ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، شاہکار شرم وحیا کی مظلوم شہادت اور خدمات پرایک انتہائی خوبصورت تحریر

datetime 21  ستمبر‬‮  2016 |

سفید مائل زردی رنگت کے سفید ریش بزرگ اپنے مکان کے دریچہ پر کھڑے ہوئے تھے۔ بزرگ کے پر نور چہرے پر چیچک کے نشانات تھے۔ زلفیں کا ندھوں تک آئی ہوئی تھیں۔وہ اپنے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے باغیوں سے انتہائی مشفقانہ انداز میں فرما رہے تھے:
’’میری دس خصال میرا رب ہی جانتا ہے مگر تم لوگ آج ان کا لحاظ نہیں کر رہے
٭میں اسلام لانے میں چوتھا ہوں
٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی میرے نکاح میں دی
٭جب پہلی صاحب زادی فوت ہوئی تو دوسری میرے نکاح میں دے دی
٭میں نے پوری زندگی کبھی گانا نہیں سنا
٭میں نے کبھی برائی کی خواہش نہیں کی
٭جس ہاتھ سے حضور ﷺکی بیعت کی اس ہاتھ کو آج تک نجاست سے دور رکھا
٭میں نے جب سے اسلام قبول کیا کوئی جمعہ ایسا نہیں گزرا کہ میں نے کوئی غلام آزاد نہ کیا ہو اگر کسی جمعہ کو میرے پاس غلام نہیں تھا تو میں نے اس کی قضاء کی
٭زمانۂ جاہلیت اور حالت اسلام میں کبھی زنا نہیں کیا
٭میں نے کبھی چوری نہیں کی
٭میں نے نبی ﷺکے زمانہ میں ہی پورا قرآن حفظ کر لیا تھا
اے لوگو! مجھے قتل نہ کرو اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھ سے توبہ کرا لو۔ واللہ! اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر کبھی بھی تم اکٹھے نماز پڑھ سکو گے اور نہ دشمن سے جہاد کر سکو گے۔ اور تم لوگوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا‘‘۔

یہ بزرگ تیسرے خلیفۂ راشد، سیدناعثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ تھے۔
آپؓ خاندان بنو امیہ سے تھے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کاتب وحی بھی تھے اور ناشر قرآن بھی۔ آپ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے چوتھے فرد تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد تھے۔

آپ کی ولادت عام الفیل سے چھٹے سال ہوئی ۔رسول اللہ ﷺ کے اعلانِ نبوت کے بعد آپ چوتھے شخص ہیں ،جس نے اسلام قبول کیا.

ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں حضرت عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر رسول اللہ ﷺ سے جاملتاہے ۔حضرت عثمان کی نانی رسول اللہ ﷺ کی سگی پھوپھی تھیں ،اس رشتے سے آپ رسول اللہ اﷺْ کے قریبی رشتے دار تھے ۔
آپ کی ولادت عام الفیل سے چھٹے سال ہوئی ۔رسول اللہ ﷺ کے اعلانِ نبوت کے بعد آپ چوتھے شخص ہیں ،جس نے اسلام قبول کیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ کے ساتھ کردیا ،پھر حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت رقیہؓ نے مکہ سے حبشہ ہجرت فرمائی ۔

’’حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا بیان کیا،اُس وقت ایک شخص کپڑا اوڑھے ہوئے گزرا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ شخص اُس دن(یعنی فتنوں کے دورمیں) ہدایت پر ہوگا ‘‘،میں نے جاکر دیکھا تو وہ شخص حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے، (ترمذی ) ‘‘ ۔

۔حضرت حسان بن عطیہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اے عثمانؓ !اللہ تعالیٰ نے تمہارے اگلے اور پچھلے کام بخش دیئے اور وہ کام جو تم نے پوشیدہ کیے اورجو ظاہر کیے اوروہ جو قیامت تک ہونے والے ہیں ‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں تھیں سیدہ زینبؓ، سیدہ رقیہ ؓ، سیدہ ام کلثوم ؓاور سیدہ فاطمہؓ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا۔

