اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

جوڈیشل کمیشن ،تحریک انصاف کے 5 مزید گواہ 11 مئی کو جرح کے لئے طلب

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

اس میں اضافی بیلٹ پیپرز بھی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کا جواب نہیں پڑھا۔ پیرزادہ نے کہا کہ الیکشن کمیسن کہتا ہے کہ ہم نے تو صرف 34 بندے مانگے تھے اور آپ کہہ رہے ہیں 100 سے 200 بندے مانگے تھے۔ 78 افراد کی بات بھی کی ہے یہ ان کے بیانات میں تضاد ہے۔ کمیسن نے کہا کہ گواہ الیکشن کمیشن کا جواب نہیں دے سکتے۔ پیرزادہ نے کہا کہ وہ سوال واپس لیتے ہیں۔ کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ جرح مکمل ہونے کے بعد بھی اگر آپ محسوس کریں کہ ابھی بھی گواہوں کی ضرورت ہے ان کو بلا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ریکارڈ دیکھ کر اس کے اصلی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلےہ کرے گا اس کے لئے آپ کو درخواست دینا ہو گی کہ وہ گواہوں پر مزید جرح کرنا چاہتے ہیں۔ گواہ نے بتایا کہ ریٹرننگ افسران وردی میں نہ تھے۔ ایک کیس میں ریٹرننگ آفیسر نے 3 اضافی پیپرز جبکہ ایک نے 30 فیصد اضافی پیرز مانگے تھے۔ یہ درست ہے۔ یہ درخواست ایک بار ہی کی گئی۔ یہ اصافی بیلٹ پیپرز رجسٹرڈ ووٹوں کے 30 فیصد تھے۔ میں نے اضافی پیرز مانگنے بارے ریٹرننگ آفیسر سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز اصافی دینے بارے رحم دلی کا مظاہرہ کرنے کو کہا تھا اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے باقاعدہ ایک فارمولا دے رکھا تھا اور یہ مجھے بتایا گیا تھا جو میں نے آر اوز کو بتایا تھا۔ تمام تر ہدایات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سب کے ساتھ یکساں سلوک کا حکم دے رکھا تھا۔ 7 مئی کے بعد راﺅ افتخار سے کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کال کی تھی۔ انتخابات ہونے کے بعد وہ الیکشن کمیشن اسلام آباد آئے تھے اور یہ آنا جانا لگا رہا۔ الیکشن کمیسن نے کبھی بھی دفعہ 103 ڈبل اے بارے نہیں بلایا اور انہوں نے انتخابات سے متعلق ایک بھی شکایت موصول نہیں کی۔ 103 ڈیل اے کی سماعت میں انہیں کبھی بھی طلب نہیں کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر 48 گھنٹوں تک پابندی رہی۔ انتخابات مکمل ہونے کے بعد اس سرگرمی پر پابندی نہیں رہی تھی۔ جب تک پراسس مکمل نہیں ہو گیا اور نتائج غیر سرکاری طور پر مرتب نہیں ہو گئے یہ پابندی برقرار رہی۔ پیرزادہ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سپیکر ایاز صادق کے حلقے میں گئے تھے اس بارے معلومات ہیں۔ تو اس پر گواہ نے کہا کہ ان کو اس بارے معلومات نہیں ہیں۔ پیرزادہ نے کہا کہ نواز شریف نے اس رات تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ انتخابات جیت چکے ہیں کیا آپ کو علم ہے۔ اس پر گواہ نے کہا کہ انہون نے ٹیلی ویژن پر تقریر نہیں دیکھی تھی۔ پیرزادہ نے کہا کہ وہ جرح یہاں روک رہے ہیں ڈاکومنٹس کے جائزے کے بعد ہی اس بارے بات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…