پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

سعد رفیق ذاتی طور پر دوبارہ الیکشن کے قائل ہیں لیکن ان کی پارٹی اپیل کرنا چاہتی ہے‘ کیوں؟

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معروف صحافی اور کالم نگارجاوید چودھری نے اپنے تازہ ترین کالم میں لکھا ہے کہ الیکشن ٹریبونل کے جج جاوید رشید محبوبی نے چار مئی کو این اے 125 میں انتخابی دھاندلی کا فیصلہ سنایا‘ یہ فیصلہ 80 صفحات پر مشتمل تھا‘ فیصلے میں بتایا گیا حلقہ این اے 125 میں 263 پولنگ سٹیشنز تھے‘ 17 پولنگ سٹیشنر منتخب کئے گئے‘7 پولنگ سٹیشنز کے ووٹوں کی پڑتال ہوئی‘ 1352 ووٹ ”ویری فی کیشن“ کےلئے نادرا بھجوائے گئے‘ نادرا نے 1254ووٹوں کی تصدیق کر دی‘ 84 ووٹوں پر انگوٹھوں کے نشانوں کی تصدیق نہ ہو سکی جبکہ 14 کاﺅنٹر فائلز پر انگوٹھوں کے نشان جعلی تھے لیکن کامیاب امیدوار خواجہ سعد رفیق اس دھاندلی کے ذمہ دار ہیں یہ ثابت نہیں ہوسکا‘ درخواست دہندہ خامد خان بھی دھاندلی کے ثبوت پیش نہیں کر سکے تاہم الیکشن عملے کی طرف سے سنجیدہ غلطیاں اور کوتاہیاں سامنے آئیں چنانچہ ٹریبونل نے تجویز دی ” این اے 125 میں دوبارہ الیکشن کرایا جائے“ خواجہ سعد رفیق نے ٹریبونل کے اس فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ خواجہ صاحب عدالت میں یہ موقف اختیار کریں گے ”ووٹر لسٹوں کی غیر موجودگی یا کا?نٹر فائلز میں گڑ بڑ کے ذمہ دار ریٹرننگ آفیسر ہیں مگر سزا مجھے اور میرے حلقے کے ووٹروں کو مل رہی ہے‘ یہ زیادتی ہے‘ خواجہ صاحب کو شاید عدالت سے ریلیف بھی مل جائے کیونکہ چھ سات سنٹروں کے رزلٹ کی بنیاد پر 263 سنٹروں کے نتیجے کو کالعدم قرار دینا قرین انصاف نہیں ہو گا‘ خواجہ سعد رفیق ذاتی طور پر دوبارہ الیکشن کے قائل ہیں لیکن ان کی پارٹی اپیل کرنا چاہتی ہے‘ کیوں؟ کیونکہ پارٹی کو خدشہ ہے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے حلقے این اے 122 اور خواجہ آصف کے حلقے 110میں بھی یہ صورت حال ہو سکتی ہے چنانچہ اگر خواجہ سعد رفیق نے اپیل کی بجائے الیکشن لڑا تو ایاز صادق اور خواجہ آصف کو بھی الیکشن لڑنا پڑے گا اور شاید ایاز صادق وہ الیکشن نہ جیت سکیں اور یوں پاکستان مسلم لیگ ن کو خفت اٹھانا پڑے گی چنانچہ خواجہ سعد رفیق کو پارٹی نے فیصلے کے خلاف اپیل کا حکم دے دیا ‘ خواجہ سعد رفیق عدالت جا رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اگر ایاز صادق یا خواجہ آصف اس صورتحال کا نشانہ بنے تو یہ بھی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور عدالتیں جب تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گی حکومت اس وقت تک اپنی مدت پوری کر چکی ہو گی۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…