وقت کے ساتھ ساتھ

  اتوار‬‮ 5 جولائی‬‮ 2020  |  14:15

’’برادر ناوید انسان اگر وقت کے ساتھ ساتھ چلے تو پھر ٹینشن نہیں ہو تی‘‘ میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا‘ اس کی سفید داڑھی سے پسینے کے قطرے ٹپک رہے تھے‘ سر کے بال مختصر تھے‘ جسم فربا تھا اور ٹانگیں مضبوط اور لمبی تھیں‘ اس نے یہودی ربیوں کا سیاہ چولہ پہن رکھا تھا اور سر پر چھوٹی سی جالی دار ٹوپی تھی‘ اپریل کا مہینہ تھا‘ مصر میں گرمیاں شروع ہو چکی تھیں‘سائے میں بھی گرمی لگتی تھی‘ ہمارے گروپ میں آٹھ لوگ تھے‘ دو مسلمان‘ تین یہودی اور تین امریکی عیسائی‘ میرے ساتھ مراکش کا عبدالرحمن تھا‘ وہ انجینئر تھا اور طنجہ پورٹ پر قطری کمپنی میں کام کرتا تھا‘ تینوں امریکی عیسائی دوست اور تاریخ کے پروفیسر تھے جب کہ یہودی ربی تھے

اور اسرائیل سے آئے تھے۔ہم نے مصر میںحضرت موسیٰ ؑ کا ٹور لیا تھا‘ بائبل کے دوسرے باب کا نام ایگزاڈس (Exodus) ہے‘ بنی اسرائیل 1200قبل مسیح میں حضرت موسیٰ ؑ کی قیادت میں مصر سے اسرائیل کے لیے روانہ ہوئے تھے‘ یہ لوگ واپسی کے اس سفر کو ایگزاڈس کہتے ہیں‘ آپ اگر قاہرہ سے اسکندریہ کی طرف جائیں تو87 کلومیٹربعد شرقیہ کا صوبہ آتا ہے‘ بنی اسرائیل اس صوبے کے مختلف دیہات میں آباد تھے‘ حضرت موسیٰ ؑ نے ریمسس نام کے گائوں سے اپنا سفر شروع کیا تھا‘ یہ اس کے بعد گوشن آئے تھے پھر فتھم سے ہوتے ہوئے سوتھ پہنچے تھے‘ سوتھ کے قرب و جوار میں وہ جھیل تھی جس کے پیندے میں حضرت یوسف ؑ کا تابوت چھپا تھا‘ حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا کی مدد سے حضرت یوسف ؑ کا تابوت پانی سے نکالا اور یہ لوگ تابوت لے کر ریڈ سی عبور کر کے صحرائے سینا میں داخل ہو گئے تھے‘ طور کے علاقے میں قیام فرمایا‘ طور آنے کی وجہ حضرت موسیٰ ؑکا خاندان تھا‘ حضرت موسیٰ ؑاپنی اہلیہ صفورا اور بچوں کو طور پر چھوڑ گئے تھے‘ آپ ؑ طور کے قیام کےدوران پہاڑ پر تشریف لے گئے‘ تورات حاصل کی‘ اپنی بیگم اور بچوں سے ملاقات فرمائی اور بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر اردن کی طرف نکل گئے‘ پیٹرا پہنچے‘ پیٹرا میں حضرت ہارون ؑ کا انتقال ہو گیا‘ حضرت موسیٰ ؑ وہاں سے وادی نبوہ آئے‘ کوہ نبوہ کے دامن میں آپ ؑ کا انتقال ہو گیا اور آپؑ کے بعد حضرت یوشع بن نون ؑ بنی اسرائیل کو لے کر جیریکو پہنچ گئے‘ مصر میں ایگزاڈس کا طویل ٹور ہوتا ہے‘یہ ٹور یہودیوں‘ عیسائیوں اور مسلمان تینوں کے لیے مقدس ہے‘ لوگ مصر سے ہوتے ہوئے اردن‘سعودی عرب اور پھر اسرائیل پہنچتے ہیں‘ میں نے 2013ء میں یہ ٹور لیا تھا‘ ہم اس ٹور میں آٹھ زائرین تھے‘ دو مسلمان اور تین تین یہودی اور عیسائی‘میں اور عبدالرحمن مصر سے واپس آ گئے تھے جب کہ باقی چھ لوگ سعودی عرب‘ اردن اور اسرائیل چلے گئے تھے‘ ہم نے اپنا سفر ریمسس سے شروع کیااور بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ سفر کرنے لگے‘ ربی تمام راستہ دعائیں پڑھتے رہے‘ عیسائی پروفیسر ایگزاڈس کے نقشے ساتھ لے کر آئے تھے‘ وہ جگہ جگہ گاڑی رکواتے تھے‘ نقشہ دیکھتے تھے اور پھر اس جگہ کے واقعات دہراتے تھے جب کہ میں اور مراکشی بھائی بڑی دل چسپی سے ان کی باتیں سنتے تھے‘ ربی شروع