اس میں اضافی بیلٹ پیپرز بھی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کا جواب نہیں پڑھا۔ پیرزادہ نے کہا کہ الیکشن کمیسن کہتا ہے کہ ہم نے تو صرف 34 بندے مانگے تھے اور آپ کہہ رہے ہیں 100 سے 200 بندے مانگے تھے۔ 78 افراد کی بات بھی کی ہے یہ ان کے بیانات میں تضاد ہے۔ کمیسن نے کہا کہ گواہ الیکشن کمیشن کا جواب نہیں دے سکتے۔ پیرزادہ نے کہا کہ وہ سوال واپس لیتے ہیں۔ کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ جرح مکمل ہونے کے بعد بھی اگر آپ محسوس کریں کہ ابھی بھی گواہوں کی ضرورت ہے ان کو بلا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ریکارڈ دیکھ کر اس کے اصلی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلےہ کرے گا اس کے لئے آپ کو درخواست دینا ہو گی کہ وہ گواہوں پر مزید جرح کرنا چاہتے ہیں۔ گواہ نے بتایا کہ ریٹرننگ افسران وردی میں نہ تھے۔ ایک کیس میں ریٹرننگ آفیسر نے 3 اضافی پیپرز جبکہ ایک نے 30 فیصد اضافی پیرز مانگے تھے۔ یہ درست ہے۔ یہ درخواست ایک بار ہی کی گئی۔ یہ اصافی بیلٹ پیپرز رجسٹرڈ ووٹوں کے 30 فیصد تھے۔ میں نے اضافی پیرز مانگنے بارے ریٹرننگ آفیسر سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز اصافی دینے بارے رحم دلی کا مظاہرہ کرنے کو کہا تھا اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے باقاعدہ ایک فارمولا دے رکھا تھا اور یہ مجھے بتایا گیا تھا جو میں نے آر اوز کو بتایا تھا۔ تمام تر ہدایات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سب کے ساتھ یکساں سلوک کا حکم دے رکھا تھا۔ 7 مئی کے بعد راﺅ افتخار سے کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کال کی تھی۔ انتخابات ہونے کے بعد وہ الیکشن کمیشن اسلام آباد آئے تھے اور یہ آنا جانا لگا رہا۔ الیکشن کمیسن نے کبھی بھی دفعہ 103 ڈبل اے بارے نہیں بلایا اور انہوں نے انتخابات سے متعلق ایک بھی شکایت موصول نہیں کی۔ 103 ڈیل اے کی سماعت میں انہیں کبھی بھی طلب نہیں کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر 48 گھنٹوں تک پابندی رہی۔ انتخابات مکمل ہونے کے بعد اس سرگرمی پر پابندی نہیں رہی تھی۔ جب تک پراسس مکمل نہیں ہو گیا اور نتائج غیر سرکاری طور پر مرتب نہیں ہو گئے یہ پابندی برقرار رہی۔ پیرزادہ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سپیکر ایاز صادق کے حلقے میں گئے تھے اس بارے معلومات ہیں۔ تو اس پر گواہ نے کہا کہ ان کو اس بارے معلومات نہیں ہیں۔ پیرزادہ نے کہا کہ نواز شریف نے اس رات تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ انتخابات جیت چکے ہیں کیا آپ کو علم ہے۔ اس پر گواہ نے کہا کہ انہون نے ٹیلی ویژن پر تقریر نہیں دیکھی تھی۔ پیرزادہ نے کہا کہ وہ جرح یہاں روک رہے ہیں ڈاکومنٹس کے جائزے کے بعد ہی اس بارے بات کریں گے۔
جوڈیشل کمیشن ،تحریک انصاف کے 5 مزید گواہ 11 مئی کو جرح کے لئے طلب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
سعودی عرب جانے والے افراد کیلئے خوشخبری
-
تیل کی قیمت میں 26 سالوں میں سب سے بڑی کمی
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
تمھارے لیے کماتا ہوں، میری خواہش پوری کرو؛ بہو نے ناجائز مطالبے پر سسر کوہلاک کردیا
-
صحت کارڈ سے کینسر اور کارڈیک سرجری کا علاج ختم



















































