لاء آف اٹریکشن

  اتوار‬‮ 5 ستمبر‬‮ 2021  |  0:01

رحمت ولی زرسن کیلاش ویلی کے دوسرے بڑے گائوں رمبور (Rumbor) کی ایک پہاڑی پر رہتا ہے‘ بچپن سے دونوں ٹانگوں سے معذور ہے اور ہاتھوں کی مدد سے گھسٹ گھسٹ کر چلتا ہے‘ گھر چوٹی پر ہے اور وہاں تک پہنچنے کے لیے جنگل سے ٹریک کر کے جانا پڑتا ہے‘ دوسرا راستہ سیڑھیاں ہیں‘ یونانی والنٹیئرز نے رحمت ولی کے گھر تک ساڑھے تین سو سیڑھیاں بنا دی ہیں‘یہ سیدھی اور مشکل سیڑھیاں دریا سے شروع ہوتی ہیں اور انگوروں کی بیلوں‘ اخروٹ‘ سیب اور شہتوت کے درختوں کے نیچے سے ہوتی ہوئیں رحمت ولی کے گھر تک پہنچ جاتی ہیں‘ یہ معذور ہونے کے باوجود دنیا کے منفرد لوگوں میں شمار ہوتا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذہن اور ہاتھوں کو فن کی دولت سے نواز

