اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

آ ئین میں تر میم کر کے سیاسی جماعتوں کو مسلح جتھے قائم کرنے کی اجازت دی گئی، سپریم کورٹ

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

چاہئے جب ایک شخص کے پاس زیادہ دیر اختیار رہیں گے تو یہ اختیارات بدعنوانی کے لئے استعمال ہوں گے ۔ اداروں کا ہے پیام اور میرا اور اور ۔ کے درمندوں کا پیام ہے اور ۔ انہوں نے آرٹیکل 175 اے پر بھی دلائل دیئے ۔ جوڈیش کمیشن میں ججز کے تقرر میں ایک شخص کو ناموں کے انتخاب کی اجازت دی گئی ہے جوڈیشل کمیشں پر میرے سنجیدہ قسم کے تحفظات ہیں ایک شخص چیف جسٹس کس طرح سے یہ سب نامون کا انتخاب کر سکتا ہے جو ناموں کا انتخاب کرتا ہے جن کو جوڈیشل کمیشن کے بعد منظوری کے لئے پارلیمانی کمیشن کو ارسال کر دیا جاتا ہے ۔ فیڈرل شریعت کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججز کی خالی آسامیوں پر چیف جسٹس صاحبان ہیں جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین کو یہ نام لکھ کر بھیج دیتاہے اور نامزدگی کی سفارش کرتا ہے ۔ مجھے اس لئے جج نہیں بنایا گیا چونکہ میرا تعلق ایک عام خاندان اور غریب خاندان سے تھا ۔ میں یہ مثال دے رہا ہوں ہزاروں وکلاء موجود ہیں کوئی بھی ان کے ناموں کو پیش نہیں کرتا کیونکہ یہ طریقہ کار نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 176 کی سب سیکشن 8 کے خلاف ہیں یا رولز کے بھی خلاف ہیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آپ نے تجویز کیا تھا کہ پہلے درخواستیں مانگی جائیں پھر ان کا امتحان کے بعد انتخاب ہونا چاہئے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ انگلستان میں جج کیسے بناتے ہیں ۔ لارڈ چانسلر پورے انگلستان سے ججز کی خالی نشستوں کے حوالے سے درخواستیں مانگتا ہے ۔ اس میں سیاستدان ، وکلا اور پروفیسرز تک شامل ہیں اور یہ 900 سال سے چلا آ رہا ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ 900 سال سے نہیں 2005 میں یہ قانون بنا ہے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ صرف چیف جسٹس کو ہی نامزدگی کا اختیار کیوں ۔ سب وکلاءکا یہ بنیادی حق ہے آرٹیکل (3 ) 192 اے کے تحت وہ وکالت کی پریکٹس کرتے ہیں ۔ 10 سال تک وہ ہائی کورٹ کے وکیل بنتے ہیں تب وہ ہائی کورٹ کے ججز بن سکتے ہیں ۔ آرٹیکل 175 اے کو اس آرٹیکل کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے ، 2 اے کو بھی ملایا جائے ۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ایلیٹ کلب ہے اور چیف جسٹس اپنی مرضی کا ججز نامزد کرتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…