پلیز مجھے بھی بتا دیں

  اتوار‬‮ 30 اگست‬‮ 2020  |  0:01

رابندر ناتھ ٹیگور بنگالی دانشور‘ شاعر اور مصنف تھے‘ یہ نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی بھی تھے‘ ٹیگور کو 1913ء میں ادب کا نوبل انعام ملا‘ برطانوی شاہ نے نوبل انعام کے دو سال بعد انہیں سر کا خطاب بھی دے دیا‘ یہ خطاب برطانوی راج میں انتہائی معزز شخصیات کو دیا جاتا تھا‘ اعزاز پانے والے لوگ اس کے بعد انتہائی باعزت سمجھے جاتے تھے یوں ٹیگور دونوں اعزازات کے ساتھ خوش تھے لیکن پھر 13 اپریل 1919ء کو پنجاب میں ایک خوف ناک واقعہ پیش آیا۔

امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں بریگیڈیئر جنرل ڈائر نے نہتے اور معصوم پنجابیوں پر فائر کھول دیا‘ 379 لوگ مارے گئے اور 1200 زخمی ہو گئے‘ یہ خبر جب بنگال پہنچی تو بنگالی رابندر ناتھ ٹیگور نے

پنجابی لاشوں پر بطور احتجاج اپنا سر کا خطاب واپس کر دیا اور باقی زندگی اپنے نام کے ساتھ سر نہیں لکھا‘ یہ آج بھی صرف رابندر ناتھ ٹیگور ہیں سر رابندر ناتھ نہیں جب کہ دوسری طرف علامہ اقبال کشمیری اور پنجابی تھے‘ یہ عالم اسلام کے سب سے بڑے مفکر اور دانشور تھے‘ یہ آج 82سال بعد بھی ایران‘ افغانستان اور ترکی میں پڑھائے جاتے ہیں‘ علامہ اقبال کو سانحہ جلیانوالہ باغ سے تین سال بعد 1922ء میں برطانوی بادشاہ کی طرف سے سر کے خطاب کی پیش کش ہوئی اور علامہ صاحب نے نہ صرف یہ آفر قبول کر لی بلکہ اپنے استاد سید میر حسن کو بھی یہ خطاب دینے کی درخواست کر دی۔رابندر ناتھ ٹیگور اور سر علامہ محمد اقبال دونوں کا طرز عمل ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا‘ ان دونوں میں سے کوئی ایک غلط ہونا چاہیے لیکن یہ دونوں بیک وقت درست ہیں اور ہم ٹیگور کے اقدام پر تالیاں بجا سکتے ہیں اور نہ علامہ صاحب کے فعل کو برا کہہ سکتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ دونوں سر جیسے معمولی خطاب سے کہیں بڑے لوگ تھے‘ یہ خطاب ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں ٹیگور نے سر کا خطاب واپس کرتے ہوئے کسی الگ ملک کا مطالبہ نہیں کیا تھا جب کہ علامہ اقبال سر کے خطاب کے باوجود مصور پاکستان ہیں۔

فلسطین کے ایشو پر بھی اسلامی ملکوں کے دو طرز عمل تھے‘ ایک گروپ نے اسرائیل اور اسرائیلی قبضے کو مسترد کر دیا جب کہ دوسرے گروپ نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا مگر دونوں اسرائیلی ظلم پر احتجاج بھی کرتے رہے‘ ان میں سے کون صحیح اور کون غلط ہے؟ یہ فیصلہ ٹیگور اور علامہ اقبال کی طرح آسان نہیں کیوں کہ دونوں نے اپنے حالات کے مطابق فیصلہ کیا تھا لیکن یہاں پر ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے‘ عالم اسلام کے انکار یا اقرار کا فلسطینیوں کو کیا فائدہ ہوا؟ خاک بھی نہیں۔

یہ بے چارے عرب 1948ء سے دربدر ہیں‘ آپ اگر اردن یا مصر جائیں تو آپ کو وہاں کراچی کے مہاجروں کی طرح عرب 48ء‘ عرب 67ء اور عرب 73ء کی اصطلاح ملے گی‘ آپ پوچھیں گے تو آپ کو بتایا جائے گا عرب 48ء وہ ہیں جو 1948ء میں اسرائیل سے نکال دیے گئے اور عرب67ء اور 73ء کو1967ء اور 1973ء میں وطن بدر کر دیا گیا تھا گویا عربوں نے بھی عرب فلسطینیوں کو 72 سال بعد عرب نہیں مانا‘ یہ آج بھی مہاجر ہیں اور مقامی لوگ انہیں پسند نہیں کرتے۔

