جمعرات‬‮ ، 15 مئی‬‮‬‮ 2025 

خیبر پختونخوا میں لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی گلالئی کیلئے دولتِ مشترکہ کایوتھ ایوارڈ

datetime 11  مارچ‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن(نیوز ڈیسک)پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی 28 سالہ گلالئی اسماعیل کو دولتِ مشترکہ کے یوتھ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔اس ایوارڈ کے لیے براعظم ایشیا سے بھارت سے دو اور سنگاپور اور پاکستان سے ایک ایک نوجوان شخصیت کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سیگلالئی ہی اس ایوارڈ کی حقدار قرار پائیں۔ایوارڈ کی تقریب منگل کو لندن میں منعقد ہوئی جس کے بعد بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گلائی اسماعیل نے بتایا کہ وہ گذشتہ 12 سال سے پاکستان میں نوجوانوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔گلالئی اسماعیل نے 16 سال کی عمر میں ’اویئر گرلز‘ نامی غیر سرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی تاکہ نوجوان لڑکیوں کو اْن کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔2013 میں پاکستان میں انتخابات کے دوران انھوں نے ایک سو خواتین پر ایک ٹیم تشکیل دی جس نے گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادیوں جیسے معاملات پر کام کیا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایوارڈ کے لیے اپنے انتخاب پرگلالئی نے بتایا کہ ان کا تعلق جس علاقے سے ہے ’وہاں لڑکیوں کے حقوق یا پھر انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے آواز بلند کرنا خاصا مشکل ہے۔‘لڑکیوں کے حقوق یا پھر انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے آواز بلند کرنا خاصا مشکل ہے۔اگر آپ آواز اْٹھاتے ہیں تو اکثر آپ کو بہت سارے خطرات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔گلالئی اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ آواز اْٹھاتے ہیں تو اکثر آپ کو بہت سارے خطرات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ تو اِسی وجہ سے اْنھیں لگا کہ میں نے کوئی نمایاں کام کیا ہے۔‘اْنھوں نے کہا کہ 12 سال قبل جب انھوں نے لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام شروع کیا تو اْس وقت ماحول خاصا دوستانہ تھا اور اِتنی مشکلات اور خطرات نہیں تھے جتنے آج درپیش ہیں۔گلالئی اسماعیل کا کہنا تھا کہ انھیں روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔’سوشل میڈیا پر بھی ہم اکثر دیکھتے ہیں چند نوجوان پْرتشدد اور نفرت آمیز باتیں کرتے ہیں صرف اِس وجہ سے کہ جو کام ہم لڑکیوں کے لیے یا انتہا پسندی کے خلاف کر رہے ہیں۔ تو اختلافات کا سامنا ہمیں سوشل میڈیا اور حقیقی زندگی میں بھی کرنا پڑتا ہے۔‘سنہ 2014 میں انٹرنیشنل ہیومنسٹ ایوارڈ حاصل کرنے والی اور فارن پالیسی میگزین کی 2013 کی گلوبل تھنکرز میں سے ایک گلالئی اسماعیل نے اِس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ صرف موجودہ حالات کا مقابلہ وہ تنہا نہیں کر رہیں بلکہ کئی نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اِس کام اْن کا ساتھ دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



7مئی 2025ء


پہلگام واقعے کے بارے میں دو مفروضے ہیں‘ ایک پاکستان…

27ستمبر 2025ء

پاکستان نے 10 مئی 2025ء کو عسکری تاریخ میں نیا ریکارڈ…

وہ بارہ روپے

ہم وہاں تین لوگ تھے‘ ہم میں سے ایک سینئر بیورو…

محترم چور صاحب عیش کرو

آج سے دو ماہ قبل تین مارچ کوہمارے سکول میں چوری…

شاید شرم آ جائے

ڈاکٹرکارو شیما (Kaoru Shima) کا تعلق ہیرو شیما سے تھا‘…

22 اپریل 2025ء

پہلگام مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کا چھوٹا…

27فروری 2019ء

یہ 14 فروری 2019ء کی بات ہے‘ مقبوضہ کشمیر کے ضلع…

قوم کو وژن چاہیے

بادشاہ کے پاس صرف تین اثاثے بچے تھے‘ چار حصوں…

پانی‘ پانی اور پانی

انگریز نے 1849ء میں پنجاب فتح کیا‘پنجاب اس وقت…

Rich Dad — Poor Dad

وہ پانچ بہن بھائی تھے‘ تین بھائی اور دو بہنیں‘…

ڈیتھ بیڈ

ٹام کی زندگی شان دار تھی‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی…