ایک صفت پانچ اختیارات

  منگل‬‮ 6 جولائی‬‮ 2021  |  0:01

میرے ایک دوست کل وقتی یوتھیا ہیں‘ یہ 1980ء کی دہائی سے عمران خان کے شیدائی ہیں‘ یہ وزیراعظم کی ہر تقریر ایاک نعبد وایاک نستعین سے لے کر آخر تک سنتے ہیں‘ میں جب بھی حکومت کے بارے میں لکھتا ہوں مجھے سب سے پہلے ان کا فون آتا ہے اور یہ کسی قسم کی رو رعایت کے بغیر میری کلاس لے لیتے ہیں‘ یہ اکثر مجھ سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں‘ یہ کل میرے پاس آئےاور سیدھا سادا سوال کیا ’’تم کیوں یہ سمجھتے ہو ہم کسی بڑے حادثے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دوسرا تم عمران خان کو متکبر کیوں کہتے ہو‘ مجھے یہ شخص ہر لحاظ سے سیدھا‘ سادا اور سچا محسوس ہوتا ہے‘‘۔میں نے عرض کیا ’’میں نے آج تک عمران خان کو

جھوٹا‘ دوغلہ یا پیچیدہ انسان نہیں سمجھا‘ میں کسی کے جھوٹ یا سچ کا فیصلہ کرنے والا کون ہوتا ہوں‘ یہ فیصلہ صرف اللہ کی ذات نے کرنا ہے‘ خدا نے انہیں عزت دی‘ یہ انہیں مزیددے‘ میں ان کی عزت کے راستے میں رکاوٹ بننے والا کون ہوتا ہوں؟‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’پھر مجھے آپ کے ایشو کی سمجھ نہیں آتی‘ آپ پتا نہیں میرے لیڈر کے اتنے خلاف کیوں ہیں؟‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’توبہ توبہ میری کیا مجال ہے‘ کیا آپ اللہ کے سسٹم کو نہیں جانتے؟‘‘ وہ بولے ’’کیا سسٹم ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’دنیا میں ہر بااختیار شخص اپنے اختیارات لوگوں میں تقسیم کرتا ہے‘ مثلاً آپ امریکا کے صدر کو لے لیجیے‘ یہ دنیا کا موسٹ پاور فل پرسن ہے‘ امریکی قوم اسے منتخب کرتی ہے اور ملک کے سارے اختیارات اس کے حوالے کر دیتی ہے‘ صدر حلف لینے کے بعد اپنی کابینہ بناتا ہے اور اپنے اختیارات کابینہ میں تقسیم کر دیتا ہے‘ یہ ملک کا بجٹ بنانے کا اختیار وزیر خزانہ (سیکرٹری فنانس) ‘دفاع کا اختیار وزیر دفاع‘ خارجہ امور کاا ختیار سیکرٹری سٹیٹ‘داخلی امور کا اختیار سیکرٹری آف انٹیریئر‘زرعی امور کا اختیار سیکرٹری ایگری کلچر‘ کامرس کا اختیار سیکرٹری آف کامرس اور ہیلتھ کا اختیار سیکرٹری ہیلتھ کو دے دیتا ہے اور یہ لوگ صدر کے ’’بی ہاف‘‘ پر اپنے اپنے محکمے چلاتے ہیں لیکن صدر اس تقسیم کے دوران کچھ اختیارات اپنے پاس رکھ لیتا ہے‘ یہ وہ اختیارات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا مثلاً یہ کسی بھی وزیر کو کسی بھی وقت فارغ کر سکتا ہے‘ یہ ان کے پورٹ فولیو تبدیل کر سکتا ہے‘یہ بل کلنٹن یا جارج بش کی طرحعراق اور افغانستان پر حملے کا فیصلہ کر سکتا ہے اور یہ جوبائیڈن کی طرح افغانستان سے اپنی فوجیں واپس لانے کا حکم بھی دے سکتا ہے‘‘ میں خاموش ہو گیا‘ میرے دوست کرسی پر کروٹ لے کر بولے ’’ لیکن امریکی صدر کا اللہ کے سسٹم کے ساتھ کیا تعلق ہے؟‘‘ میں نے مسکرا کر جواب دیا ’’بھائی جان بڑا گہرا تعلق ہے‘ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو اپنا نائب نامزد کیا تھا تو اسے ہزاروں اختیارات دے دیے تھے‘ ہم انسان پاتال میں بھی جھانک سکتے ہیں اور کہکشائیں اور ستارے بھی گن سکتے ہیں‘ہم نے دنیا کے 95 فیصد امراض کے علاج بھی دریافت کر لیے ہیں اور ہم مریخ پر بھی اترنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں‘ یہ ساری صلاحیتیں ہمیں اللہ نے