پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آ ئین میں تر میم کر کے سیاسی جماعتوں کو مسلح جتھے قائم کرنے کی اجازت دی گئی، سپریم کورٹ

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اے کے ڈوگر نے کہا کہ آربیٹریری نامزدگی بغیر کسی نظام کے انتخاب کی ایک شکل ہے جو کہ غیر قانونی غیر آئینی کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی بھی ہے ۔ انہوں نے 2005 کے ایک مقدمے کا حوالہ بھی دیا ۔ ملازمین کے انتخاب میں چناﺅ کی پالیسی اور مستقل کرنے کا معاملہ آرٹیکل 2 اے کا کردار رکھا گیا ہے ۔ ریاست پاکستان میں تمام لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھ کر مساویانہ پالیسی پر عمل کرنا ہوگا ۔ موجودہ پالیسی پک اینڈ چوز ( ذاتی پسند ) کی ہے ۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مجھے کہا تھا کہ آپ جج بنانے کے لئے نام بتائیں کہ جن کی عمر 50 سال سے زائد ہو ۔ میں نے کہا کہ میں کیا نام بتاﺅں ۔ یہ تو پک اینڈ چوز ہے ۔ یہ نظام ذاتی پسند اور اقرباءپروری کی مثال ہے ۔ تمام وکلاء جو 10 سال بطور وکیل ہائی کورٹ پریکٹس کر چکے ہیں انہیں برابری کی سطح پر ججز کے لئے نامزد ہونا چاہئے اور یہ ان کا حق ہے ۔ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی اقدام جو آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے ۔ ہو آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ آرٹیکل 4 کے تحت تمام شہریوں پر مساویانہ انداز میں آئین و قانون لوگو کیا جائے گا ۔ این آر او کو امتیازی قرار دیا گیا اس لئے اس میں امتیازی سلوک رویہ رکھا گیا ۔ اگر ملک کے اندر 10 سے 20 ہزار وکلاء کا یہ حق ہے کہ ان کے درمیان کوئی فرق تھوڑی ہے سینئر جونیئر ضرور ہیں ان کو برابر یہ حق ہے کہ ان کو بھی جج کے لئے نامزد کیا جائے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جج کی جو حقیقت ہے وہ بہت باوقار ہے آپ چپ رہیں کہ کسی کا حق نہیں جس کے سر پر ہما بیٹھ گیا وہی جج بن گیا ۔ ایک کلیم اور حق میں فرق ہے ۔ مجھے بھی اپنی قوم کی بطور جج خدمت کا حق ہے یہ میرا کلیم نہیں ہے ۔ چیف جسٹس صاحبان اگر ہزاروں وکلاءکو سرے سے جائزہ ہی نہیں لیتے وہ قانون کی خلاف ورزی ہے جو اب بھی ہیں وہ قانون سے ہٹ کر کر رہے ہیں ۔ جسٹس اعجاز چودھری نے کہاکہ آپ نے بڑی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی ۔ ا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…