کوئلوں کی دلالی

  منگل‬‮ 29 اکتوبر‬‮ 2019  |  0:01

جان سی میکس ویل لیڈر شپ ٹرینر ہے‘ یہ مشی گن میں رہتا ہے‘ عمر 72 سال ہے‘ 100کتابوں کا مصنف ہے اور اس کی ایک کتاب ”دی21 ار رفیوٹ ایبل لاز آف لیڈر شپ“ لیڈر شپ کی بنیادی کتابوں میں شامل ہے‘ میکس ویل دنیا کے مختلف ملکوں میں لیڈر شپ کی ٹریننگ بھی دیتا ہے‘ مجھے چند برس قبل نیویارک میں اس کا سیشن اٹینڈ کرنے کا موقع ملا‘ وہ سیشن خاصا مہنگا تھا لیکن میں نے جو سیکھا وہ سیشن کی فیس سے کہیں قیمتی‘ کہیں مہنگا تھا۔

مثلاً میکس ویل نے ہال میں موجود شرکاءمیں سے ایک صاحب کو سٹیج پر بلایا‘ اسے اپنے سامنے کھڑا کیا‘ اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور اسے نیچے دبانا شروع کر دیا‘ وہ شخص


تگڑا تھا‘ وہ اکڑ کر کھڑا رہا‘ میکس ویل نے پورا زور لگانا شروع کر دیا‘ وہ شخص دبنے لگا اور وہ آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتا چلا گیا‘ میکس ویل بھی اسے دبانے کے لیے نیچے ہوتاچلا گیا‘ وہ شخص آخر میں تقریباً لیٹ گیا‘ میکس ویل نے اس کے بعد اسے اٹھایا اور ہم شرکاءسے مخاطب ہوا ” آپ نے دیکھا مجھے اس شخص کو دبانے کے لیے کتنا زور لگانا پڑا‘ دوسرا یہ جوں جوں نیچے جا رہا تھا میں بھی اس کے ساتھ ساتھ نیچے جا رہا تھا یہاں تک کہ ہم دونوں زمین کی سطح تک پہنچ گئے“ وہ اس کے بعد رکا‘ لمبی سانس لی اور بولا ”ہم جب بھی زندگی میں کسی شخص کو نیچے دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف ہمارا ہدف نیچے نہیں جاتا ہم بھی اس کے ساتھ زمین کی سطح تک آ جاتے ہیں جب کہ اس کے برعکس ہم جب کسی شخص کو نیچے سے اٹھاتے ہیں تو صرف وہ شخص اوپر نہیں آتا‘ ہم بھی اوپر اٹھتے چلے جاتے ہیں‘ ہمارا درجہ‘ ہمارا مقام بھی بلند ہو جاتا ہے“ وہ اس کے بعد رکا اور بولا ”جینوئن لیڈر کبھی کسی کو نہیں دباتا‘ وہ ہمیشہ دبے ہوﺅں کو اٹھاتا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ خود بھی اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے‘ وہ بلند ہوتا رہتا ہے“۔

میکس ویل کی دبانے اور اٹھانے کی تھیوری میں بہت جان ہے‘ آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ آپ کو دوسروں کو دبانے والا ہر شخص ان کے ساتھ نیچے جاتا بھی نظر آئے گا اور اپنی ساری توانائیوں سے محروم ہوتا بھی‘ ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی یہ غلطی کر بیٹھے تھے‘ یہ پچھلے 14 ماہ سے صرف ایک ہی کام کر رہے ہیں اور وہ کام ہے اپوزیشن کو دبانا‘ میاں نواز شریف عمران خان کے اقتدار میں آنے سے پہلے جیل پہنچ چکے تھے‘ آصف علی زرداری کی باری پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد آئی لیکن حکومت کا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا اور یہ دھڑا دھڑ جیلیں بھرتی چلی گئی ۔

یہاں تک کہ آج ملک کی دونوں جماعتوں کی قیادت خاندان سمیت جیلوں اور حوالات میں پڑی ہے‘ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل جیسے لوگ بھی سی کلاس بھگت رہے ہیں مگر حکومت کے احتساب کی آگ اس کے باوجود ٹھنڈی نہیں ہو رہی‘ میں احتساب‘ انصاف اور برابری تینوں کا دائمی وکیل ہوں لیکن ملک میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ برابری ہے‘ انصاف ہے اور نہ ہی احتساب ہے‘یہ سیدھا سادا انتقام اور رگڑا ہے‘ یہ لوگ اگر کرپٹ ہیں تو پھر ان کے خلاف ثبوتوں کے ساتھ مقدمات بھی بننے چاہیے تھے اور وصولیاں بھی ہونی چاہیے تھیں۔

