یہ میرے محسن ہیں

  منگل‬‮ 4 فروری‬‮ 2020  |  0:01

حاجی صاحب لاہور کی اکبری منڈی میں بیوپاری ہیں‘ ان پڑھ ہیں‘ غریب تھے‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور یہ فیڈ ملز کو مکئی اور سویا بین سپلائی کرنے لگے‘ سائیکل سے لینڈ کروزر پر آ گئے‘یہ وقت کے ساتھ ساتھ ارب پتی ہو گئے‘ مارکیٹ میں ان کا نام بھی بن گیا لیکن پھر یہ ایک عجیب مخمصے کا شکار ہو گئے‘لوگ ان سے کروڑوں اربوں روپے کے سودے کر لیتے تھے مگر انہیں اپنا دوست نہیں بناتے تھے‘ یہ فیکٹری اونرز اور بیورو کریٹس کی پارٹیوں میں بھی مدعو نہیں کیے جاتے تھے۔

علماءکرام چندہ لے لیتے تھے لیکن راہ ورسم نہیں بڑھاتے تھے‘ ان کے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھتے تھے لیکن وہ بھی اپنے والد کی صحبت میں ایزی فیل نہیں

کرتے تھے اور ان کے پرانے دوست بھی ان سے پرہیز کرتے تھے یوں یہ اکیلے ہوتے چلے گئے‘ یہ اپنے اکلاپے اور اپنی ”سوشل لونلی نیس“ کی وجہ سے ڈپریشن کی ادویات کھانے لگے‘ میرے کسی دوست نے ان سے ذکر کیا اور یہ ایک دن میرے پاس تشریف لے آئے‘ مجھے محسوس ہوا یہ سماجی‘ ذہنی اور علمی لحاظ سے اپنی کام یابی اوردولت سے بہت پیچھے ہیں‘ ان کا حلیہ‘ عادتیں اور اٹھنا بیٹھنا بھی غریبانہ ہے‘ یہ کھدر کے میلے سے کپڑے پہنتے ہیں‘ پاﺅں میں ہر وقت قینچی چپل ہوتی ہے اور بانچھوں سے رالیں ٹپکتی رہتی ہیں‘ یہ بولتے ہوئے منہ سے چھڑکاﺅ بھی کرتے ہیں اور ان کی باتوں میں بھی کوئی دلیل‘ کوئی عقل نہیں ہوتی‘ لوگ ان سے بور ہو جاتے ہیں اور ان سے پرہیز کرتے ہیں‘ میں نے حاجی صاحب کو مشورہ دیا آپ اپنا حلیہ‘ اٹھنا‘ بیٹھنا اور دوسروں سے مخاطب ہونے کا طریقہ بدل لیں‘ آپ علم حاصل کر لیں‘ آپ گفتگو کا طریقہ سیکھ لیں اور آپ محفل کے آداب جان لیں لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے‘میں نے عرض کیا دولت سے صرف فراڈیے‘ نوسرباز اور جعلی سرمایہ کار متاثر ہوتے ہیں‘ پیسہ عموماً دولت مندوں‘ سرمایہ کاروں اوراندر سے رجے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرتا۔

لوگوں کو عقل‘ علم اور تہذیب چاہیے ہوتی ہے‘ ہم اگر غریب بھی ہوں لیکن اللہ نے اگر ہمیں عقل‘ علم اور تہذیب دے رکھی ہو تو لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح ہم پر گرتے ہیں‘ دنیا بھر کے حکمران اور رئیس صوفیاءکرام کے پاس زمین پر کیوں بیٹھ جاتے ہیں؟ کیوں کہ صوفیاءکے پاس تہذیب‘ علم اور عقل ہوتی ہے‘ آپ بھی بس تہذیب‘ علم اور عقل کا گڑ بن جائیں لوگ مکھیوں کی طرح آپ پر یلغار کر دیں گے‘ وہ حیرت سے میری طرف دیکھتے رہے‘ میں خاموش ہوا تو وہ بولے ”میری عمر 55 سال ہے۔

میں بزنس کی مصروفیت اور بڑھاپے کے باوجود علم‘ عقل اور تہذیب کیسے سیکھ سکتا ہوں“ میں نے ہنس کر جواب دیا ”آپ کچھ نہ کریں‘ آپ کوئی ٹیوٹر نہ رکھیں‘ آپ کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ نہ لیں‘ آپ بس سفر شروع کر دیں‘ آپ چند ماہ میں عقل مند بھی ہو جائیں گے‘ صاحب علم بھی اور مہذب بھی“ وہ حیرت سے میری طرف دیکھتے رہے‘ میں نے ان سے عرض کیا ”حاجی صاحب سفر اللہ تعالیٰ کا حیران کن تحفہ ہے‘ یہ علی بابا کا خزانہ ہے‘ آپ بس یہ غار کھول لیں‘ یہ آپ کو سعدی شیرازی‘ مارکوپولو‘ ابن بطوطہ‘ امام غزالی اور الخوارزمی بنا دے گا‘ یہ تمام مشاہیر بھی ان پڑھ تھے۔

