Third Place

  اتوار‬‮ 3 جولائی‬‮ 2022  |  0:01

ہاورڈ شوٹز (Howard Schultz) ایک عام سا شخص تھا‘ نیویارک کے علاقے بروکلین میں سرکاری گھر میں پیدا ہوا‘ والد ٹرک ڈرائیور تھا‘ بچپن میں اس نے انتہائی غربت اور کسمپرسی دیکھی‘ اسے خوراک‘ کپڑوں اور جوتوں کے لیے اپنا خون تک بیچنا پڑا‘ گرتے پڑتے سرکاری و غیر سرکاری وظیفے لیتے لیتے گریجوایشن کر گیا اور سکینگ ریزارٹ میں معمولی سی نوکری کر لی‘

نوکری سال سے زیادہ نہ چل سکی‘ اگلی ملازمت زی راکس (Xerox) میں سیلز مین کی تھی‘ زی راکس نے فوٹوسٹیٹ مشین ایجاد کی تھی لہٰذا امریکا اور یورپ میں آج بھی فوٹو سٹیٹ کو زی راکس کہا جاتا ہے‘ یہ ملازمت بھی نہ چل سکی اور وہ وہاں سے ہیمر پلاسٹ (Hammer Plast) میں آ گیا‘ یہ کمپنی کافی کی مشینیں بناتی تھی‘ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں امریکا میں 1986ء تک کافی شاپس کا کلچر نہیں تھا‘ لوگ کافی گھروں میں بنا کر پیتے تھے اور ہیمر پلاسٹ اس وقت امریکا میں کافی مشینوں کی لیڈنگ کمپنی تھی اور ہاورڈ اس میں سیلز مین تھا‘ نیویارک میں 1980ء میں سٹاربکس کے نام سے کافی بینز کا ایک سٹور ہوتا تھا‘ یہ تین پروفیسروں نے مل کر بنایا تھا‘ اس میں اعلیٰ درجے کے بینز اور مشینیں ہوتی تھیں اور نیویارک کی ایلیٹ فیملیز اس کی گاہک تھیں‘ ہاورڈ انہیں مشینیں بیچنے جاتا تھا‘ اسے سٹور اور اس کے مالکان بہت اچھے لگے چناں چہ اس نے وہاں نوکری کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ ہاورڈ کو سٹار بکس میں جاب حاصل کرنے میں ایک سال لگ گیااور وہ 1982ء میں سٹور کا ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ مارکیٹنگ بن گیا‘ اسے سیاحت کا شوق تھا‘ اس نے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی اور 1983ء میں چھٹیاں گزارنے اٹلی چلا گیا‘ اس نے روم میں پہلی بار کافی شاپ دیکھی اور وہ حیران رہ گیا‘ اس نے دیکھا روم میں بارز کی طرح باقاعدہ کافی شاپس موجود ہیں اور لوگ وہاں صرف کافی انجوائے کرنے آتے ہیں‘ اسے یہ آئیڈیا اچھا لگااور اس نے نیویارک واپس آکر اپنے مالکان کو ’’کافی شاپ‘‘ بنانے کا آئیڈیا دے دیا مگر مالکان نے آئیڈیا دھتکار دیا‘

یہ انہیں دو سال سمجھاتا رہا مگر وہ نہیں مانے لہٰذا اس نے 1985ء میں نوکری چھوڑی اور ’’ال جرنیل‘‘ کے نام سے اپنی کافی شاپ کھول لی‘ اس کی شاپ چل نکلی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ’’سٹار بکس‘‘ کی کافی بینز کا سب سے بڑا گاہک بن گیا‘ سٹار بکس کے مالکان 1986ء میں مندی کا شکار ہو گئے اور انہوں نے اپنا سٹور بیچنے کا فیصلہ کر لیا‘ ہاورڈ ان کابڑا گاہک تھا‘

دونوں بیٹھے اور 38 لاکھ ڈالر میں سودا ہو گیا لیکن ہاورڈ کے پاس اس وقت صرف دس ہزار ڈالر تھے‘ بہرحال قصہ مزید مختصر اس نے 200 بینکوں اور سرمایہ کاروں کے دروازوں پر ماتھا رگڑا اور ان میں سے صرف دس لوگ راضی ہوئے اور یوں سٹار بکس ہاورڈ کو مل گئی اور اس کمپنی نے اگلے دس برسوں میں پورے امریکا میں کافی شاپس کا کلچر بھی متعاف کرا دیا

