منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کا قیام عدلیہ کی نہیں حکومت‘ انتظامیہ اور سول اداروں کی ناکامی ہے،سپریم کورٹ

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

دہشت گردی کے معاملے کو فرنٹ پر فیس نہیں کیا جا رہا ہے آئین کو ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔ آپ کہتے ہیں لوگ بہت خوش ہیں اگر ہم انصاف کی بات کرتے ہیں تو ہمیں کھلی انکھوں سے دیکھنا ہو گا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے تحت حکومت فوج کو بلا سکتی ہے اور انسانیت کے دشمنوں کو مار سکتی ہے مسلح افواج کا تذکرہ 245 میں ہے آپ یہ کیوں طے کر رہے ہیں کہ فوج آپ کے نئے اقدامات سے خوش ہے انتظامی اختیارات ناکام ہیں سوات میں ناکامی ہوئی ہے۔ وفاق کو جن علاقوں میں اختیار ہے عدالتوں کو نہیں دیا گیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں آئین استعمال ہو رہا ہے آپ فوج پر کیوں مزید بوجھ ڈالے ہوئے ہیں انہیں ریاست کے معاملات نمٹانا ہیں آپ ان کو ان معاملات میں کیوں چلا رہے ہیں گوانتانا موبے میں کیا ہوا۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ یہ کس طرح کا ظلم ہے آخر یہ کیوں ہو رہا ہے۔ یہ علاقہ غیر محفوظ ہو کر رہ گیا ہے وہ خود فوج سے کام لے رہے ہیں اور امریکہ خود کو سویلین ملک بھی قرار دیتا ہے کیوں فوجی جج نہیں کہ دنیا کے وہ سویلین کو سزا نہیں دے سکتا وہ صرف آرٹیکل 245 کے تحت ہی کام کرنا کا پابند ہے۔ جسٹس انور ظہیر نے کہا کہ 21ویں ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتیں آرٹیکل 10 اے اور آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ خالد انور نے کہا کہ آرٹیکل 10 اے معطل ہے جسٹس آصف نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انصاف کرنا دو سالوں کے لئے بند کر دیا جائے۔ خالد انور نے کہا کہ ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے جتنی بھی آپ گفتگو کر رہے ہیں ان حالات کے برعکس



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…