یہ بس اپنے گھروں سے نکلے‘ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا اور دنیا نے انہیںمحاورے کی شکل دے دی‘ سفر ایسی یونیورسٹی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام انبیاءکرام کو بھی داخلہ دلایا تھا اور اولیاءکرام کو بھی‘ دنیا کے تمام بڑے آئیڈیاز‘ کتابیں اور فارمولے سفر کے دوران ایجاد ہوئے تھے‘یہ ایسا چمقاق پتھر ہے جو طنجہ کے کند ذہن اور کم زوربربرکو ابن بطوطہ اور وینس کے نالائق اور نکھٹو تاجرکو مارکوپولو بنا دیتا ہے‘ آپ بھی بس سفر شروع کر دیں‘ اللہ آپ کو علم بھی عنایت کرے گا‘ عقل بھی اور تہذیب بھی“۔

حاجی صاحب کو میری بات پسند نہیں آئی‘ وہ مایوس ہو کر لاہور واپس چلے گئے‘ ان کا خیال تھا میں انہیں دو تین ٹیوٹر دے دوں گا اور وہ ٹیوٹر انہیں چند ماہ میں عالم‘ عاقل اور قابل توجہ بنا دیں گے لیکن میں نے انہیں مشقت کا طویل راستہ دکھا دیا‘حاجی صاحب کی طرح اکثر لوگ مجھ سے اتفاق نہیں کرتے لیکن آپ یقین کیجیے اللہ تعالیٰ نے سفر میں حیران کن طلسماتی خوبیاں رکھی ہیں‘ یہ آپ کو اندر اور باہر دونوں طرف سے بدل دیتا ہے‘ میں نے دو سال قبل ہم خیال گروپ بنایا تھا‘ شروع میں چار سو لوگ ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔

یہ بڑھتے بڑھتے اب پانچ ہزار ہو چکے ہیں‘ یہ تمام پڑھے لکھے‘ خوش حال‘ سمجھ دار اور بااثر لوگ ہیں‘ ہم گروپ کی صورت میں سفر کرتے ہیں‘ سات دن اکٹھے رہتے ہیں‘ یہ سات دن ہمیں سات سال کا علم دے دیتے ہیں‘ سفر کیا ہوتا ہے؟ سفر کا پہلا کمال علم ہوتا ہے‘ یہ ہو نہیں سکتا آپ گھر سے نکلیں اور آپ علم کا خزانہ لے کر واپس نہ آئیں‘ سفر کا دوسرا تحفہ برداشت ہے‘ یہ آپ کو اپنے ہم سفروں کو برداشت کرنے اور خود کو دوسروں کے لیے قابل برداشت بنانے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔

ہمارے ساتھ بڑے بڑے خوف ناک سنجیدہ لوگ جاتے ہیں‘ ان کے چہرے ہنسی کو ترسے ہوتے ہیں لیکن یہ دو دن بعد کھل کر قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں‘ لوگ شروع میں اکیلے رہنا چاہتے ہیں لیکن یہ دوسرے دن اپنے روم میٹ سے الگ نہیں ہوتے‘ سفر آپ کو آپ کی خامیاں بھی بتاتا ہے‘ یہ آپ کو بتاتا ہے آپ کے وجود میں کیا کیاخرابیاں جنم لے چکی ہیں اور آپ کو اپنی صحت بہتر بنانے کے لیے کیا کیا کرنا چاہیے؟ سفر کا تیسرا تحفہ مسائل کا حل ہے۔

میرا تجربہ ہے آپ بیمار ہوں‘ مالی پریشانیوں کا شکار ہوں یا پھر آپ کسی کنفیوژن میں پھنسے ہوں آپ سفر پر روانہ ہو جائیں‘ آپ کو مسئلے کا حل مل جائے گا اور سفر کا چوتھا تحفہ نئے دوست ہیں‘ انسان ایک ایسا جانور ہے جو اپنی روٹین‘ اپنے رشتوں اور اپنے ماحول سے اکتا جاتا ہے‘ہمیں زندگی میں انرجی اور رنگوں کے لیے نئے لوگ‘ نئے رشتے چاہیے ہوتے ہیں‘آپ نے کبھی سوچا ہم بچپن اور جوانی میں کلر فل‘ متحرک اور توانا کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی چار وجوہات میں سے پہلی وجہ دوست ہوتے ہیں۔

