منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

آ ئین میں تر میم کر کے سیاسی جماعتوں کو مسلح جتھے قائم کرنے کی اجازت دی گئی، سپریم کورٹ

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اے کے ڈوگر نے کہا کہ آربیٹریری نامزدگی بغیر کسی نظام کے انتخاب کی ایک شکل ہے جو کہ غیر قانونی غیر آئینی کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی بھی ہے ۔ انہوں نے 2005 کے ایک مقدمے کا حوالہ بھی دیا ۔ ملازمین کے انتخاب میں چناﺅ کی پالیسی اور مستقل کرنے کا معاملہ آرٹیکل 2 اے کا کردار رکھا گیا ہے ۔ ریاست پاکستان میں تمام لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھ کر مساویانہ پالیسی پر عمل کرنا ہوگا ۔ موجودہ پالیسی پک اینڈ چوز ( ذاتی پسند ) کی ہے ۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مجھے کہا تھا کہ آپ جج بنانے کے لئے نام بتائیں کہ جن کی عمر 50 سال سے زائد ہو ۔ میں نے کہا کہ میں کیا نام بتاﺅں ۔ یہ تو پک اینڈ چوز ہے ۔ یہ نظام ذاتی پسند اور اقرباءپروری کی مثال ہے ۔ تمام وکلاء جو 10 سال بطور وکیل ہائی کورٹ پریکٹس کر چکے ہیں انہیں برابری کی سطح پر ججز کے لئے نامزد ہونا چاہئے اور یہ ان کا حق ہے ۔ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی اقدام جو آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے ۔ ہو آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ آرٹیکل 4 کے تحت تمام شہریوں پر مساویانہ انداز میں آئین و قانون لوگو کیا جائے گا ۔ این آر او کو امتیازی قرار دیا گیا اس لئے اس میں امتیازی سلوک رویہ رکھا گیا ۔ اگر ملک کے اندر 10 سے 20 ہزار وکلاء کا یہ حق ہے کہ ان کے درمیان کوئی فرق تھوڑی ہے سینئر جونیئر ضرور ہیں ان کو برابر یہ حق ہے کہ ان کو بھی جج کے لئے نامزد کیا جائے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جج کی جو حقیقت ہے وہ بہت باوقار ہے آپ چپ رہیں کہ کسی کا حق نہیں جس کے سر پر ہما بیٹھ گیا وہی جج بن گیا ۔ ایک کلیم اور حق میں فرق ہے ۔ مجھے بھی اپنی قوم کی بطور جج خدمت کا حق ہے یہ میرا کلیم نہیں ہے ۔ چیف جسٹس صاحبان اگر ہزاروں وکلاءکو سرے سے جائزہ ہی نہیں لیتے وہ قانون کی خلاف ورزی ہے جو اب بھی ہیں وہ قانون سے ہٹ کر کر رہے ہیں ۔ جسٹس اعجاز چودھری نے کہاکہ آپ نے بڑی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی ۔ ا



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…