بخشی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اختیارات بانٹتے وقت پانچ اختیار اپنے پاس رکھ لیے تھے‘ اس نے یہ اختیار ات کسی انسان کو نہیں دیے اور یہ پانچ اختیار ہیں‘ زندگی‘ موت‘ رزق‘ عزت اور ذلت کا اختیار‘ یہ اختیارات صرف اور صرف اللہ کے پاس ہیں‘‘ میں رکا‘ لمبا سانس لیا اور عرض کیا ’’حضرت موسیٰ ؑنے ایک دن اللہ تعالیٰ سے پوچھا تھا یا باری تعالیٰ کیا آپ کوکبھی ہنسی بھی آتی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا‘ ہاں مجھے دو وقتوں میں بہت ہنسی آتی ہے‘ میں جب کسی کو کچھ دینا چاہوں اور دنیا اس کو روکنا چاہے تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے اور دوسرا میں جب کسی سے کچھ چھیننا چاہوں اور دنیا وہ اس کے پاس رکھنا چاہے تو بھی مجھے بہت ہنسی آتی ہے‘‘ میں نے سانس لیا اور عرض کیا ’’ ہم میں سے کوئی شخص‘ کسی شخص کو اس وقت تک نہیں مار سکتا جب تک اللہ نہ چاہے‘ ہم کسی کو اس وقت تک بچا بھی نہیں سکتے جب تک اللہ نہ چاہے‘ رزق کا اختیار بھیصرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ جب کسی کو عزت دیتا ہے تو پھر کوئی اس کو بے عزت نہیں کر سکتا ہے اور یہ جب کسی کو ذلیل کرتا ہے تو پھر کوئی اسے عزت نہیں دے سکتا‘ اللہ نے یہ پانچوں اختیار اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں‘‘ میں خاموش ہو گیا۔وہ حیرت سے میری طرف دیکھتے رہے اور پھر آہستہ سے بولے ’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو‘ یہ واقعی اللہ کے اختیارات ہیں‘‘ میں نے عرض کیا ’’اور میرے اللہ میں لاکھوں‘ کروڑوں‘ کھربوں خوبیاں ہیں لیکن اس نے ان کھربوں خوبیوں کوہماری سہولت کے لیے 99 کے ہندسے میں تبدیل کر دیا ‘ یہ اللہ کی 99 صفات ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے یہ صفات بھی انسانوں کو دے دیں‘ ہم سب میں اللہ کی 99 صفات تھوڑی تھوڑی موجود ہیں بس ایک صفت ایسی ہے جو اللہ نے صرف اپنے پاس رکھی اور وہ صفت ہے تکبر‘یہ وہ واحد صفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو نہیں دی چناں چہ ہم جتنے بھی بلند‘ بڑے اور مضبوط ہو جائیں عاجزی ہم انسانوں پر فرض ہے‘ ہم اللہ کی اس کائنات میں جھک کر ہی سلامت رہ سکتے ہیں‘‘ میں خاموش ہو گیا‘وہ تھوڑی دیر میری طرف دیکھتے رہے اور پھر بولے ’’میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں‘ ‘ میں نے عرض کیا ’’میں آپ کو حضرت موسیٰ ؑ کا ایک اور واقعہ سناتا ہوں‘قارون حضرت موسیٰ ؑکے حکم سے جب زمین میں دھنسنے لگا تو اس نے حضرت موسیٰ ؑسے معافی مانگنا شروع کر دی لیکن حضرت موسیٰ ؑاس کی فنا کے احکامات جاری کرتے رہے‘ وہ جب زمین میں غائب ہو گیا تو وحی اتری اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑسے فرمایا‘ یہ بے وقوف تھا‘ یہ آخری وقت میں بھی تم سے معافی مانگتا رہا‘مجھے میری ستاریت کی قسم یہ اگر ایک بار مجھ سے معافی مانگ لیتا تو میں اسے کبھی زمین میں نہ دھنسنے دیتا‘ ہمارا اللہ اتنا بڑا ہے‘ یہ قارون کے عجز کو بھی مان لیتا ہے لیکن یہ تکبر کسی کا برداشت نہیں کرتا‘ یہ اکڑ اور تنی ہوئی گردن کسی کی پسند نہیں کرتا‘‘ میں پھر خاموش ہو گیا‘ وہ فوراً کرسی پر پہلو بدل کر بولے ’’میں نے لیکچر سن لیا‘ تم اب مطلب کی طرف آئو‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’عمران خان بہت اچھے ہوں گے لیکن