صولت علی خان جنھیں صولت مرزا کے نام سے جانا جاتا ہے، ایم کیو ایم کے کارکن تھے جنھیں 1999 میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے 1997 میں اس دور کے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ایم ڈی شاہد حامد، ان کے ڈرائیور اور ایک محافظ کو قتل کرنے پر سزائے موت سنائی تھی۔واضح رہے کہ صولت مرزا 1998 میں تھائی لینڈ فرار ہوگئے تھے تاہم والدہ کی برسی میں شرکت کے لیے آنے کے دو ہفتے بعد انہیں چوہدری اسلم نے گرفتار کیا تھا۔سیکیورٹی کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے صولت مرزا کو اپریل 2014 میں بلوچستان کی مچھ جیل منتقل کیا گیا تھا۔ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ صولت مرزا کو قتل سے قبل پارٹی سے برطرف کیا جاچکا تھا جبکہ صولت مرزا کی جانب سے پارٹی کے دعویٰ کی تردید کی گئی۔ملک میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کی سزا پر عملدرآمد کا آغاز ایک طویل وقفے کے بعد کیا گیا اور اب تک 100 سے زائد مجرموں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔سزائے موت پرعملدرآمد کا فیصلہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان دہشت گردوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 144 افراد کی ہلاکت کے بعد شروع کیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں 8 ہزار سے زائد افراد سزائے موت کے منتظر ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
سعودی عرب جانے والے افراد کیلئے خوشخبری
-
تیل کی قیمت میں 26 سالوں میں سب سے بڑی کمی
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
تمھارے لیے کماتا ہوں، میری خواہش پوری کرو؛ بہو نے ناجائز مطالبے پر سسر کوہلاک کردیا
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں گرنے لگیں



















