رکھا ہے‘ یہ پیدائشی آرٹسٹ ہے‘ لکڑی تراش کر انتہائی خوب صورت مجسمے بناتا ہے‘ گھوڑا اس کے فن کی شہ رگ ہے‘ یہ لکڑی کو کاٹ کر‘ رگڑ کر اور کھود کر اسے گھوڑے کی شکل دے دیتا ہے اور کمال کر دیتا ہے‘ یہ فن اس نے صرف ایک دن میں سیکھ لیا تھا‘ وہ معذور تھا‘ بچہ تھا‘ اپنے گھر سے نیچے نہیں جا سکتا تھالہٰذا وہ چارپائی پر بیٹھ کر سارا سارا دن چاقو سے لکڑی چھیلتا رہتا تھا‘ لکڑی کبھی تیر بن جاتی تھی‘ کبھی کمان‘ کبھی لڑکا‘ کبھی لڑکی‘ کبھی چڑیا اور کبھی خرگوش لیکن گھوڑا بنا کر اسے زیادہ خوشی ہوتی تھی‘ بمبوریت میں اس زمانے میں ایک مجسمہ ساز رہتا تھا‘ وہ بھی لکڑی سے بت تراشتا تھا‘ اسے اس کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے ایک دن اپنے سارے اوزار لیے اور جنگل میں چلتا چلتا رحمت ولی کے گھر پہنچ گیا‘ وہ اس سے ملا‘ لکڑی کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اسے تراشنا شروع کر دیا‘ رحمت ولی دیکھتا رہا‘ مجسمہ ساز نے لکڑی کا گھوڑا بنایا‘ اس کے ہاتھ میں پکڑایا اور کہا ’’لو اب اسی طرح بناتے رہو‘‘ اس نے اپنے سارے اوزار اس کے حوالے کر دیے اور واپس آ گیا‘ وہ رحمت ولی کا ایک دن کا استاد تھا‘ اس نے استاد کے اوزاروں سے مجسمے بنانا شروع کر دیے اور آہستہ آہستہ دنیا میں مشہور ہوتا چلا گیا۔رحمت ولی سے میرا تعارف میرے بیٹے شماعیل نے کرایا‘ یہ چند ماہ قبل کیلاش گیا اور ٹریک کرتا ہوا اس معذور آرٹسٹ کے گھر تک پہنچ گیا‘ اس کے فن نے اسے مبہوت کر دیا‘ ہم 22 اگست کو رمبور پہنچے‘ فیسٹول دیکھا اور لنچ کے لیے نیچے آئے تو شماعیل نے حکیم بابر کو رحمت ولی کے بارے میں بتادیا اور یہ بے تاب ہو گیا اور میرے پاس آ کر بولا ’’میں نے لاء آف اٹریکشن کی زندہ مثال تلاش کر لی ہے‘‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ وہ بولا ’’یہ معذور آرٹسٹ آج تک پہاڑ سے نیچے نہیں آیا‘ اس نے چوٹی پر بیٹھ کر مجسمے بنانا شروع کیے اور آپ یہ دیکھ لیں اس کے مجسمے خریدنے کے لیے گورے یورپ سے کیلاش اور پھر کیلاش سے اس کے گھر تک جاتے ہیں‘کیا یہ لاء آف اٹریکشن نہیں یعنی ایک شخص پہاڑ پر بیٹھ کر یہ سوچ کر مجسمے بنا رہا ہے اس کے خریدار انہیں خریدنے کے لیے یہاں آئیں گے اور وہ آتے ہیں‘‘ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ حکیم بابر نے مجھ سے پوچھا ’’کیا آپ اس سے ملنے کے لیے جائیں گے‘‘ میں نے اپنے گھٹنوں کی طرف دیکھا‘ یہ تازہ تازہ ٹھیک ہوئے تھے‘ پھر پہاڑ کی چوٹی کی طرف دیکھا اور پھر حکیم بابر کی طرف دیکھ کر کہا ’’ہاں کیوں نہیں‘‘ حکیم نے قہقہہ لگایا اور پوچھا ’’اور گھٹنے‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں اسی جانا چاہتا ہوں‘میں آج جیسے تیسے چوٹی تک پہنچ جائوں گالیکن اگر خدانخواستہ کل میرے گٹے گوڈے جواب دے جاتے ہیں تو پھر میں شاید کبھی اس گم نام آرٹسٹ کو نہ دیکھ سکوں‘‘ حکیم بابر نے ایک اور قہقہہ لگایا اور ہم نے ٹریکنگ شروع کر دی‘ حکمت اللہ کاکڑ‘ آغا جنید اور ایک اور خوب صورت صاحب بھی ہمارے ساتھ چل پڑے‘ ہمارے ساتھ لاہور