پھر اقامے کی بنیاد پر میاں نواز شریف کی حکومت ختم نہیں ہونی چاہیے تھی اور حکومت کو اب تک مال مسروقہ بھی برآمد کر لینا چاہیے تھا مگر یہ بھی نہ ہو سکا اور ملک میں انصاف اور احتساب بھی مذاق بن کر رہ گیا‘ آپ آج کسی سڑک پر کھڑے ہو کر کسی شخص سے پوچھ لیں وہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے ساتھ حکومتی سلوک کو انتقام ہی کہے گا‘ یہ لوگ اگر کرپٹ تھے بھی تو یہ حکومتی حماقتوںسے 14 ماہ میں مجرم سے بے گناہ اور بے گناہ سے معصوم بن چکے ہیں۔

لوگوں کو اب ان پر ترس اور حکومت پر غصہ آ رہا ہے‘ رہا سہا بھرم میاں نواز شریف کی ضمانت نے اڑا دیا‘ عمران خان 19 سال سے کہتے آ رہے تھے میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا‘ یہ پچھلے 14ماہ سے یہ بھی کہہ رہے تھے میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا لیکن پھر یہ اپنے ہاتھوں سے میاں نواز شریف کو رہا کرنے پر بھی مجبور ہو گئے اور بیماری ہی سہی ”این آراو“ پر بھی مجبور ہو گئے‘ آصف علی زرداری‘ مریم نواز اور فریال تالپور کی ضمانت بھی اب زیادہ دور نہیں رہی۔

یہ لوگ بھی چند دن بعد اپنی مرضی کے ہسپتال میں علاج کرا رہے ہوں گے لہٰذا حکومت نے گرد چھان کر کیا حاصل کر لیا‘ کتنے حجوں کا ثواب سمیٹ لیا؟ میرا خیال ہے حساب کا وقت آ گیا ہے‘ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں واقعی بیمار ہیں‘میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کنٹرول نہیں ہو رہے‘ یہ خون لگنے کے بعد چند گھنٹے نارمل رہتے ہیں لیکن پھر ان کے پلیٹ لیٹس گرنا شروع ہو جاتے ہیں‘ ان کے دانتوں سے بھی خون رس رہا ہے اور جسم پر خون کے دھبے بھی نظر آ رہے ہیں۔

ڈاکٹروں نے ان کی کیموتھراپی بھی شروع کر دی ہے اور یہ بون میرو کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں لیکن یہ آپریشن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان کے پلیٹ لیٹس ڈیڑھ لاکھ تک نہیں پہنچتے‘ ملک سے باہر جانا تو دور یہ سردست ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھی منتقل نہیں ہو سکتے‘ آصف علی زرداری کی رپورٹس بھی بہت خراب ہیں‘یہ عارضہ قلب‘ مہروں‘ ہائی بلڈ پریشر‘ شوگر اورپارکینسس میں مبتلا ہیں‘ حکومت عدالت میں ان کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت بھی نہیں کرے گی اور یہ انہیں کراچی شفٹ کرنے کی اجازت بھی دے دے گی۔

کیوں؟ کیوں کہ حکومت اچھی طرح جان چکی ہے اگر آصف علی زرداری کو راولپنڈی میں کچھ ہو گیا تو سندھ نفرت سے ابل پڑے گا اور وفاق اس نفرت کو کنٹرول نہیں کر سکے گا‘ میاں نواز شریف کی صحت کی مزید خرابی بھی حکومت کو تباہی کے دہانے پر لے آئے گی اور اگر خدانخواستہ کسی ایک کی صحت مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے جڑ گئی تو آپ نتائج کا اندازہ خود کر لیجیے‘ پاکستان میں پچھلے دس برسوں سے ان ہونیاں ہو رہی ہیں‘ ایک اور ان ہونی اس وقت وفاقی دارالحکومت کے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور یہ ان ہونی مولانا فضل الرحمن کا مارچ ہے۔