فلسطینیوں کی چھ نسلیں جلاوطنیوں اور کیمپوں میں پیدا ہوئی ہیں‘ یہ بے چارے گولیوں کی آواز میں آنکھیں کھولتے ہیں اور لاشوں کے انبار میں آنکھیں بند کرتے ہیں اور 58 اسلامی ملکوں میں سے کسی ملک نے آج تک کھل کر ان کا ساتھ نہیں دیا‘ کوئی کندھے سے کندھا ملا کر ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا‘ سوائے ایران کے‘ ایران 42سال سے شیعہ فلسطینیوں‘ شیعہ لبنانی اور شیعہ شامیوں کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ باقی تمام ملکوں کی حمایت زبانی کلامی‘ مذمتی اور قربانی کے گوشت تک محدود ہے۔

عالم اسلام کو اگر واقعی فلسطینیوں کا احساس ہے تو پھر اس نے آج تک ان کے لیے کیا کیا؟ ہم پاکستانی بھی ایک طرف فلسطینیوں کی محبت میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے اور دوسری طرف ہم نے اردن کے شاہ حسین کے حکم پر1970ء میں فلسطینیوں پر ٹینک بھی چڑھا دیے تھے اور ان پر طیاروں سے بمباری بھی کی تھی‘ یہ خدمات جنرل ضیاء الحق نے بریگیڈیئر کی حیثیت سے سرانجام دی تھیں جب کہ ائیرفورس کی طرف سے شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی نے فلسطینیوں پر بمباری کی تھی۔

یہ واقعہ آج بھی فلسطینیوں کی تاریخ میں ”بلیک ستمبر“ کہلاتا ہے اور اس کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں یاسر عرفات کے پاکستان سے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے‘ پی ایل او کی قیادت اس دور میں ہمارے سفیروں تک سے ملاقات نہیں کرتی تھی‘ دوسرا اسرائیل کے گرد22اسلامی ملک ہیں‘ ان کی آبادی اسرائیل کی کل آبادی سے تیس گنا زیادہ ہے‘ یہ عسکری قوت میں بھی کئی گنا بڑے ہیں لیکن آج تک ان 22 ملکوں نے اپنے بھائیوں کے لیے کیا کیا؟

فلسطینی 72 سال سے مر رہے ہیں اوربرادر اسلامی ملک ان کی لاشوں کے عوض امریکا اور یورپ سے مراعات لے رہے ہیں اوریہ برادر اسلامی ملک اپنی سفارتی اور سیاسی بارگیننگ کے لیے فلسطین کا ایشو سیٹل نہیں ہونے دے رہے‘ یہ فلسطینیوں کو کیمپوں سے بھی باہر نہیں نکلنے دے رہے‘ ہم پاکستانی اگر واقعی فلسطین سے مخلص ہیں تو چلیے پھر ہم فلسطین کے لیے جہاد کرتے ہیں‘ نکلیں 20 کروڑ پاکستانی اپنے گھروں سے اور چل پڑیں اسرائیل کی طرف۔ لیکن مجھے یقین ہے ہم اگر نکلے بھی تو ہمیں سب سے پہلے وہ مصر‘ اردن‘ شام اور لبنان روکے گا جن کی زمینیں چھڑانے کے لیے ہم اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھیں گے اور پھر ہمیں سعودی عرب اور یو اے ای کی طرف سے واپسی کا حکم آ جائے گا۔

مجھے آج تک اس محبت کی سمجھ بھی نہیں آئی جس میں ہم یہودیوں کی فیس بک‘ ٹویٹر اور انسٹا گرام پر اسرائیل مردہ باد کی پوسٹ شیئر کرتے ہیں‘ اپنی سڑکیں بلاک کرتے ہیں اور اپنی گاڑیاں اور اپنی لائیٹس توڑتے ہیں اور نعرے لگا کر واپس آ جاتے ہیں اور پھر خواب دیکھتے ہیں فلسطینی ایک دن ضرور اپنے گھروں میں آباد ہوں گے‘ فلسطینی یقینا ایک دن اپنے گھروں میں واپس جائیں گے لیکن اس میں عالم اسلام کا رتی برابر عمل نہیں ہو گا‘ یہ صرف اور صرف فلسطینیوں کے خون اور پانچ نسلوں کا نتیجہ ہو گا کیوں کہ قدرت ان شاء اللہ ان کا خون رائیگاں نہیں جانے دے گی۔

