ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

جوڈیشل کمیشن ،تحریک انصاف کے 5 مزید گواہ 11 مئی کو جرح کے لئے طلب

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

اس میں اضافی بیلٹ پیپرز بھی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کا جواب نہیں پڑھا۔ پیرزادہ نے کہا کہ الیکشن کمیسن کہتا ہے کہ ہم نے تو صرف 34 بندے مانگے تھے اور آپ کہہ رہے ہیں 100 سے 200 بندے مانگے تھے۔ 78 افراد کی بات بھی کی ہے یہ ان کے بیانات میں تضاد ہے۔ کمیسن نے کہا کہ گواہ الیکشن کمیشن کا جواب نہیں دے سکتے۔ پیرزادہ نے کہا کہ وہ سوال واپس لیتے ہیں۔ کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ جرح مکمل ہونے کے بعد بھی اگر آپ محسوس کریں کہ ابھی بھی گواہوں کی ضرورت ہے ان کو بلا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ریکارڈ دیکھ کر اس کے اصلی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلےہ کرے گا اس کے لئے آپ کو درخواست دینا ہو گی کہ وہ گواہوں پر مزید جرح کرنا چاہتے ہیں۔ گواہ نے بتایا کہ ریٹرننگ افسران وردی میں نہ تھے۔ ایک کیس میں ریٹرننگ آفیسر نے 3 اضافی پیپرز جبکہ ایک نے 30 فیصد اضافی پیرز مانگے تھے۔ یہ درست ہے۔ یہ درخواست ایک بار ہی کی گئی۔ یہ اصافی بیلٹ پیپرز رجسٹرڈ ووٹوں کے 30 فیصد تھے۔ میں نے اضافی پیرز مانگنے بارے ریٹرننگ آفیسر سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز اصافی دینے بارے رحم دلی کا مظاہرہ کرنے کو کہا تھا اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے باقاعدہ ایک فارمولا دے رکھا تھا اور یہ مجھے بتایا گیا تھا جو میں نے آر اوز کو بتایا تھا۔ تمام تر ہدایات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سب کے ساتھ یکساں سلوک کا حکم دے رکھا تھا۔ 7 مئی کے بعد راﺅ افتخار سے کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کال کی تھی۔ انتخابات ہونے کے بعد وہ الیکشن کمیشن اسلام آباد آئے تھے اور یہ آنا جانا لگا رہا۔ الیکشن کمیسن نے کبھی بھی دفعہ 103 ڈبل اے بارے نہیں بلایا اور انہوں نے انتخابات سے متعلق ایک بھی شکایت موصول نہیں کی۔ 103 ڈیل اے کی سماعت میں انہیں کبھی بھی طلب نہیں کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر 48 گھنٹوں تک پابندی رہی۔ انتخابات مکمل ہونے کے بعد اس سرگرمی پر پابندی نہیں رہی تھی۔ جب تک پراسس مکمل نہیں ہو گیا اور نتائج غیر سرکاری طور پر مرتب نہیں ہو گئے یہ پابندی برقرار رہی۔ پیرزادہ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سپیکر ایاز صادق کے حلقے میں گئے تھے اس بارے معلومات ہیں۔ تو اس پر گواہ نے کہا کہ ان کو اس بارے معلومات نہیں ہیں۔ پیرزادہ نے کہا کہ نواز شریف نے اس رات تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ انتخابات جیت چکے ہیں کیا آپ کو علم ہے۔ اس پر گواہ نے کہا کہ انہون نے ٹیلی ویژن پر تقریر نہیں دیکھی تھی۔ پیرزادہ نے کہا کہ وہ جرح یہاں روک رہے ہیں ڈاکومنٹس کے جائزے کے بعد ہی اس بارے بات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…