ان میں رعونت ہے‘ یہ متکبر ہیں‘ یہ جمعرات یکم جولائی کوقومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس تک میں شریک نہیں ہوئے‘ یہ اپنی نفرت کو اس لیول پر لے گئے ہیں جہاں یہ مخالفوں کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں‘ اللہ کی اس کائنات میں اللہ ڈوبتے ہوئے فرعون اور دھنستے ہوئے قارون کے بارے میں بھی اچھا سوچتا ہے‘ ریاست مدینہ میں ابوسفیان حالت کفر میں بھی جب مدینہ آتے ہیں اور اپنی صاحب زادی اُمِ حبیبہؓ سے ملاقات کے لیے رسول اللہ ﷺ کے گھر جاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ انہیں منع نہیں کرتے‘ نبی اکرمؐ اپنے عزیز ترین چچا حضرت امیر حمزہؓ کےقاتل وحشی کو بھی معاف کر کے مکہ میں قیام کی اجازت دے دیتے ہیں‘ یہ عبداللہ بن ابی جیسے منافق کی نماز جنازہ بھی پڑھاتے ہیں‘ اسے تدفین کے لیے اپنا کرتا مبارک بھی دیتے ہیں اور اس کے لیے مغفرت کی دعا بھی کرتے ہیں جب کہ ہمارے وزیراعظم کشمیر کا ایشو ہو‘ کورونا کا ایشو ہو‘ گلگت بلتستان کا ایشو ہو یا پھر اب قومی سلامتی کا ایشو تھا‘ یہ اپنے سیاسی مخالفوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیےبھی تیار نہیں ہیں‘ کیا یہ تکبر‘کیا یہ رعونت نہیں؟‘‘ میں خاموش ہوا اور پھر عرض کیا ’’او رآپ باقی معاملات میں بھی دیکھ لیں ‘اللہ نے اگر عمران خان کو عزت دی تودوسروں کو بھی اسی خدا نے عزت کے قابل سمجھا لیکن یہ ان سے مسلسل عزت کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ اپنے سیاسی مخالفوں کو بے عزت کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے‘ یہ پانچ پانچ ہزار لوگوں کو لٹکا بھی دینا چاہتے ہیںاور یہ جس سے چاہتے ہیں اس سے اس کا روزگار اور رزق بھی چھین لیتے ہیں‘ اللہ نے ان کو وزیراعظم بنا دیا کیا یہ اب (نعوذباللہ) خدا بننا چاہتے ہیں‘ کیا یہ اللہ سے وہ ایک صفت اور وہ پانچ اختیارات بھی لینا چاہتے ہیں جو اس نے آج تک کسی انسان کو نہیں دیے‘‘۔میرے دوست بے تاب ہو کر کرسی پر کروٹیں بدلنے لگے‘ میں نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے روکا اور عرض کیا ’’اپوزیشن کےسارے لیڈر مجرم ہو سکتے ہیں‘ آپ عدالتوں میں ان کے جرم ثابت کریں اور سزائیں دیں لیکن آپ کو انہیں بے عزت کرنے کاحق کس نے دیا ہے؟ آپ اگر نریندر مودی کو خط لکھ سکتے ہیں‘ اسے فون کر سکتے ہیں اور آپ اگر پانچ پانچ ماہ جوبائیڈن کی کال کا انتظار کر سکتے ہیں تو آپ ان لوگوں سے ہاتھ کیوں نہیں ملانا چاہتے جنہوں نے آپ سے زیادہ ووٹ بھی لیے اور جو اذلی سیاسی مخالف ہونے کے باوجود ملک اور جمہوریت کے لیے اکٹھے بھی بیٹھ جاتے ہیں‘ میں دل سے سمجھتا ہوں یہ رویہ‘ یہرعونت کسی شخص‘ ملک اور پارٹی تینوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے اور تینوں کو اس کی سزا بھگتنا پڑتی ہے لہٰذا میری درخواست ہے ہم اگر انسان ہیں تو پھر ہمیں شرف انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیوں کہ دنیا میں ہر شخص مرنے کے بعد مٹ جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کسی فرعون کو مرنے کے بعد بھی مرنے نہیں دیتا‘ یہ اسے عبرت بنا کر عجائب گھروں میں سجا دیتا ہے‘‘۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

الیکشن کمیشن میں کیا ہو رہا ہے؟

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