سید کائنات سرور کونین حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور پیغمبر تھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ سے متعلق پہلی امتوں کو خبر دی ، مختلف صحیفوں اور 4آسمانی کتابوں میں آپ کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔ اس حوالے سے یہودیوں کی کتاب تورات قابل ذکر ہے جبکہ بائبل میں کئی جگہوں پر آپ ﷺ کا ذکر ہے۔تورات میں ’کتاب سلیمان ‘ میں نغمہ سلیمان میں ایک آیت میں آپ ؐ کا نام سے ذکر ہے۔
جب کہ بائبل میں آپ کا حلیہ مبارک تک درج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کو آپ کے آنے کی خوشخبری دی ، حضرت موسیٰ ؑ اورحضرت عیسیٰ ؑ نے آپﷺ کے آنے کی اپنی امت کو خبر دی۔اس بات کی تصدیق حضور اکرم ﷺ کے وصال مبارک کے بعد کا ایک واقعہ سے بھی ملتی ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد کسی ایک جمعرات کی صبح کو ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اونٹ پر سوار ایک سفید ریش بوڑھا آیا۔ اس نے اپنی سواری کو مسجد کے دروازے پر باندھا اور یہ کہتے ہوئے اندر داخل ہوا ’’تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت نازل ہو، کیا تم میں اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں۔‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’اے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے پوچھنے والے! تجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کام ہے؟‘‘اس نے کہا کہ میں یہودی علماء میں سے ہوں اور اَسی (80) سال سے تورات کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ اس میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے اور میں اس ذکر سے متاثر ہو کر آیا ہوں۔ اس نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔’’اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعتِ اسلام کیلئے حاضر ہوا ہوں۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تو وصال ہو چکا ہے۔ اس پر اس عالم نے افسوس کا اظہار شروع کر دیا اور کہا ’’کیا تم میں ان کی اولاد ہے؟‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ۔ وہاں جا کر اس نے اپنا تعارف کروایا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ
میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں میں سے کسی کپڑے کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی ا?ٰ عنہا نے اپنے حضرت امام حسین علیہ السلام سے فرمایا ’’وہ کپڑا لاؤ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بوقتِ وصال پہنا ہوا تھا۔ جب وہ کپڑا لایا گیا تو اس عالم نے اسے اپنے چہرے پر ڈال لیا۔ وہ اس کی خوشبو کو سونگھتا اور خوشبو سونگھتے ہوئے بار بار کہتا کہ
اس صاحبِ ثوب پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔‘‘اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا’’حضور کے اوصافِ جمیلہ کا تذکرہ اس طرح کرو کہ گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔‘‘یہ بات سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔’’حضرت علی رضی اللہ عنہ شدت کے ساتھ رو پڑے اور کہنے لگے : اے سائل خدا کی قسم!
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا جس قدر تجھے اشتیاق ہے مجھے اس سے کہیں بڑھ کر اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کا شوق ہے۔‘‘بعد ازاں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیہ اور سراپا مبارک کا ذکر بڑی تفصیل سے فرمایا، جس کی من و عن تصدیق اس یہودی عالم نے سابقہ کتب سماوی کی روشنی میں کی اور مسلمان ہو گیا۔



















