اور یہ دنیا میں کافی کے بزنس کی 57 فیصد شیئر ہولڈر بھی بن گئی‘ سٹار بکس اس وقت 30 ہزار کیفے کی مالک ہے‘ 64 ملکوں میں بزنس کرتی ہے اوریہ 80 بلین ڈالر کی کمپنی ہے‘ سٹاربکس نے امریکا میں صرف کافی شاپس کلچر متعارف نہیں کرایا بلکہ اس نے کاروباری دنیا کو آٹھ نئے مینجمنٹ اور سیلز سسٹم بھی دیے ہیں اور یہ سسٹم اس وقت دنیا بھر کی کاروباری اور تجارتی کمپنیاں استعمال کر رہی ہیں۔

سٹاربکس دنیا میں تیزی سے جگہ بنانے والی کمپنیوں میں شامل ہے‘ اس کی کام یابی کی بے شمار وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ تھرڈ پلیس (تیسرا مقام یا تیسری جگہ) کا تصور ہے‘ ہاورڈ شوٹز محسوس کرتا تھا امریکا میں امریکیوں کے لیے صرف دو جگہیں ہیں‘ گھر اور دفتر‘ یہ گھر سے نکلتے ہیں

تو سیدھا دفتر پہنچ جاتے ہیں اور دفتر سے بغیر کسی جگہ رکے یہ لوگ گھر آ جاتے ہیں اور اس وجہ سے معاشرے میں بے تحاشا فرسٹریشن اور ڈپریشن ہے لہٰذا ہمیں گھر اور دفتر کے درمیان تیسری جگہ بنانی چاہیے‘ ہاورڈ نے 1986ء میں یہ نقطہ سرمایہ کاروں کے سامنے رکھا تھا اور ان کا ردعمل بالکل وہی تھا جو اس وقت آپ کا ہے یعنی سیدھا دفتر سے گھر اور گھر سے

دفتر آنے جانے سے معاشرے میں فرسٹریشن پھیلتی ہے! ہاورڈ کا کہنا تھا’’ ہم میں سے جو بھی شخص بیوی یا بچوں سے لڑ کر دفتر جائے گا‘ وہ وہاں جا کر کیا کرے گا؟ وہ جاتے ہی باس اور کلائنٹ کے ساتھ الجھ پڑے گا اور یوں ایک شخص کی وجہ سے سارے دفتر کا موڈ آف ہو جائے گا‘ ہم میں سے اسی طرح جب بھی کوئی شخص باس سے جھاڑ کھا کر سیدھا گھر جائے گا تو وہ مین ڈور کراس کر کے کیا کرے گا؟

وہ بیوی اور بچوں پر چڑھ دوڑے گا اور یوں گھر کا ماحول خراب ہو جائے گا‘ ہم امریکیوں کو گھر اور دفتر کے درمیان ایک ایسی تیسری جگہ چاہیے جہاں یہ اپنی فرسٹریشن فلٹر کرسکیں اور وہ ہوگی کافی شاپ‘ ہماری اس تیسری جگہ کے بعد امریکی گھر سے نکل کر پہلے کافی شاپ میں آئیں گے‘

گھر کی تلخی کو کافی کے کپ میں ڈبو کر ختم کریں گے اور ایزی ہو کر دفتر جائیں گے اور شام کو گھر جاتے وقت بھی ایک بار پھر ہماری کافی شاپ میں رک کر دفتر کی تھکاوٹ‘تکلیف اور فرسٹریشن کو کافی کے مگ میں گھول کر پئیں گے اور ریلیکس ہو کر گھر چلے جائیں گے‘

سرمایہ کاروں میں سے کسی نے پوچھا ’’اس کام کے لیے امریکا میں لاکھوں کی تعداد میں شراب خانے موجود ہیں‘ لوگ کافی شاپ کیوں آئیں گے؟ ‘‘ہاورڈ کا جواب تھا لوگ صبح دفتر جاتے ہوئے شراب نہیں پی سکتے اور جو لوگ دفتر سے نکل کر سیدھا شراب خانے جاتے ہیں‘

وہ بھی ایک نشئی‘ مایوس اور ناکام زندگی گزارتے ہیں جب کہ کافی لوگوں کو نشئی نہیں بناتی‘ یہ ایزی کرتی ہے اور موڈ کو کک دیتی ہے‘ سرمایہ کار قائل ہو گئے اور یوں امریکا میں گھر اور دفتر کے درمیان 30 ہزارتیسری جگہیں بن گئیں اور ان جگہوں نے دوسری دونوں جگہوں کی فرسٹریشن اور ڈپریشن چوس لی۔