ہم پاکستانی بھی کیا دل چسپ قوم ہیں‘ ہم نے فلسطینیوں کی محبت میں اسرائیل کو بھی تسلیم نہیں کیا اور ہم نے عملی طور پر بھی آج تک فلسطینیوں کے لیے کچھ نہیں کیا‘ آپ تاریخ نکال کر دکھا دیں ہمارا کون سا صدر‘ وزیراعظم یا وزیر آج تک فلسطین گیا یا ہم نے فلسطین کے لیے کون سی قربانی دی؟ ہم گھر بیٹھ کر فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں اور جب انہیں ہماری ضرورت پڑتی ہے تو ہم ان پر ٹینک چڑھا دیتے ہیں‘ یہ ہے ہمارا کنٹری بیوشن اور دوسری طرف ہم جن عربوں کے لیے مر رہے ہیں وہ کشمیر کے نام پر وضو تک کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ہم 2019ء میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد جمع کرانے کے لیے بھی 16 برادر اسلامی ملکوں کی حمایت حاصل نہیں کر سکے تھے جب کہ بھارت کو جنرل اسمبلی کے غیر مستقل ممبر کے الیکشن میں 192میں سے 184ووٹ ملے اور یہ ریکارڈ ہے گویا ہمارے سارے برادر اسلامی ملکوں نے ہماری درخواست کے باوجود ہمارے دشمن کو ووٹ دیے اوریہ ہے برادر اسلامی ملکوں میں ہماری اوقات مگر ہم اس کے باوجود اپنے منہ پر پڑنے والے چھتروں کو چھتر نہیں مانتے۔

ہم انہیں بھی مقدس جوتا بنا دیتے ہیں‘دوسرا ہمارے پاس جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو ہم سفارتی اور سیاسی ایشوز میں بھی اسلام ڈال دیتے ہیں اور اگر اسلام فٹ نہ ہو رہا ہو تو ہم اس میں علامہ اقبال اور قائداعظم ڈال کر دوسروں کو خاموش کر دیتے ہیں اور ہم یہ کارنامہ سرانجام دیتے وقت یہ تک بھول جاتے ہیں علامہ اقبال نے سانحہ جلیانوالہ باغ کے باوجود سر کا خطاب قبول کر لیا تھا اور قائداعظم 1947ء میں اس ملکہ برطانیہ کے دستخطوں سے پاکستان کے گورنر جنرل بنے تھے جس نے فلسطین پر قبضہ کر رکھا تھا اور جس نے بعد ازاں اپنے ہاتھ سے اسرائیل کے قیام کی اجازت دی تھی لہٰذا یاد رکھیں لوگ ہوں یا قومیں یہ حالات میں زندہ رہتی ہیں‘ جذبات اور ماضی کے قبرستانوں میں نہیں۔

اور آپ اگر قوم ہیں تو پھر صرف پوسٹیں شیئر نہ کریں‘ فلسطین کے لیے کھل کر لڑیں‘ رابندر ناتھ ٹیگور کی طرح اسرائیل کی بنائی یا ایجاد کردہ ہر چیز کو بھی مسترد کر دیں‘ اسرائیل کے سب سے بڑے حامیوں کے وجود سے بھی انکار کر دیں اور یورپ اور امریکا کو بھی مسترد کر دیں اور یہ اعلان بھی کر دیں ہم ہر اس ملک کو بھی نہیں مانیں گے جو اسرائیل کو مان رہا ہے اور ہم 72سال سے کیمپوں میں پڑے فلسطینیوں کو بھی لا کر پاکستان میں آباد کریں تاکہ دنیا کو پتا چلے ہم نے کسی کی حمایت کی ہے‘ ہم نے کسی کے لیے مار کھائی ہے اور یہ اگر ممکن نہیں تو پھر ہم مسقط میں چھپ چھپ کر بات چیت نہ کریں‘ کھل کر اسرائیل سے مذاکرات کریں۔

اور یہ ڈیل اگر ہمیں سوٹ کرتی ہے تو پھر مردانہ وار اس کا اعتراف کریں اور یہ اگر ہمیں وارہ نہیں کھاتی تو سینہ ٹھوک کر انکار کریں اور اگر ہم میں یہ ہمت‘ یہ جرات بھی نہیں تو پھر ہم قوم کو کم از کم اتنا تو بتا دیں ہمارا ایشو آخر ہے کیا؟ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم اسرائیل کو کیوں نہیں مان رہے! قوم کو کم از کم اپنے قومی موقف کی سمجھ تو آئے‘یقین کریں میں آج تک پاکستانی موقف نہیں سمجھ سکا‘ مجھے سمجھ نہیں آئی ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں یا مخالف اور ہم نے یہ سٹینڈ کیوں اور کس کے لیے لے رکھا ہے؟اگر آپ جانتے ہیں تو پلیز آپ مجھے بھی بتا دیں۔


زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