منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

آسیب کا خوف، 600 طلبہ نے بورڈنگ اسکول چھوڑ دیا

datetime 17  اگست‬‮  2026 |

ممبئی (این این آئی)بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ایک سرکاری بورڈنگ اسکول کے تقریبا 600 طلبہ نے چند طالبات کے غیر معمولی رویے کے بعد اسکول چھوڑ دیا۔

بھاتی میڈیا کے مطابق 22 جولائی کو 4 طالبات اچانک بے قابو ہوکر رونے اور بعد ازاں غیر معمولی طور پر ہنسنے لگیں جس کے بعد یہ افواہ پھیل گئی کہ ان طالبات پر آسیب کا سایہ ہے، بعض طالبات نے پازیب کی آوازیں سنائی دینے کا بھی دعوی کیا۔بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ ڈوما گائوں کے سرکاری بورڈنگ اسکول میں 810 طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، چند روز کے دوران خوف اور افواہوں کے باعث تقریبا 600 طلبہ وہاں سے جا چکے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اسکول کی انتظامیہ کا کہنا تھاکہ متعدد ماہرینِ صحت نے اسکول اور ہاسٹل کا دورہ کیا اور جائزہ لیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اسکول یا ہاسٹل سے کسی مافوق الفطرت عنصر کے شواہد نہیں ملے۔ماہرین کے مطابق یہ ذہنی دبا سے پیدا ہونے والی ہسٹیریا جیسی کیفیت ہو سکتی ہے، گاں کی بعض خواتین میں بھی بعد ازاں ایسی ہی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔بھارتی حکام کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق واقعے کے حوالے سے مختلف توہمات بھی پھیل گئی ہیں۔

مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ بورڈنگ اسکول کی جگہ موجود مہوا کے درخت پر ارواح کا بسیرا تھا جسے انتظامیہ نے کاٹ دیا اور اس کے بعد ارواح ناراض ہو گئیں۔ایک اور خیال یہ پایا جاتا ہے کہ اسکول کے نکاسی آب کے راستے سے قریب واقع مقامی دیوتا کے مندر کو نقصان پہنچا جبکہ بعض افراد نے اسکول کے قریب کھیت میں مرنے والے ایک قبائلی نوجوان کی روح کو اس واقعے سے جوڑا ہے۔حکام نے صورتِ حال کی بنیادی وجوہات میں توہم پرستی، خوف، ذہنی دبا اور مقامی اعتقاد کو قرار دیا ہے۔اسکول کے سربراہ سنجے چوہدری کا کہنا تھا کہ متعدد ماہرین اور اعلی شخصیات نے طالبات سے بات کی ہے، طلبہ کی کونسلنگ جاری ہے اور چند طالبات واپس بھی آ چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…