ہم سٹاربکس کی فلاسفی سے انکار نہیں کر سکتے‘ معاشرے کو واقعی دفتر اور گھر کے درمیان تیسری جگہ چاہیے ہوتی ہے‘ یہ جگہ دونوں کے درمیان انسولیشن یا بفرسیٹ کا کام کرتی ہے تاکہ ایک جگہ کی فرسٹریشن دوسری جگہ نہ جا سکے‘ دنیا کی تمام سولائزیشنز اس حقیقت سے واقف تھیں چناں چہ فرعونی دور ہو‘ رومن ہو‘ یونانی ہو یا پھر ہندوستانی معاشرت ہو دنیا کی تمام تہذیبوں میں تیسری جگہ کا تصور موجود تھا‘

چوپال‘ بیٹھک‘ چائے خانہ‘ اکٹھ‘ ڈیرہ ‘ ریستوران‘ درگاہ‘ پارکس اور دیوار گریہ یہ سب تیسری جگہیں تھیں تاکہ انسان جب گھر سے دکھی ہو کر نکلے تو وہ کام پر جانے سے پہلے تیسری جگہ آئے‘ بیٹھے‘ اپنے موڈ ٹھیک کرے اور پھر ورک شاپ یا دفتر جائے اور یہ جب مالک یا گاہک کی

جھڑکیاں کھا کر گھر کے لیے روانہ ہو تو یہ گھر کی دہلیز پار کرنے سے پہلے راستے میں رکے‘ اپنے زخمی جذبات کی کرچیاں سمیٹے‘ آنسو صاف کرے‘ خود کو تسلی دے اور پھر گھر روانہ ہو‘ انسان نے ہزاروں سال کے تجربے سے سیکھا سوسائٹی روزانہ ہم سب کو زخمی کرتی ہے‘

ہم گھر سے بھی زخمی حالت میں باہر نکلتے ہیں اور باہر سے بھی زخمی ہو کر واپس آتے ہیں چناں چہ ہمیں جذباتی مرمت کے لیے تیسری جگہ چاہیے ہوتی ہے‘ آپ یاد کریں بیس تیس سال پہلے تک آپ کی بیٹھک کا دروازہ باہر گلی کی طرف کھلتا تھا اورزیادہ تر گھروں کی بیٹھک میں

صرف ایک ہی دروازہ ہوتا تھا اور گھر کے لوگوں کو بھی بیٹھک میں جانے کے لیے باہر کا دروازہ استعمال کرنا پڑتا تھا اور یہ ہندوستان کی سیکڑوں سال پرانی روایت تھی‘ آپ نے کبھی سوچا اس کی کیا وجہ تھی؟ بیٹھک دراصل تیسری جگہ ہوتی تھی اور گھر کے مرد باہر

جانے اور باہر سے واپس گھر آنے سے پہلے تھوڑا سا ٹائم وہاں گزار کر ایزی ہوتے تھے‘ لوگوں نے وہاں چائے‘ قہوہ‘ تاش‘ شطرنج‘ آلات موسیقی اور ورزش کا سامان بھی رکھا ہوتا تھا لیکن یہ تصور بعدازاں تبدیل ہو گیا اور ہم نے بیٹھک اور ڈرائنگ روم کو مہمانوں کے لیے وقف کر دیا۔

میں نے چند ماہ قبل اپنے ایک بزنس کلائنٹ سے اس کے دفتر میں ’’تھرڈ لائونج‘‘ بنوایا‘ لائونج میں کافی اور چائے کے ساتھ ساتھ انڈور سپورٹس اور سٹیم باتھ بھی ہے‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے ملازمین کی کارکردگی میں سو فیصد اضافہ ہو گیا‘

ملازمین اب اپنے ٹف کلائنٹس اورشکایتی گاہکوں کو بھی پہلے ’’تھرڈ لائونج‘‘ میں بٹھاتے ہیں اور وہ جب اچھی طرح نارمل ہو جاتے ہیں تو یہ اس کے بعد اس سے گفتگو شروع کرتے ہیں اور یوں معاملات چند منٹ میں سیٹل ہوجاتے ہیں‘

آپ نے کبھی سوچا دنیا کی بڑی کمپنیاں شان دار قسم کے میٹنگ رومز کیوں بنواتی ہیں یا یہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں ڈیل کیوں کرتی ہیں کیوں کہ یہ تھرڈ پلیس ہوتی ہیں اور وہاں پہنچ کر دونوں فریق اپنی فرسٹریشن اور ڈپریشن سے نکل آتے ہیں‘

آپ بھی اپنے دفتر اور گھر میں تھرڈ پلیس بنائیں اور جب بھی کام پر جائیں یا کام سے گھر واپس آئیں تو چند لمحے اس جگہ پر ضرور گزاریں اور اگر یہ مشکل ہو تو راستے میں کوئی نہ کوئی چائے خانہ یا کافی شاپ تاڑ لیں اور آتے جاتے چند لمحے وہاں ضرور گزاریں‘ آپ کی زندگی میں تبدیلی آ جائے گی۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