کے ایک میاں بیوی بھی تھے‘ خاتون ماشاء اللہ بہت زندہ دل اور جرات مند تھیں‘ وہ اس جگہ بھی چپ چاپ پہنچ جاتی تھیں جہاں مضبوط سے مضبوط مرد بھیہمت ہار بیٹھتے تھے‘ یہ دونوں دوسرے گروپ کے ساتھ سیڑھیوں کے ذریعے چل پڑے‘ رحمت ولی کا گھر آٹھ دس گھروں کی چھوٹی سی (Locality) میں تھا‘ گھر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے‘ صحنوں میں انگور کی بیلیں اور سیب کے درخت تھے اور چھتوں پر شہتوت اور خوبانی سکھانے کے لیے رکھی تھی‘ ہم بڑی مشکل سے گرتے پڑتے اور پسینے سے بھیگتے ہوئے رحمت ولی زرسن کے گھر پہنچ گئے‘ وہ گرم جوشی سے ملا اور ہاتھوں سے گھسٹتا ہوا ہمیں اپنی ورکشاپ تک لے گیا‘ یہ چھوٹا سا چبوترا تھا اور وہاں اس کے پانچ شاہکار پڑے تھے‘ دو بڑے گھوڑے تھے‘ دونوں پر سوار بیٹھے تھے‘معذور آرٹسٹ نے سواروں اور گھوڑوں دونوں کی کیفیات لکڑی میں پرو دی تھیں‘ ایک گھوڑے کا سوار ہنس رہا تھا جب کہ دوسرا سنجیدہ دکھائی دیتا تھا لیکن دونوں مکمل تھے‘ زرسن نے بتایا ‘ہنستے سوار کا گھوڑا چترال کے شاہی خاندان نے خرید لیا ہے جب کہ دوسرا گھوڑا اس نے ایک فرنچ سیاح کے لیے بنایا‘ یہ چند دن میں مکمل ہو جائے گا اور وہ اسے پک کرا لے گا‘ تیسرا گھوڑے کا سر تھا اور وہ بھی کمال تھا‘ گھوڑے کی ساری کیفیات اس سر پر درج تھیں‘ ون پیس تھا اور وہ ون پیس سرحکمت اللہ کاکڑ نے خرید لیا ‘ میں اسلام آباد تک اس سر کو حاسدین کی نگاہوں سے دیکھتا رہا‘ چوتھا اور پانچواںشاہکار چھوٹے سائز کے گھوڑے تھے جن پر سوار بیٹھے تھے‘ یہ رف تھے لیکن اس کے باوجود ان میں ایک جاذبیت تھی‘ میں نے ان میں ایک پسند کیا اور رحمت ولی کو نذرانہ دے کر خرید لیا‘ وہ گھوڑا اب میرے ڈرائنگ روم میں رکھا ہے‘ میں اسے روز دیکھتا ہوں اور جی بھر کر لاء آف اٹریکشن کو داد دیتا ہوں۔ہم ایک گھنٹہ رحمت ولی زرسن کے ساتھ گزار کر واپس چل پڑے‘ سیمنٹ کی سیڑھیاں مکئی کے کھیتوں اور سیب اور خوبانی کے درختوں کے درمیان سے گزر رہی تھیں‘میں اور عبدالوحید صاحب آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگے‘ اللہ تعالیٰ نے بھی کمال دنیا بنائی اور اپنی محبوب ترین مخلوق انسان کو اس میں اتار دیا اور پھر اسے لاء آف اٹریکشن کا تحفہ دے دیا‘ ہم انسان جو سوچتے ہیں وہ ہو جاتا ہے‘ انسان نے اڑنے کا سوچا‘ یہ آج اڑ کر زمین کے مدار سے بھی باہر چلا جاتا ہے‘ اس نے رات کو دن بنانے کا سوچا اور پھر اس نے یہ کر دکھایا‘ اس نے بیماریوں کے مقابلے کا سوچا اور یہ آج اپنی ہر بیماری کا علاج کرتا چلا جا رہا ہے اور اس نے اپنی سپیڈ بڑھانے کا فیصلہ کیااور یہ آج پلک جھپکنے میں کیا سے کیا نہیں کر جاتا اور اس نے گوگل‘ فیس بک‘ واٹس ایپ اور سکائپ کے ذریعے پوری دنیا کو بھی آپس میں جوڑ دیا لہٰذا آج یہ فقرہ حقیقت بن چکا ہے آپ کو جو چیز گوگل پر نہیں ملتی وہ دنیا میں موجود ہی نہیں‘ یہ سب لاء آف اٹریکشن کا کمال ہے‘ یہ قانون کہتا ہے آپ دنیا تک پہنچنا چاہتے ہیں یا دنیا کو اپنے پاس بلانا چاہتے ہیں تو آپ بس کام شروع کر دیں‘ دنیا آپ اور آپ دنیا تک ضرور پہنچ جائیں گے‘ بھارت میں اورنگ آبادمیں اجنتا کے غار ہیں‘ ان غاروں میںہزاروں سال پہلے نامعلوم انسانوں نے دیواروں پر تصویریں بنائیں‘ ان لوگوں نے بھی یقینا یہ سوچا ہو گا دنیا میں ایک وقت ایسا آئے گا جب لوگ ان غاروں تک پہنچیں گے اور ہمارا یہ شاہکار دیکھیں گے اور پھر لوگ وہاں پہنچے اور یہ شاہکار بھی دیکھا اور نامعلوم آرٹسٹوں کو داد بھی دی‘ قرطبہ کی مسجد مراکش کے معماروں نے بنائی تھی‘ وہ لوگ مسجد بناتے جاتے تھے‘ اس کے ستون تراشتے جاتے تھے اور سوچتے جاتے تھے‘ ایک وقت آئے گا جب پوری دنیا ہماراشاہکار دیکھے گی‘قرطبہ 1236ء میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا اور عیسائی پادریوں نے ستون گرا کر مسجد کے عین درمیان چرچ بنا دیا‘ مسجد تھوڑی سی باقی رہ گئی لیکن آپ لاء آف اٹریکشن دیکھیے‘ آج دنیا بھر کے سیاح اس تھوڑی سی مسجد کو دیکھنے آتے ہیں اور دیر تک اس کی خوب صورتی کی داد دیتے رہتے ہیں جب کہ وہ چرچ عمارت میں ایک بے ہنگم اور گستاخ قہقہہ محسوس ہوتا ہے‘موہن جوداڑو اور اہرام مصر بھی لاء آف اٹریکشن کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں‘ یہ شاہکار انسانوں نے ہزاروں سال پہلے یہ سوچ کر تخلیق کیے تھے دنیا کبھی نہ کبھی یہ دیکھے گی اور ہمارے فن کی داد دے گی اور آپ قدرت کا کمال دیکھیے‘ موہن جو داڑو چار ہزار سال زمین میں دفن رہا جب کہ اہرام پانچ ہزار سال ریت میں چھپے رہے لیکن پھر دونوں ایک دن باہر آئے اور اپنی ہیبت اور خوب صورتی سے پوری دنیا کو مبہوت کر دیا‘ یہ ہو نہیں سکتا انسان نے کوئی کمال کیا ہو اور وہ دنیا کی نظروں سےپوشیدہ رہ گیا ہو اور یہ بھی ممکن نہیں انسان کوئی بات سوچتا ہو اور وہ دنیا میں ظہور پذیر نہ ہو‘ ہم جو سوچتے ہیں وہ بھی ہو کر رہتا ہے اور ہم جو کرتے ہیں وہ بھی کبھی نہ کبھی دنیا تک ضرور پہنچ جاتا ہے چناں چہ آپ جم کر محنت کریں اور اخلاص کے ساتھ کام کریں‘ آپ کی محنت اور آپ کا کام بہرحال دنیا تک پہنچ کر رہے گا‘ قدردان اگر پہاڑوں پر ٹھڈے کھا کر رحمت ولی زرسن تک پہنچ سکتے ہیں تو یہ آپ تک بھی ضرور پہنچیں گے لیکن بس آپ نے شاہکار تخلیق کرنا ہے‘ آپ اشرف المخلوقات ہیں‘ مور نہیں ہیں جو جنگل میں ناچ ناچ کر فوت ہو جائے گا اور اس کے لیے کوئی تالی نہیں بجے گی۔


زیرو پوائنٹ

نئی سیاسی کھچڑی

’’کرکٹ اگر مذہب ہوتا تو پورا برصغیر اس مذہب کا پیروکار ہوتا‘‘ یہ فقرہ کسی نے کہا تھا اور سچ کہا تھا‘ یہ واقعی حقیقت ہے سارک ممالک کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور یہ خواہ کتنے ہی منقسم کیوں نہ ہوں یہ لوگ کرکٹ پر ایک ہو جاتے ہیں‘ پاکستان بھی اس جنون کی اعلیٰ ترین مثال ہے‘ ....مزید پڑھئے‎

’’کرکٹ اگر مذہب ہوتا تو پورا برصغیر اس مذہب کا پیروکار ہوتا‘‘ یہ فقرہ کسی نے کہا تھا اور سچ کہا تھا‘ یہ واقعی حقیقت ہے سارک ممالک کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور یہ خواہ کتنے ہی منقسم کیوں نہ ہوں یہ لوگ کرکٹ پر ایک ہو جاتے ہیں‘ پاکستان بھی اس جنون کی اعلیٰ ترین مثال ہے‘ ....مزید پڑھئے‎