Dissatisfaction

  منگل‬‮ 21 جولائی‬‮ 2020  |  0:01

احمد شفیق آدھے لاہوری اور آدھے اوکاڑوی ہیں‘ گوتھم کے نام سے ہاسپٹیلٹی کالج چلاتے ہیں‘ ہوٹل مینجمنٹ کے گُرو ہیں‘ سائپریس‘ لندن اور سوئٹزر لینڈ میں کام کر چکے ہیں‘ پڑھے لکھے اور زمانہ ساز ہیں‘ یہ چند دن قبل میرے پاس تشریف لائے اور گفتگو کے دوران انتہائی دل چسپ بات بتائی‘ ان کا کہنا تھا ”ہم پرانے کلاس فیلوز اور دوستوں نے واٹس ایپ کا ایک گروپ بنا رکھا ہے‘ میں نے چند دن پہلے گروپ میں سب سے کہا ‘آپ لوگ اپنی زندگی کی پہلی تنخواہ بتائیں۔

میں نے ساتھ ہی اس مقابلے کا آغاز کر دیا‘ میری پہلی تنخواہ پانچ سو روپے ماہانہ تھی گویا میری عملی زندگی کا سٹارٹ ٹشو کے ڈبے‘ ٹوتھ برش یا کافی کے ایک کپ کی ویلیو

کے برابر تھا اور میں اس تنخواہ میں پورا مہینہ کام کرتا تھا‘ مجھے دیکھ کر باقی سب دوستوں نے بھی اپنی پہلی سیلری لکھنا شروع کر دی‘ ہمارے پورے گروپ کی ابتدائی تنخواہیں ہزار ڈیڑھ ہزار سے زیادہ نہیں تھیں لیکن آج صرف تیس سال بعد ہم کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں“ احمد شفیق کا کہنا تھا میں نے پانچ مرلے کے گھر سے زندگی کا آغاز کیا تھا مگر آج ہزار کے قریب لوگ میرے پاس ملازم ہیں اور ہم ہزاروں لوگوں کو ٹرینڈ کر کے برسر روزگار بھی کر چکے ہیں‘ میرے باقی دوست اور احباب بھی میری طرح انتہائی خوش حال اور شان دار زندگی گزار رہے ہیں۔احمد شفیق کا نکتہ دل چسپ بھی تھا اور شان دار بھی لیکن میں بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک مہربان مسعود چاﺅلہ کی آبزرویشن بتاتا چلوں‘ چاﺅلہ صاحب کراچی میں رہتے ہیں‘ ادویات کا خام مال سپلائی کرتے ہیں اور یہ ہمارے ساتھ ٹورز پر جاتے ہیں‘ انہوں نے چند دن قبل نشان دہی کی میری تحریروں میں ”میں میں“ زیادہ ہو رہی ہے‘ میں نے ان سے اتفاق کیا‘ مجھے خود بھی محسوس ہو رہا تھا میں شاید سٹھیا رہا ہوں‘تحریر میں واقعی میں میں کی تکرارنرگسیت اور تکبر ہوتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لکھنے والا خود کو سقراط ‘ بقراط یا یوسف ثانی سمجھ رہا ہے اور قاری کو نالائق اور جاہل۔”میں“ حقیقتاً تحریر کا سقم‘ تحریر کی خامی ہوتی ہے۔

ہمارے سینئرز اس سے بچنے کے لیے عموماً میں کی جگہ عاجز‘ مقتدی‘ مرید‘ غلام‘ ننگ اسلاف‘ عارض‘ فریادی یا طالب علم لکھ دیا کرتے تھے‘ مجھے چاﺅلہ صاحب کی آبزرویشن نے سوچنے پر مجبور کر دیا لہٰذا میں اپنے لیے ایسے الفاظ تلاش کرنے لگا جو میرے مزاج اور حرکتوں سے میچ کرتے ہوں‘ مجھے نالائق‘ بغلول اور جاہل زیادہ اچھے لگے لیکن پھر محسوس ہوا یہ شاید مستقبل میں غیر سنجیدہ محسوس ہونے لگیں چناں چہ میں نے اپنے لیے مسافر چن لیا‘ یہ میرے مزاج اور جنون دونوں کے مطابق ہے لہٰذا مسافر آئندہ کوشش کرے گا یہ میں کی جگہ مسافر استعمال کرے تاکہ تحریر میں تکبر اور نرگسیت نہ آئے۔

مسافر نے احمد شفیق سے اتفاق کیا‘ ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ مسافر اکثر لوگوں سے پوچھتا رہتا ہے ” تم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاﺅ کیا تم اپنے والد سے بہتر زندگی نہیں گزار رہے؟“ ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے‘ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔

آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں‘ آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ادھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا‘ سارا محلہ ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا‘ لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے‘ ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا‘ بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے۔

لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے‘ دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا‘ سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی‘ مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا‘ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا‘ ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا‘ بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔

سائیکل خوش حالی کی علامت تھا اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا‘ گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی‘ کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتے تھے‘ گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا‘ وہ آدھی رات تک ”اوئے نویدے“ کی آواز پر دوڑ کر ممٹی پر چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا۔

پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا‘ سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی‘ نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے“ تو وہ اس سے استرا یا تیل مانگ لیا کرتے تھے اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے۔

بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور یہ ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا‘ امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔

آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی‘ ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی‘ اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!۔آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے‘ آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا جب کہ ہم اگر صرف تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔

لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ مسافر جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے‘ ناشکری‘ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بجھتی‘ یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان باہر لٹک رہی ہو تی ہے‘ ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں‘ یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہوتی اور ہم میں سے کچھ لوگ اربوں کھربوں روپے کمانے کے باوجود امیر نہیں ہوتے‘ کیوں؟ آپ نے کبھی سوچا! کیوں کہ یہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ان کی بیماری کا نام ”ڈس سیٹس فیکشن“ ہے۔

ان کے پیٹ‘ ان کے معدے اور ان کی حرص کے صندوق مرنے تک خالی رہتے ہیں اور ہم من حیث القوم کسی نہ کسی حد تک ڈس سیٹس فیکشن کی بیماری کا شکار ہیں اور اس بیماری کی واحد وجہ وٹامن شکر کی کمی ہے‘ شکر ہمارے اللہ کا وہ واحد ”عمل انگیز“ (کیٹالسٹ) ہے جو ہماری خوش حالی میں خوشی‘ ہماری اچیو منٹ میں منٹ  اور ہماری کام یابی کو کام  بناتا ہے‘ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ڈس سیٹس فیکشن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ بیماری پھر مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔

ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس پچاس کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ ہم چالیس پچاس لاکھ روپے سے لے کر دو‘ تین‘ چار کروڑ روپے کی گاڑی سے اتریں گے اور ساتھ ہی کہیں گے ”بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے“ چناں چہ مسافر کی آپ سے درخواست ہے‘ آپ ایک لمحے کے لیے اپنا بچپن یاد کریں‘ اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں‘آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ یقین کریں آپ کا شکر آپ کے آم میں رس پیدا کر دے گا ورنہ آپ کتنے ہی اچھے یا بڑے کیوں نہ ہوجائیں آپ صرف اچار بنانے کے کام ہی آ سکیں گے‘آپ ایک ادھوری‘ غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