پیرس(این این آئی)فرانس میں جون کے آخری ہفتے کے دوران ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر جان لیوا ثابت ہوئی جہاں اب بھی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی قومی صحت ایجنسی سانتے پبلک فرانس نے بتایا کہ 22سے 28جون کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 2 ہزار 25اموات ریکارڈ ہوئیں جو اس سے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 29فیصد زیادہ ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ یہ ابتدائی اعداد و شمار صرف الیکٹرانک ڈیتھ سرٹیفکیٹس پر مبنی ہیں اس لیے حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔فرانسیسی وزیرِ صحت سٹیفنی رسٹ نے کہاکہ اضافی اموات کا زیادہ تر بوجھ 45برس سے زائد عمر کے افراد پر پڑا جبکہ 65سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔انھوں نے بتایا کہ گھروں میں ہونے والی اموات میں سب سے نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 91 فیصد زیادہ تھیں۔ نرسنگ ہومز میں اموات 37 فیصد اور اسپتالوں میں تقریبا 20 فیصد بڑھ گئیں۔دارالحکومت پیرس اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر رہا، جہاں اموات میں تقریبا 62 سے 63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
شدید گرمی کے باعث ایمرجنسی وارڈز میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، گردوں کی خرابی اور دل کے امراض کے مریضوں کی تعداد بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی، جبکہ بعض علاقوں میں مردہ خانوں پر بھی دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 24جون کو فرانس میں ملکی اوسط درجہ حرارت کی بنیاد پر تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔ پیرس میں درجہ حرارت تقریباً 41ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ ملک کے تقریبا نصف حصے میں شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ نافذ کیا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق یہ فرانس کی 1947کے بعد گرم ترین جون بھی رہی، جہاں اوسط درجہ حرارت معمول سے تقریبا ً3.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ یورپ کے دیگر ممالک بھی اس شدید گرمی سے متاثر ہوئے ہیں۔ بیلجیئم میں تقریباً 1,200اور نیدرلینڈز میں 480کے قریب اموات رپورٹ ہوئی ہیں تاہم واضح نہیں کہ ساری اموات ہیٹ ویوز سے ہوئی یا نہیں۔ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں نے کہاہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے اس ہیٹ ویو کو مزید شدید اور طویل بنا دیا ہے۔ مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آنے کا امکان ہے۔ حکومتوں کو صحت عامہ، شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی امدادی نظام کو نئی موسمی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔



















