ہم جوانی اور بچپن میں دھڑا دھڑ دوست بناتے ہیں لہٰذا ہم توانا‘ متحرک اور کلرفل ہوتے ہیں‘ہماری یہ صلاحیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہو جاتی ہے اور ہم ہر ایرے غیرے اور نتھو خیرے کی بجائے صرف ”مفید“ لوگوں کو دوست بناتے ہیں‘ ہماری یہ وہ غلطی ہے جو ہمیں ڈپرشن اورفرسٹریشن کی طرف لے جاتی ہے‘ ہم اکیلے اور بیمار ہو جاتے ہیں‘ سفر کی وجہ سے ہماری دوست بنانے کی حس دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے‘ ہم ایک بار پھر غیر مفید لوگوں کے لیے دروازے کھول دیتے ہیں اور یوں ہم دوبارہ خوش‘ توانا‘ کلرفل اور متحرک ہو جاتے ہیں۔

میں تیس سال سے اکیلا سفر کر رہا تھا‘ میں نے30 برس کی ان مسافتوں کے دوران بے شمار چیزیں سیکھیں لیکن آپ یقین کریں میں نے جو کچھ ہم خیالوں کے درمیان رہ کر سیکھا وہ میں 192 سفروں میں نہیں سیکھ سکا‘ ہم اگر اکٹھے سفر نہ کرتے تو میں یقینا عدیل ریاض اور ان کے والد محمد ریاض سے نہ ملتا‘ یہ دونوں باپ بیٹا کمال ہیں‘ والد مزدور تھا‘ روڈ ایکسیڈنٹ میں ان کا بازو کٹ گیا‘ بیٹا کالج میں پڑھتا تھا‘ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ والد کا بازو بن گیا‘ ریاض صاحب ایک بازو اور ایک گردے سے محروم ہیں۔

پیٹ میں پیشاب کا پائپ اور تھیلی لگی ہے لیکن یہ ہر سفر میں ہمارے ساتھ وہاں پہنچتے ہیں جہاں جوان بھی نہیں جا سکتے اور بیٹا تمام تر کاروباری مصروفیات کے باوجود اپنے والد کے ساتھ جاتا ہے‘ میں نے زندگی میں بہت کم والدین اور بچوں میں یہ محبت دیکھی‘ میں جب بھی ان دونوں کو دیکھتا ہوں مجھے افسوس ہوتا ہے میں اپنے والد کی اتنی خدمت نہیں کر سکا‘ مجھے ہم خیالوں کے درمیان شفیق عباسی جیسا دوست بھی ملا‘ یہ فارماسوٹیکل کمپنی کے مالک ہیں‘ میں نے بہت کم لوگوں کو ان جیسا پازیٹو اور ہمدرد پایا۔

مصر کے سفر کے دوران سردار کامران ہمارے ساتھ تھے‘ یہ میڈیکل آلات بیچتے ہیں لیکن شوقیہ فلم سازی کرتے ہیں‘ یہ حقیقتاً انٹیلیکچول اور پڑھے لکھے شخص ہیں‘ مجھے ان کے علم نے حیران کر دیا‘ ہمارے ساتھ ایک نوجوان عبدل معیث بھی جاتا ہے‘ یہ سترہ سال کا نوجوان ہے‘ والد دیسی ادویات کی کمپنی چلاتے ہیں‘ بچے میں لیڈر شپ اور خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے‘ لوگ اسے آئی بیکس کا ملازم سمجھ کر ڈانٹ دیتے ہیں اور اس کے چہرے پر ذرا سی تکلیف بھی نہیں آتی۔

عامر قریشی اور عابد خان میرے دوستوں میں نیا اضافہ ہیں‘ عامر قریشی کراچی میں سکول چلاتے ہیں جب کہ عابد خان کا تعلق ساہیوال سے ہے‘ یہ دونوں ایسے لوگ ہیں جن سے مل کر میں نے پوچھا تھا ”آپ لوگ پہلے کہاں تھے“ کراچی کے مسعود چاولہ بھی کمال انسان ہیں‘ یہ ہمدرد بھی ہیں اور خوش اخلاق بھی اور کرنل فاروق چودھری اور ان کی بیگم بھی ہماری زندگی میں اضافہ ہیں‘ یہ ایک ”ہیپی اور لولی کپل“ ہے‘ ہر وقت خوش۔میں آج یہ اعتراف کرتا ہوں اگر ہم خیالوں کا پلیٹ فارم نہ ہوتا تو میں ایسے شان دار لوگوں سے محروم رہ جاتا۔

مجھے پھر میاں فاروق جیسے لوگ بھی نہ ملتے اور میں اینگزائٹی اور ڈپریشن سے بھی نہ نکلتا چناں چہ یہ تمام لوگ میرے محسن ہیں‘ یہ ہر سفر کے دوران میری زندگی کو مزید کلرفل بنا دیتے ہیں‘ یہ اسے معنی دے دیتے ہیںچناں چہ ”ہم خیالو“ تم سب کا شکریہ۔