ہفتہ‬‮ ، 18 اپریل‬‮ 2026 

عالمی توانائی بحران شدید، ایران نے آبنائے ہرمز پر ”ٹول بوتھ “ نظام متعارف کروا دیا

datetime 27  مارچ‬‮  2026 |

تہران (این این آئی)ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سخت کنٹرول اور مبینہ ٹول وصولی کا نظام نافذ کر دیا ہے،

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے خلیج سے نکلنے والے تیل اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے،اس اقدام کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف تقریباً 2000 جہاز گزرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں،کئی شپنگ کمپنیاں خطرات کے باعث طویل متبادل راستے اختیار کرنے کے بجائے انتظار کو ترجیح دے رہی ہیں۔ایران کے مطابق صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں جو اس کے خلاف کارروائیوں میں شامل نہ ہوں جیسے کہ ملائیشیا، چین، مصر، جنوبی کوریا اور بھارت سے تعلق رکھنے والے بعض جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق کچھ جہازوں نے یوآن کرنسی میں فیس ادا کی تاہم ادائیگی کی اصل رقم واضح نہیں ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض جہازوں سے 2 ملین ڈالرز تک وصول کیے جا رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون (یو این سی ایل او ایس) کے تحت عالمی آبی گزرگاہوں میں تمام جہازوں کو آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے اور اس حق کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی چوڑائی صرف 21 ناٹیکل میل ہے،

ایران اور عمان کی سمندری حدود آپس میں ملتی ہیں، ایران اپنی حدود میں سیکیورٹی اقدامات کا دعویٰ کرتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹول وصولی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور معاشی جنگ کے مترادف ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ ایران نے یو این سی ایل او ایس پر دستخط تو کیے ہیں مگر اسے پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظور نہیں کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ جاری رہی تو دنیا کو دہائیوں کے بدترین توانائی بحران اور ممکنہ عالمی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ سلطان الجابر نے اس صورتِ حال کو ‘معاشی دہشت گردی’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کا اثر دنیا بھر میں ایندھن، خوراک اور ادویات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کو خلیجِ فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کا سب سے اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…