اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

تارکین وطن کے بچوں کو شہریت دینے کا حکم؛ ٹرمپ امریکی سپریم کورٹ پر برہم

datetime 1  جولائی  2026 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن کے بچوں کو شہریت نہ دینے سے متعلق اپنے صدارتی حکم کے سپریم کورٹ سے مسترد ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ عدالت نے اپنے فیصلے سے تقریبا ایک صدی بعد صدارتی اختیارات بحال کر دیے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اپنی مقبولیت اور عوامی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اب پیدائشی شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کانگریس کے ذریعے تبدیل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا سب سے بڑا اور سب سے اہم فیصلہ ‘سلاٹر کیس’ تھا جس نے تقریبا سو سال سے رائج ‘ہمفریز ایگزیکیوٹر رول’ کو ختم کر دیا۔انھوں نے مزید کہا کہ صدارتی اختیارات کا معاملہ سابق امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے دور سے تنازع کا شکار رہا، جب ان کے بقول صدر کے بہت سے اختیارات محدود کر دیے گئے تھے۔صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ روزویلٹ نے ان اختیارات کی بحالی کی کوشش کی یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز بھی دی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے صدارتی منصب کو وہ وسیع اختیارات واپس دیے ہیں جن کا وہ حق دار تھا اور ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اس تاریخی مقدمے میں کامیابی حاصل کرنے والے موجودہ صدر ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ان کی انتظامیہ کو دیگر معاملات میں بھی کامیابیاں ملیں، تاہم انہوں نے پیدائشی شہریت سے متعلق مقدمے میں ہونے والے فیصلے کو اپنی حکومت کے لیے ایک ناکامی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پیدائشی شہریت کے معاملے میں عدالت سے ہار گئے، لیکن اس مسئلے کو کانگریس میں درست کرنے کی کوشش کریں گے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے ساتھ سپریم کورٹ نے منصفانہ رویہ اختیار کیا اور عدالتی فیصلوں نے آئینی اختیارات سے متعلق کئی دیرینہ قانونی تنازعات کو نئی سمت دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…