سیدہ رقیہؓ سے سیدنا عثمانؓ کے فرزند حضرت عبداللہؓ پیدا ہوئے اور انہی عبداللہؓ کے نام پر سیدنا عثمانؓ کی کنیت ’’ابو عبداللہ‘‘ تھی۔مروج الذہب کے مطابق ان عبداللہؓ بن عثمانؓ کا انتقال 76سال کی عمر میں ہوا۔غزوۂ بدر کے موقع پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا جو کہ اس وقت بستر علالت پر تھیں، کی تیمارداری کے لیے رک گئے اور غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے۔ مگر بقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اصحاب ِبدر کے مثل درجہ عطا ہوا۔
سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال پرُ ملال کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تیسری بیٹی، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ جب وہ بھی وفات پا گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں اسی طرح ایک کے بعد ایک، عثمان کے نکاح میں دیتا جاتا۔ خیال رہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ وہ واحد ہستی ہیں جن کے نکاح میں کسی پیغمبر کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے آئی ہوں۔ اس صفت میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے سیدنا عثمانؓ کا لقب ’’ذوالنورین‘‘ یعنی ’’دو نوروں (روشنیوں) والا‘‘ ہے۔
سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ 12 سال تک امت ِمسلمہ کے خلیفہ رہے اور کئی ممالک فتح کرکے خلافت اسلامیہ میں شامل کیے۔ آذر بائیجان، آرمینیا، ہمدان کے علاقوں میں بغاوت ہوئی، جس کا قلع قمع امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہی ہوا۔ اور اس بغاوت کا سدباب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور کی بغاوتوں کے سدباب کی طرح ہی اہم تھا۔ مزید یہ کہ ایران کے جو علاقے مثلاً بیہق، نیشاپور،شیراز، طوس، خراسان وغیرہ بھی خلافت عثمانی میں ہی فتح ہوئے اور قیصر روم بھی آں محترمؓ کے دور میں ہی واصل نار ہوا۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہی بحری جہاد کا آغاز ہوا۔ بحری جہاد کی ابتداء کرنے والے لشکر کے لیے جنت کی خوش خبری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لسان مبارکہ سے ارشاد فرما چکے تھے۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شرم و حیا اور جود و سخا کے پیکر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کبھی زنا نہیں کیا اور نہ ہی کبھی شراب نوشی کی۔ آپ رضی اللہ عنہ انتہائی نرم خو اور سخی تھے۔ متعدد مرتبہ نادار اور مجبور مسلمانوں کے لیے اپنا مال بغیر کسی قیمت کے فی سبیل اللہ خرچ کیا۔ اور کئی دفعہ جہاد کے لیے مالی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مال و زر پیش کیا۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی مبارک سے کپڑا نسبتاً زیادہ اوپر اٹھا ہوا تھا اسی اثناء میں علم ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ چلے آرہے ہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عجلت میں کپڑا نیچے کر دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے جانے کے بعد ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس ضمن میں استفسار فرمایا تو آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ: کیا میں اُس سے حیا نہ کروں جس سے آسمان کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں(مسلم)۔
صلح حدیبیہ کے سال نبی علیہ السلام اپنے صحابہ کرامؓ کی معیت میں عمرہ کے ارادہ سے جانب مکہ عازم سفر ہوئے مگر معلوم ہوا کہ کفار مکہ آپﷺ اور صحابہ کرامؓ کے عمرہ ادا کرنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تو آپ ﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو اپنا سفیر بنا کر گفت و شنید کے لیے مکہ بھیجا جہاں کفار نے سیدنا عثمانؓ کی شہادت کی افواہ اڑادی۔ اس پر نبی علیہ السلام کو انتہائی رنج و قلق ہوا اور آپﷺ نے سیدنا عثمانؓ کے قتل ناحق کا انتقام لینے کے لیے اپنے ساتھ موجود تقریباًڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ سے فرداً فرداًبیعت لی، اسے بیعت رضوان کہا جاتاہے۔
بیعت ِرضوان کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست ِمبارک کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دست مبارک قرار دیتے ہوئے اُنؓ کی طرف سے بیعت کی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بدولت تقریباً ڈیڑھ ہزار مسلمانوں سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اللہ آپ کو ایک قمیص پہنائے گا (یعنی خلافت عطا فرمائے گا) لوگ چاہیں گے کہ آ پ وہ قمیص اتار دیں(یعنی خلافت سے دست بردار ہو جائیں) اگر آپ لوگوں کی وجہ سے اس سے دست بردار ہوئے تو آپ کو جنت کی خوش بو بھی نہ ملے گی۔ یہی وجہ تھی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ باغیوں کے پرُ زور مطالبہ کے باوجود بھی منصب ِخلافت سے دست بردار نہ ہوئے اور اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر جان لٹا دی۔
باغیوں کے محاصرہ کے دوران آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کے دریچہ سے ظاہر ہو کر ان عاقبت نا اندیش باغیوں کو تنبیہ کی مگر اُن کی عقلیں ماؤف اور ضمیر مردہ ہو چکے تھے۔اسی سازش کے نتیجہ میں خلیفۂ وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیاگیا۔ اور وہ بھی ایسے وقت میں کہ اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور عام مسلمان بغرض حج مکہ مکرمہ میں تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلافت سے دست بردار ہونے کو کہا گیا مگر بحکم نبویﷺ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ مطالبہ رَد کر دیا۔ اور چالیس دن بھوکے پیاسے روزہ کی حالت میں ان باغیوں کے محاصرہ میں اپنے گھر میں ہی مقید رہے۔ دن رات نماز و تلاوت قرآن میں مشغول رہے۔ اوربالآخر 18ذی الحج، 35ہجری کو دوران تلاوت شہید کر دیے گئے۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
جود و سخا، پیکر شرم و حیا، کاتب ِوحی، ذوالنورین،خلیفۂ راشد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت و منقبت کے تفصیلی احاطہ کے لیے یہ مضمون انتہائی مختصر ہے اس لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت مطہرہ کے محض چند پہلو سپرد تحریر کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما ئے بروایت ترمذی ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ہر نبی کے کچھ رفیق ہوتے ہیں، میرے رفیق جنت عثمانؓ ہیں۔

