طفیلی پودے‘ یتیم کیڑے

  اتوار‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2015  |  0:01

وہ 965ءمیں پیدا ہوا‘ بصرہ علم اور ادب کا گہوارہ تھا‘ بنو عباس کی حکومت تھی‘المقتدر خلیفہ تھا‘ مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کی‘ علماءکی قربت اختیار کی اور دربار تک پہنچ گیا‘ خلیفہ نے اسے وزیر بنا لیا‘ وہ مذہبی کش مکش کا دور تھا‘ فرقے بن رہے تھے‘ فرقے ٹوٹ رہے تھے‘ دجلہ اور فرات کے کنارے مناظرے ہوتے تھے اور مہینوں چلتے تھے‘ وہ اس افراتفری کودیکھتا رہا اوراس کے دل میں خانقاہوں‘ مذہبی بحثوں اور فرقہ وارانہ چپقلش کے خلاف نفرت پیدا ہوتی رہی‘ وہ کوئی ایسا کام کرنا چاہتا تھا جس سے انسانیت کی خدمت بھی ہو اور رہتی دنیا تک اس کا نام بھی قائم رہے مگر سسٹم موقع دینے کےلئے تیار نہیں تھا‘ وہ تنگ آ گیا‘ اس نے ایک دن

رخت سفر باندھا اور عراق سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے مصر آ گیا‘ مصر میں اس وقت الحکم کی حکومت تھی‘ الحکم العزیزباللہ کے انتقال کے بعد گیارہ سال کی عمر میں بادشاہ بنا تھا‘ بادشاہ ایک عجیب و غریب شخص تھا‘ وہ بیک وقت دانشور بھی تھا اور سنکی بھی۔ اس نے دنیا بھر کے عالم اور سائنس دان مصر میں اکٹھے کر لئے لیکن ساتھ ہی فوج کو ملک بھر کے کتے مارنے کا حکم دے دیا‘ وہ کتوں کی آواز سے الرجک تھا‘ اہلکاروں کو معمولی باتوں پر قتل کرا دیتا تھا‘ وہ قاہرہ پہنچا ‘ الحکم نے اسے دریائے نیل پر ڈیم بنانے کی ذمہ داری سونپ دی‘ انجینئرز کی ٹیم بنائی اور نیل کے کنارے سفر شروع کر دیا‘ دریا کا جائزہ لیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچا ”ہمارے پاس کوئی ایسی ٹیکنالوجی نہیں‘ ہم جس کے ذریعے اتنا بڑا ڈیم بناسکیں‘ یہ منصوبہ مصر کو معاشی طور پر تباہ کر دے گا“ وہ واپس دربار میں آیا اور اپنی ناکامی تسلیم کر لی‘ بادشاہ ناراض ہو گیا‘بادشاہ کی ناراضی کا ایک ہی مطلب ہوتا تھا! موت۔ بادشاہ نے اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا لیکن وہ حکم کی بجا آوری سے پہلے اٹھا اور دیوانہ وار ناچنا شروع کر دیا‘ وہ ناچتا جاتا تھا اور اپنے کپڑے پھاڑتا جاتا تھا‘ وہ اول فول بھی بک رہا تھا‘ بادشاہ نے طبیب بلائے‘ طبیبوں نے اسے پاگل قرار دے دیا‘بادشاہ نے اپنا فیصلہ واپس لیا اور اسے تامرگ ”ہاﺅس اریسٹ“ کی سزا دے دی یوں وہ شخص جس نے آنے والے زمانے میں سائنس کا پورا قبلہ تبدیل کر دیا‘ جو نہ ہوتا تو شاید آج دنیا میں کیمرہ ہوتا‘ دوربین ہوتی‘ مائیکرو سکوپ ہوتی‘ عینک ہوتی اور نہ ہی آنکھ کا آپریشن ہوتا اور یہ بھی ممکن تھا‘ ہم آج تک روشنی