منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ

datetime 3  جون‬‮  2015 |

پیرزادہ نے کہا کہ میں اس سے اختلاف کرتا ہوں ۔ آرٹیکل 8 میں دیئے گئے حقوق یہ کہتے ہیں کہ دونوں ترامیم میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ عام قانون بھی اکثریتی رائے ہے یہ بھی قانون سازی ہی ہے ۔ اس لئے ان میں کیا فرق ہو سکتا ہے ۔ بنیادی آئینی ڈھانچے کی تشریح کرتے ہوئے کہوں گا کہ یہ بنیادی فیچر ہے ہمارے پاس بنیادی ڈھانچہ موجود ہے ۔ بھارت ایک مختلف ملک ہے اس کی آبادی زیادہ ہے ان کے اپنے معاملات ہیں ہمارے اپنے مسائل ہیں ۔ (جسٹس آصف نے کہا کہ بھارت نے بھی حال ہی میں ججز کے تقرر کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے ایک ترمیم کی ہے ۔ وہاں بھی یہ استعمال ہو گیا ہے اور اس کو چیلنج بھی کر دیا گیا ہے ۔ حکومت آئینی بنیادی ڈھانچہ کے ازسر نو تشریح کے لئے سامنے آئی ہے ۔ ) پیرزادہ نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی رپورٹ جو لیاقت علی خان کے دور میں دی گئی تھی جس کو بنگالی اور پنجاب دونوں نے بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ آئین میں اصولوں کی بنیاد پر قائم ہو گا یہ رپورٹ اس بارے تھی ۔ 3 کمیٹیاں قائم کی گئیں جنہوں نے اس پر رائے دینا تھی ۔ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی بارے بات کی گئی ۔ لیاقت علی خان نے کہا کہ آئین ساز اسمبلی آئین بنانے میں تاخیر کر رہی ہے کئی کمیٹیاں بنائی گئیں ۔ تاخیر کی خیر ہے مگر آئین صحیح ہونا چاہئے ۔ا سی وجہ سے مشرقی پاکستان کا سانحہ ہوا ۔ حالانکہ دونوں اطراف برابر اختیارات ہونا چاہئے تھے ۔ بنگالی رہنماﺅں نے اس پر بیانات دیئے اور کہا کہ صوبائی حکومت کے اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جواب میں کہا گیا کہ آپ کی اکثریت کو اقلیت میں نہیں بدلا جائے گا اور آبادی کے مطابق مرکزی حکومت کے قیام پر ور دیا گیا تھا اور اس حوالے سے قرار داد لاہور لائی گئی ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…