منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی کے اچانک فیصلے نے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) لاڑکانہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے نوجوان رکن سندھ اسمبلی سہیل انور سیال کو نہ صرف صوبائی وزیر بنا دیا گیا ہے بلکہ انہیں محکمہ داخلہ اور محکمہ جیل خانہ جات جیسے اہم قلمدان بھی سونپ دیئے گئے ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اچانک اس فیصلے نے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے ۔ سندھ میں محکمہ داخلہ کا قلمدان لینے کے لےے پیپلز پارٹی کا کوئی رہنما تیار نہیں تھا کیونکہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور منظور حسین وسان جیسے سینئر سیاست دانوں نے بھی وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تو اس عہدے کی وجہ سے اپنا سیاسی کیریئر بھی خطرے میں ڈال چکے ہیں جبکہ منظور وسان بمشکل اپنی سیاسی حیثیت کو بچا سکے ہیں ۔ سہیل انور سیال کی صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف برداری کی تقریب جمعرات کو گورنر ہاو س سندھ میں منعقد ہوئی۔ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ان سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن، وزیرخزانہ مراد علی شاہ اور اینٹی کرپشن کے وزیر منظوروسان سمیت پیپلزپارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی بھی شریک ہوئے۔ سندھ کی وزارت داخلہ کا عہدہ 2012ءسے خالی تھا اور یہ قلمدان وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس تھا ۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سہیل انور سیال کا تعلق لاڑکانہ کی تحصیل باکرانی سے ہے ۔پیشے کے لحاظ سے وہ زمیندار ہیں۔سہیل انور سیال نے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ ساتھی انور علی خان سیال کے صاحب زادے ہیں ۔ سہیل انور سیال نے نوجوانی کے دنوں میں عملی سیاست کا آغاز کیا ۔وہ پاکستان پیپلزپارٹی ضلع لاڑکانہ کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے ۔سہیل انور سیال کے چچا غلام سرور خان سیال بھی 2008 والی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں ۔ سیال برادری کے لوگوں کو ہمیشہ انڑ برادری کی طرف سے سیاسی مخالفت کا سامنا رہا ۔ صرف ایک مرتبہ ان کے چچا غلام سرور سیال 2008ءمیں رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔ باقی تمام انتخابات میں سیال برادری کو شکست ہوئی ۔ سہیل انور سیال پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے انتہائی معتمد ساتھی تصور کےے جاتے ہیں ۔ انہیں سندھ میںیہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ 2013ءکے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے الطاف حسین انڑ کو ٹکٹ دیا تھا لیکن بعد ازاں یہ ٹکٹ واپس لے لیاگیا تھا لیکن الطاف حسین انڑ کو پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان تیر الاٹ ہو چکا تھا اور وہ اسی انتخابی نشان پر کامیاب ہوئے تھے ۔ بعد ازاں انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا ۔ ان کی خالی نشست پر ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سہیل انور سیال کامیاب ہوئے تھے ۔ حکومت سندھ نے انہیں داخلہ اور جیل خانہ جات کے قلمدان سونپنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ کے وزیر خزانہ و توانائی سید مراد علی شاہ کو محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کا اضافی قلمدان بھی دے دیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…