حضرت عثمان ؓ تمام غزوات میں آںحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ جان و مال سے شریک رہے، البتہ غزوہ بدر (17رمضان المبارک2ھ) میں اپنی اہلیہ حضرت رقیہؓ کی علالت کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔ آںحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم پر وہ بیوی کی دیکھ بھال اور علاج کی خاطر مدینہ میں رک گئے، حضرت رقیہؓ صحت یاب نہ ہوسکیں اور ٹھیک اسی وقت حضرت زید بن حارثؓ غزوہ بدر کی فتح کی خوش خبری لے کر مدینہ میں داخل ہوئے اس وقت حضرت عثمانؓ اپنی زوجہ محترمہ صاحب زادی رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی تدفین میں مصروف تھے۔
تاہم چوں کہ غزوہ بدر میں آںحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں شرکت نہیں کی تھی، اس لیے آپؐ نے حضرت عثمانؓ کو بھی مال غنیمت میں سے مجاہدین کے ساتھ حصہ دیا۔6ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سفارت کے لیے حضرت عثمانؓ کو منتخب فرمایا۔ یہ عمل بذات خود حضرت عثمانؓ کی فضیلت اور ان پر مکمل اعتماد نبویؐ کی دلیل ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ جب حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر آںحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپؐ نے فوراً ان کا بدلہ لینے کے لیے تیاری شروع کردی۔ اس کے علاوہ آںحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا اور ان کی طرف سے اپنے سے بیعت لی۔ یہ اتنا بڑا شرف اور امتیاز ہے کہ اس میں کوئی اور شخص ’’ذوالنورین‘‘ کا شریک نہیں ہوسکتا۔
حضرت عثمانؓ آںحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اعلیٰ درجے کی مشاورتی کونسل کے رکن تھے۔ اس بنا پر کوئی غزوہ ہو یا کوئی اور اہم معاملہ اس میں شریک رہتے تھے۔ مکہ میں جب کفار قریش کے ظلم و ستم بڑھے تو اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم سے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ ہجرت کے بعد تعمیر مسجد نبویؐ میں عام لوگوں کی طرح شریک ہوئے، کچھ دن بعد یہ مسجد ضرورت کے لیے ناکافی پڑ گئی تو مسجد کے قریب کا ایک قطعہ پچیس ہزار درہم میں خرید کر نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایماء پر مسجد میں شامل کردیا۔