میں ہم سے کھچے کھچے تھے‘ یہودی نسلی تفاخر اور خوف کی وجہ سےاجنبی لوگوں سے دور رہتے ہیں‘ وہ بھی ہمارے ساتھ ہونے کے باوجود ساتھ نہیں تھے لیکن ہم جب طور پہنچے اور رات کے اندھیرے میں پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا اور سردی‘ اندھیرے اور خوف سے ہمارے دانت سے دانت ٹکرانے لگے تو ہمارے درمیان سے ایک ایک کر کے اجنبیت کی دیواریں گرتی چلی گئیں‘ بزرگ ربی ہارون نے پہلی مرتبہ میرا نام پوچھا اور پھر وہ مجھے بار بار ناوید کہنے لگا‘میری زندگی میں پہلی بار جاوید ناوید ہوا تھا اور مجھے یہ بھلا لگنے لگا تھا‘ ہم نے صبح کی دعا کے بعد طور سے نیچے اترنا شروع کیا‘ راستے میں ہم چند لمحوں کے لیے حضرت الیاس ؑ کی عبادت گاہ کے قریب رکے اور میں نے وہاں ربی ہارون سے وہ دل چسپ سوال پوچھنا شروع کر دیے جن کے جواب میں ربی نے کہا‘ برادر ناوید انسان اگر وقت کے ساتھ ساتھ چلے تو ٹینشن نہیں ہوتی‘‘میں نے اس سے پوچھا ’’آپ کیا کرتے ہیں‘‘ اس نے جواب دیا ’’میں ربی ہوں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ اس کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے ‘‘ وہ بولا ’’ہاں میں ٹینشن‘ اینگزائٹی اور ڈپریشن کا علاج کرتا ہوں‘ میرا ’’مسٹک (روحانی) کلینک‘‘ ہے‘ میں روز مریض دیکھتا ہوں اور اس سے میرا نان نفقہ چلتا ہے‘‘ یہ ایک دل چسپ پروفیشن تھا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ ٹینشن کے مریضوں کوکوئی دوا یا دعا دیتے ہیں‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ہرگز نہیں‘ میں انہیں بس یہ بتاتاہوں وقت کے دھارے سے الٹ تیرنے والوں کو ٹینشن ہوتی ہے‘ تم اگر ٹینشن سے بچنا چاہتے ہو تو وقت کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دو‘ ناں وقت سے آہستہ چلوں اور نہ وقت سے آگے نکلنے کی کوشش کرو‘ یکم جنوری کو یکم جنوری سمجھو اس میں 31 دسمبر کی تلخیاں اور دو جنوری کے اندیشے مکس نہ کرو‘تم اینگزاٹی اور ٹینشن سے بچ جائو گے‘‘ وہ رکا‘ ہنسا‘ حضرت الیاس ؑ کی عبادت گاہ کی طرف دیکھ کر ’’دعائے ایلیا‘‘ پڑھی اور پھر بولا ’’برادر ناوید انسان کو اس وقت ٹینشن ہوتی ہے جب وہ حال میں بیٹھ کر ماضی کو ٹھیک کرنے اور آج میں رہ کر آنے والے کل کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے‘ یہ کوشش جتنی تیز‘ جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہے انسان کی اینگزائٹی اور ڈپریشن بھیاتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے لہٰذا برادر ناوید آپ اگر ٹینشن سے بچنا چاہتے ہو تو پھر وقت کے ساتھ ساتھ چلو‘ اس سے ٹکرانے‘ اس سے لڑنے اور اس سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرو‘ تم خوش اور سکھی ہوجائو گے‘‘۔ربی ہارون‘ مصر اور ایگزاڈس تینوں ماضی بن کر میرے ذہن سے محو ہو گئے لیکن کل اچانک فیس بک پر ایک پوسٹ نظروں سے گزری اور میری ہنسی نکل گئی‘ میں دیر تک ہنستا رہا‘ کسی ظالم نے لکھا تھا’’مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے حاملہ ہونے کے علاوہ جاوید چودھری کی زندگی میں دنیا کے تمام واقعات ظہور پذیر ہو چکے ہیں‘‘ ظالم کی آبزرویشن اور فقرہ دونوں شان دار تھے‘ میرا قہقہہ نکل گیا‘ میں اکیلا بیٹھ کر اعتراف کرنے لگا میری زندگی میں واقعی مبالغے کی حد تک حیاتی کے زیادہ تر واقعات گزر چکے ہیں‘ کیوں؟ شاید اس کی دو وجوہات ہوں‘ میں گائوں میں پیدا ہونے والا ایسا بچہ تھا جس نےخاندان کی تاریخ میں پہلی بار سکول میں قدم رکھا تھا اور جو بعد ازاں ناں ناں کرتے 86 ملک پھر گیا اور زندگی کے ایک ایک لمحے کو استعمال کرنے کی لت میں مبتلا ہو گیا‘ جس نے عملی زندگی 14 سو روپے ماہانہ کی نوکری سے شروع کی ‘ جسے کمرے کا کرایہ اور کھانے کا بل دینے کے لیے دوسری نوکری کرنا پڑی ‘ جس نے چھ لوگوں سے ادھار لے کر پہلا موٹر سائیکل خریدا اور جوسردیوں کی راتوں میں کامران کی بارہ دری میں جوگیوں کو چائے بنا کر پلاتا رہا ‘ شاید یہ تپسیا تھی جس نے زندگی کے سارے رنگ ‘سارے شیڈ اس کے پروفائل‘ اس کی سی وی میں درج کر دیے‘ دوسرا زندگی کا سفر تمام لوگوں کے لیے یکساں ہوتا ہے‘ ہم سب نو ماہ ماں کے پیٹ میں رہتے ہیں‘ سارے گر پڑ کر اٹھ کر چلنا شروع کرتے ہیں‘ سب کی زندگی میں ’’بھوں‘‘ بھی ہوتے ہیں‘سب کو مار پڑتی ہے‘سب ٹافیاں چراتے اور کلاس فیلوز کی کاپیاں پھاڑتے ہیں‘ سب کی زندگی میں نفرت‘ محبت‘ حسد‘ رقابت اور پچھتاوا ہوتا ہے‘ سب بارشوں میں بھیگتے‘ سردیوں میں ٹھٹھرتے‘ گرمیوں میں سایہ تلاش کرتے‘ خزاں میں مایوس ہوتے اور بہار میں لمبی لمبی سانسیں لیتے ہیں‘ سب گرتے‘ اٹھتے‘ لڑتے اور پھر گرتے ہیں‘ سب دھوکے کھاتے ہیں‘ دھوکے دیتے بھی ہیں‘ ہم سب اپنی جلد کو تپش سے بچانے کے لیےدوسروں کے سروں پر بھی کھڑے ہوتے ہیں‘ ہم سب کی زندگی میں کوئی نہ کوئی شخص خضر بن کر بھی آتا ہے اور ہم آخر میں سفر زیست کے منکے بھی گنتے ہیں اور تاسف کے قدموں کے نشان بھی شمار کرتے ہیں بس ہم میں سے کچھ لوگ یہ سارے دکھ‘ یہ سارے پچھتاوے‘ سردیوں کی ساری چوٹیں اور ٹوٹی بکھری محبتوں کی ساری کرچیاں بیان کر دیتے ہیں جب کہ باقی یہ سارے زخم‘یہ سارے تمغے سینے کے صندوق میں لے کر چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں‘ میں بھی عام انسان ہوں‘ اربوں لوگوں جیسا بس اللہ نے دوسری لاکھوں مہربانیوں کے ساتھ اپنی زمین دیکھنے اور دیکھے اور سنے کو بیان کرنے کی نعمت سے نواز دیا اور بس۔مجھے پھر ربی ہارون اور حضرت الیاس ؑ کی عبادت گاہ یاد آ گئی‘ حضرت الیاس ؑ لبنان کے شہر بالبک کے رہنے والے تھے‘ طور پر چلہ کشی کے لیے آئے تھے‘آپ ؑ فرمایا کرتے تھے دانش کھیتوں میں اگتی ہے‘ آپ جب تک کھیت تک نہیں پہنچتے آپ کو اس وقت پھل نہیں ملتا‘ شاید سکون طور کی اترائیوں میں حضرت الیاس ؑ کی عبادت گاہ کے اردگرد اگتا ہو گا‘ شاید اسی لیے ربی ہارون کی بات سیدھی دل میں اتر گئی اور محسوس ہوا وقت کے ساتھ ساتھ چلنے والے لوگ ٹینشن‘ اینگزائٹی اور ڈپریشن سے بچے رہتے ہیں جب کہاس سے لڑنے والے ہمیشہ پریشان رہتے ہیں چناں چہ انسان کو خود کو وقت کے حوالے کر دینا چاہیے‘ قدرت کی سکیم کا حصہ بن جانا چاہیے‘ یہ پرسکون ہو جائے گا‘ میں ربی ہارون سے ملنے کے بعد پچھلے سات برسوں سے دیکھ رہا ہوں لمحہ موجود میں زندگی گزارنے والے لوگ مطمئن اور پرسکون رہتے ہیں‘ میں روز دیکھتا ہوں‘ آپ بھی اردگرد دیکھیے‘ شاید آپ کو بھی ایسے لوگ مل جائیں۔


موضوعات: