پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آ ئین میں تر میم کر کے سیاسی جماعتوں کو مسلح جتھے قائم کرنے کی اجازت دی گئی، سپریم کورٹ

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اے کے ڈوگر نے کہا کہ اسلام پسند ناپسند کے خلاف ہے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جج کے تقرر کا اسلام میں کیا طریقہ کار ہے جسٹس جواد نے کہا کہ روایات سے بھی کوئی چیز اخذ ہو جاتی ہے آپﷺ کے خطوط سے بھی مدد لی جا سکتی ہے آداب ثانی بھی دیکھے جا سکتے ہیں شاہد اس میں موجود چیزیں نہیں آ سکتی ہیں وکیل کہاں سے آئے ہیں اسلام کے مطابق معاملہ قاضی کے روبرو پیش کیا جاتا ہے وہاں وکیل پیش نہیں ہوتے وہ سن کر فیصلہ کر دیتے ہیں یہ نہیں ایک طرف ایک وکیل اور دوسری طرف دوسرا وکیل کھڑا ہو اور دلئال دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک اردو میں فیصلہ تحریر کیا ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ وکیلوں کی مدد کے بغیر اچھا فیصلہ آیا۔ اے کے ڈوگرنے کہا کہ عبداللہ خان کیس میں جج کو حقائق کے مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دینا چاہئے وہاں وکیل مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اسلام میں وکیل کی نہیں مفتی کی ضرورت ہے قاضی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ ان سے مشاورت کر سکتے ہیں۔ دارالمفتاح سے رابطہ کیا جا سکتا ہے جسٹس اعجاز چوہدری نے وکلاءکا سات سات دنوں تک گواہوں پر جرح کرنا اسلامی نہیں ججز کو جرح کا اختیار ہے اس نظام میں یہی تو خرابی ہے سول مقدمات میں 40‘ 40 سال لگ جاتے ہیں اے کے ڈوگر نے کہا کہ پسند ناپسند کا نظام ختم ہونا چاہئے۔ جسٹس اعجاز چوہدری نے کہا کہ اگر ججز کو مقرر کرتے ہوئے ذاتی پسند ناپسند کو اپنائے گا تو یہ غلط ہو گا۔ ڈوگر نے کہا کہ نظام بدلنا چاہئے کئی پڑھے لکھے لوگ آج بھی ججز بننے سے محروم ہیں کیونکہ نظام نہیں ہے۔ اصل میں ہم غلامانہ ذہنیت رکھتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…