بروایت بخاری، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان ذوالنورین رضوان اللہ علیہم اجمعین احد پہاڑ پر چڑھ رہے تھے کہ پہاڑ ہلنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ احد! رک جا! اس وقت تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔

امیرالمؤمنین سیدنا عثمانؓ چوںکہ مکتب نبوت کے ایک اہم اور لائق شاگرد تھے انہوں نے اپنے مربی نبی کریمﷺ کی تربیت کے نتیجہ میں جہاں اور کئی مواقع پر آن حضرتﷺ کی تربیت کے مطابق قرآن و سنت کو سامنے رکھتے ہوئے احسن اندازاختیار فرمائے وہاں سیدنا عثمانؓ نے وقتاً فوقتاً علم و حکمت اور دانائی و تدبر سے بھر پور کلمات بھی ارشاد فرمائے جن میں سے چند ایک پیش ہیں :
٭اللہ کے ساتھ تجارت کرو تو بہت نفع ہو گا
٭بندگی اس کو کہتے ہیں کہ احکام الہٰی کی حفاظت کرے اور جو عہد کسی سے کرے اس کو پورا کرے اور جوکچھ مل جائے اس پر راضی ہو جائے اور جو نہ ملے اس پر صبر کرے
٭دنیا کی فکر کرنے سے تاریکی پیدا ہوتی ہے اور آخرت کی فکر کرنے سے روشنی
٭ متقی کی علامت یہ ہے کہ اور سب لوگوں کو تو سمجھے کہ وہ نجات پا جائیں گے اور اپنے آپ کو سمجھے کہ ہلاک ہو گیا
٭سب سے زیادہ بربادی یہ ہے کہ کسی کو بڑی عمر ملے اور وہ سفر آخرت کی تیاری نہ کرے
٭دنیا جس کے لیے قید خانہ ہو قبر اس کے لیے باعث راحت ہوگی
٭اگر تمہارے دل پاک ہو جائیں تو کبھی قرآن شریف کی تلاوت یا سماعت سے سیری نہ ہو
٭محاصرہ کے زمانہ میں جب اتمام حجت کے لیے آپ نے بالاخانہ سے سر باہر نکالا تو فرمایا مجھے قتل نہ کرو بلکہ صلح کی کوشش کرو، خدا کی قسم میرے قتل کے بعد پھر تم لوگ متفقہ قوت کے ساتھ قتال نہ کر سکو گے اور کافروں سے جہاد موقوف ہو جائے گا اور باہم مختلف ہو جاؤ گے
٭محاصرہ کے زمانہ میں لوگوں نے پوچھا کہ امیرالمؤمنین! آپ تو مسجد نہیں جا سکتے انہی باغیوں میں سے کوئی شخص امام بنتا ہے، ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں تو آپ نے فرمایا کہ نماز اچھا کام ہے جب لوگوں کو اچھا کام کرتے ہوئے دیکھو تو ان کے ساتھ شریک ہو جا یا کرو، ہاں برے کاموں میں ان کے ساتھ شرکت نہ کرو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…