اور سائے کے تمام بھیدوں سے ناواقف ہوتے اور یہ بھی ہو سکتا تھا ہم آج بھی اس دور میں زندہ ہوتے جس میں انسان یہ سمجھتا تھا ”روشنی ہماری آنکھ سے نکلتی ہے‘ یہ باہر سے آنکھ میں داخل نہیں ہوتی“ اور یہ بھی ہو سکتا تھا ہم آج بھی اندھوں کو خدائی سزا وار سمجھ کر آنکھوں کی بیماریوں کو ناقابل علاج سمجھ رہے ہوتے‘ہم آج جہاں ہیں یہ سب اس کی محنت کا نتیجہ تھا‘ وہ ہمارا محسن تھا۔ ہم قصے کی طرف واپس آتے ہیں‘ بادشاہ کے حکم سے اسے الازہر مسجد کے قریب گھر میں قید کر دیا گیا‘ اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور اس چھوٹے سے گھر میں کام شروع کر دیا‘ وہ 1021ءتک اس گھر میں قید بھی رہا اور پاگل بھی رہا یہاں تک کہ خلیفہ الحکم کا انتقال ہو گیا۔ خلیفہ کی تدفین کے بعد اس کے گھر کا دروازہ کھولا گیا تو وہ اس وقت تک 92 سائنسی مضامین لکھ چکا تھا اور دو سو کے قریب عظیم ایجادات کی بنیاد رکھ چکا تھا‘ ان ایجادات میں سات جلدوں پر مشتمل وہ کتاب ”کتاب المنظر“ بھی شامل تھی جس نے دنیا کو پہلی بار بتایا روشنی آنکھ میں باہر سے داخل ہوتی ہے‘ جس نے دنیا کو عدسے‘ آئینے‘ عکس‘ روشنی اور رنگوں کی جادوگری کا کھیل سمجھایا‘ جس نے دنیا کو بتایا دوربین بھی بنائی جا سکتی ہے‘ جس نے بتایا‘ روشنی سفر کرتی ہے اور اس کی باقاعدہ ایک رفتار ہوتی ہے‘ اس میں میں توانائی کے ایٹم ہوتے ہیں اور یہ ایٹم سیدھے سفر کرتے ہیں اور جس نے دنیا کو بتایا کیمرہ بھی بنایا جا سکتا ہے اور آپ مناظر کو اپنے پاس محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں‘ وہ پاگل ”ہاﺅس اریسٹ“ سے باہر نکلا تو دنیا کو چاند اور سورج کے گرہن کی سائنسی سمجھ آئی‘ ستاروں اور سیاروں کا کھیل (علم نجوم) سمجھ آیا‘ ٹیلی سکوپ اور مائیکرو سکوپ کی بنیاد پڑی اور عمل اور ردعمل کا وہ اصول سمجھ آیا جس پر کام کر کے نیوٹن نے اپنے پہلے قانون کی بنیاد رکھی‘ وہ دنیا کا پہلا انسان تھا جس نے آنکھ کی ہیئت سمجھی اور سمجھائی‘جس نے بتایا آنکھ کے تین حصے ہوتے ہیں‘ لینس‘ ریٹنا اور قرینہ‘ آنکھ کے ان تین حصوں کی دریافت نے آنکھ کی سرجری کی بنیاد بھی رکھی اور عینک بھی بنائی‘ دنیا میں پچھلے ہزار برسوں میں آنکھ کے جتنے آپریشن ہوئے‘ جتنے لوگوں کی آنکھوں کا کھویا نور واپس آیا‘ وہ سب اس کے شکر گزار ہیں‘ وہ پاگل کتنا بڑا آدمی تھا‘ آپ یہ جاننے کےلئے انٹرنیٹ پر جائیے اور ہزار سال میں اس پر ہونے والی ریسرچ پڑھیے‘ آپ کو پوری سائنس اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھی نظر آئے گی‘ وہ شخص‘ جی ہاں اس کا نام ابوعلی الحسن بن حسین ابن الہیشم تھا۔ ابن الہیشم کو دنیا سے گزرے ہزار برس ہو گئے ہیں‘ ہم نے ان ہزار سالوں میں الحکم جیسے سینکڑوں ایسے بادشاہ پیدا کئے جو ابن الہیشم جیسے ٹیلنٹڈ لوگوں کو پاگل قرار دیتے رہے‘ ان کے سر اتارتے رہے لیکن ہم نے ابن الہیشم جیسا کوئی دوسرا سائنس دان پیدا نہیں ہونے دیا‘ دنیا میں ہر سال 70 لاکھ لوگ اندھے پن کا شکار ہوتے ہیں‘دنیا کوابن الہیشم نے1021ءمیں بتایا‘ اندھے پن کی 90 فیصد وجہ ”قرینہ“ ہوتا ہے‘ہم قرینے کی سائنس پر توجہ دیں تو اندھا پن ختم ہو جائے گا‘ دنیا ہزار سال سے ابن الہیشم کی لائین پر کام کر رہی ہے‘ یہاں تک کہ تین ہفتے قبل چین کے ایک سائنس دان نے مصنوعی قرینہ ایجاد کر لیا‘ یہ ایک عظیم سائنسی ایجاد ہے‘ اس انقلاب کے بعد دنیا کے 50 فیصد اندھوں کی بینائی لوٹ آئے گی‘ ایک پرتگالی نیورلوجیسٹ Joao Lobo Antune نے مصنوعی آنکھ بھی بنا لی‘ یہ آنکھ بائیونک ٹیکنالوجی سے بنائی گئی اور یہ نابیناﺅں کے دماغی پردے پر الیکٹرانک سرکٹس اور انفرا ریڈ شعاعوں کے ذریعے ایسی تصویر بنائے گی جس سے وہ عام انسانوں کی طرح دیکھ سکیں گے‘ یہ تصور بھی ابن الہیشم نے دیا تھا‘ امریکا کی ایک کمپنی Abiomedine نے مصنوعی دل تیار کر لیا‘ یہ دل جولائی 2001ءمیں سینٹ لوئس ہسپتال میں مریض کے جسم میں لگایا گیا‘ یہ دل پندرہ برسوں سے نارمل دلوں کی طرح کام کر رہا ہے‘ اس دل کےلئے ٹیوبز اور لائینز تک کی ضرورت نہیں پڑتی‘ یہ ہارٹ سرجری اور جگر کی پیوندکاری کے بعد دنیا کا بڑا طبی انقلاب ہے‘یہ تصور بھی ابن الہیشم نے دیا تھا‘ اس نے 1021ءمیں دعویٰ کیا تھا‘ دنیا میں ایسا وقت آئے گا جب انسان جسم کے سارے اعضاءبنا لے گا‘ امریکی سائنس دان Dr. Kenneth Matsumara نے 2001ءمیں مصنوعی جگر تیار کیا‘ ٹائم میگزین نے اسے 2001ءمیں دنیا کی بہترین ایجاد قرار دیا‘ 2015ءمیں اس مصنوعی جگر میں ایک نئی بریک تھرو ہوئی‘یہ بریک تھرو آنے والے دنوں میں طبی دنیا میں بھونچال مچا دے گی‘ یہ جگر جس دن مارکیٹ میں آجائے گا اس دن لیور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت نہیں رہے گی‘ David Gow نام کے ایک سائنس دان نے جولائی 2007ءمیں دنیا کا پہلا ”بائیونک ہینڈ“ بنا لیا‘یہ مشینی ہاتھ ہے‘ یہ ہاتھوں سے محروم لوگوں میں لگایا جائے گا اور یہ دماغ سے باقاعدہ سگنل لے کر عام لوگوں کے ہاتھوں کی طرح کام کرے گا‘ یہ ہاتھ 2015ءمیں باقاعدہ مارکیٹ ہو جائے گا اور خون انسانی جسم کا اہم ترین جزو ہے‘ یہ چار اجزاءکا مرکب ہوتا ہے‘ سرخ خلئے‘ سفید‘ خلئے‘ پلازما اور پلیٹ لیٹس۔ یہ جسم کو آکسیجن‘ توانائی اور قوت مدافعت دیتا ہے‘ دنیا میں 1600ءسے مصنوعی خون پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں‘سائنس دانوں نے 2015ءمیں ”متبادل خون“ بنا لیا‘ یہ خون حادثوں کے بعد مریض کو دیا جائے گا تا کہ اسے ہسپتال تک پہنچایا جا سکے‘ یہ سارے تصورات اس ابن الہیشم نے پیش کئے جسے پاگل قرار دے کر گھر میں بند کر دیا گیا تھا۔ دنیا میں اس وقت ایک ہزار شعبے ہیں اور ان ہزار شعبوں میں ہزاروں لاکھوں بریک تھرو ہو رہی ہیں مگر بدقسمتی سے یہ تمام بریک تھرو ابن الہیشم کی قوم کے دائیں بائیں ہو رہی ہیں‘کیوں؟ کیونکہ ابن الہیشم کی قوم ہزار سال پہلے ایسی ایجادات کوصرف پاگل پن قرار دیتی تھی‘ تاریخ میں ہزار سال پہلے ابن الہیشم جیسے لوگ پاگل بن کر سزا سے بچ جاتے تھے لیکن آج ابن الہیشم کی قوم ایسی ”گستاخیوں“ پر ابن الہیشم جیسے لوگوں پر کفر کا فتویٰ لگاتی ہے‘ اسے سرے عام قتل کرتی ہے اور اسلامی دنیا کی کوئی حکومت‘ کوئی عدالت قاتلوں کا ہاتھ نہیں روک سکتی‘ آپ اندازہ لگائیے‘ ہم نے ہزار سال میں کتنی ترقی کی؟ ہم پاگل پن سے قتل تک پہنچ گئے‘ آپ ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کرٹھنڈے دل سے سوچئے‘ کیا سائنس اور ٹیکنالوجی کفر ہے؟ کیا یہ مادیت ہے؟ اور کیا یہ بندے کو خدا سے دور لے جاتی ہے؟ مجھے یقین ہے آپ کا دل جواب دے گا‘ نہیں‘ ہر گز نہیں! یہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی عقل کے معجزے ہیں اور یہ معجزے ہمارا اللہ تعالیٰ کی کبریائی پر ایمان مضبوط بناتے ہیں‘ ٹیکنالوجی صرف ہماری معاون ہے‘ یہ خدا نہیں ہوتی‘ ہم اگر ابن الہیشم کی طرح اللہ پر پختہ ایمان رکھیں‘ اس سے رحم اور رہنمائی طلب کریں اور اس کے بعد اللہ کی بخشی عقل اور علم سے استفادہ کریں اور ابن الہیشم کی طرح دیوانہ وار کام کریں‘ ہم بھی اللہ کے بندوں کی زندگی آسان بنائیں تو ہم بھی دکھی انسانوں کے مددگاروں میں شامل ہو جائیں گے‘ ہم بھی ابن الہیشم کی طرح انسانیت کے محسن کہلائیں گے لیکن ہم نے بدقسمتی سے شکر‘ محنت اور مدد کا راستہ چننے کی بجائے داعش کا راستہ چن لیا اور ہم ابن الہیشم کی بجائے ابوبکر بغدادی بن گئے‘ ہم کیسے لوگ ہیں‘ ہم ہزار سال سے طفیلی پودوں اور یتیم کیڑوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم دوسروں کی ریسرچ کا خون چوستے ہیں اور خود کو دنیا کی عظیم ترین قوم کہتے ہیں‘ ہمیں کب شرم آئے گی‘ ہم کب جاگیں گے اور ہم کب انسان بن کر انسانی زندگی گزاریں گے‘ اے ابن الہیشم ہمیں گائیڈ کرو! آپ جہاں بھی ہو‘ ہماری رہنمائی کرو کیونکہ تمہاری قوم نے تمہیں بھی فراموش کر دیا ہے اور تمہارے رب کو بھی۔


زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