یہ مارچ بہر حال کسی نہ کسی کی تباہی کا باعث ضرور بن جائے گا‘ عمران خان اس کی زد میں آئیں گے یا پھر یہ مولانا فضل الرحمن کے سیاسی کیریئر کے خاتمے کا باعث بن جائے گا ‘ مولاناکا اعتماد بہت خطرناک ہے‘ یہ پچھلے دو ماہ سے کہہ رہے ہیں ہم عمران خان کا استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے‘ یہ اعتماد‘ حکومت کی پریشانی‘ مارچ کی اجازت مل جانا اور میاں نواز شریف کی ضمانت بآواز کہہ رہی ہے حالات اب وہ نہیں ہیں جو چند ماہ پہلے تک تھے۔

چیزیں اور حالات کا رخ دونوں بدل رہے ہیں چناں چہ مولانا اگر پانچ دس لاکھ لوگوں کے ساتھ پنجاب میں داخل ہو گئے تو پھر بات ایک استعفے تک نہیں رہے گی‘ تین استعفے ہوں گے‘ مارچ کام یاب ہوتا ہے یا ناکام یہ فیصلہ چند دنوں میں ہو جائے گا تاہم یہ طے ہے مارچ کے بعد حالات یہ نہیں رہیں گے‘ حکومت اگر بچ بھی گئی تو بھی بری طرح معذور ہو چکی ہو گی اور یہ زیادہ دنوں تک اپنے قدموں پر کھڑی نہیں رہ سکے گی۔عمران خان قوم کی امید تھے‘ حکومت کو بہرحال کام یاب ہونا چاہیے تھا مگر افسوس ان لوگوں نے خود گڑھے کھودے اور یہ خود ہی ان میں جا گرے۔

آپ جب کندھوںپر بیٹھ کر آئیں گے تو پھر آپ کندھوں کی بے وفائی کا رونا نہیں رو سکتے‘ آپ کو بہرحال ایک صفحے پر رہنا پڑتا ہے‘ آپ کو بنانے والوں کی طاقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے مگر عمران خان اب لیڈر بن رہے تھے‘ یہ خود کو اتھارٹی سمجھنا شروع ہو گئے ہیں چناں چہ ان کے ٹائروں سے ہوا نکلنا ضروری تھی اور یہ اب نکل رہی ہے‘ کندھوں پر چڑھنا عمران خان کی پہلی بڑی غلطی تھی‘ ان کی دوسری بڑی غلطی اپنی ساری توانائی اپوزیشن کو دبانے پر خرچ کردینا تھی۔

یہ جتنا زور میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو نیچے دبانے یا رگڑا لگانے پر لگاتے رہے‘ یہ اگر اتنی توجہ گورننس اور پرفارمنس پر دے دیتے تو آج مورخ تاریخ کو نئے زاویے سے لکھ رہا ہوتا‘ آج لوگ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو فراموش کر چکے ہوتے مگر افسوس عمران خان نے زرداری اور نواز شریف دونوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا‘ حکومت نے ثابت کر دیا یہ ملک ان کے بغیر نہیں چل سکتا‘ عمران خان نے کیا کیا؟ آپ صرف ایک واقعے سے اندازہ کر لیجیے۔ 24 اکتوبر کو مولانا طارق جمیل میاں نواز شریف کی عیادت کے لیے گئے۔

یہ ایک گھنٹہ ہسپتال میں بیٹھے رہے‘ میاں نواز شریف نے اس دوران کوئی شکوہ نہیں کیا‘ یہ بھی نہیں کہا آپ کن لوگوں کے ساتھ مل کر ریاست مدینہ تلاش کر رہے ہیں لیکن جب مولانا اٹھنے لگے تو نواز شریف نے ان سے کہا ”آپ بس ایک دعا کریں‘ اللہ تعالیٰ کسی کو دشمن دے تو اعلیٰ ظرف دے“ یہ ایک فقرہ کافی ہے‘ افسوس حکومت احتساب بھی نہ کر سکی اور یہ اعلیٰ ظرفی سے بھی محروم ہو گئی‘ آخر اس کے ہاتھ راکھ اور خاک کے سوا کیا آیا؟یہ لوگ اپنی ساکھ بھی کھو بیٹھے اور یہ عوام کے اعتماد کی دولت سے بھی محروم ہو گئے‘ ہم نے آخر کوئلوں کی دلالی سے کیا پایا؟ اور اس دلالی میں اگر زرداری صاحب یا میاں صاحب کوکچھ ہو جاتا ہے تو پھر حکومت کہاں ہو گی؟ ذرا سوچیے اور بار بار سوچیے۔