ مفادات کونسل قائم کی اقلیتی صوبوں نے زیادہ اختیارات مانگے یہ کونسل موثر طور پر کام نہ کرسکی ہاﺅس نے آئینی کمیٹی 1971ءمیں منتخب کی گئی میاں محمود علی قصوری اس کے چیئرمین تھے میں بھی اس کا ممبر تھا کمیٹی میں ڈیڈ لاک کی وجہ سے مسائل حل نہ ہوئے قصوری نے استعفیٰ دیا اور مجھے وزیر قانون بنایا گیا بعد میں کمیٹی کا چیئرمین بھی بنایا گیا ڈرافٹ بل 23دسمبر 1971ءکو بنایا گیا بھارتی دباﺅ بھی ساتھ ساتھ تھا 80ہزار قیدی تھے تین ہزار افسران ہم سے ہزارں میل دور بیٹھے تھے اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ بنگلہ دیش بنانے کی اجازت دی جائے ۔ بڑی کوششیں کی گئیں



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…