اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے لیے کی گئی فوجی کارروائی کو غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے ایک شاندار آپریشن کہا ہے۔واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ کارروائی دارالحکومت کاراکس کے عین وسط میں واقع ایک انتہائی محفوظ فوجی تنصیب میں انجام دی گئی، جس کی مثال ان کے بقول دوسری جنگِ عظیم کے بعد کم ہی دیکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا بنیادی مقصد مادورو کو قانون کے کٹہرے میں لانا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ کارروائی امریکی تاریخ میں فوجی طاقت، حکمتِ عملی اور مہارت کا ایک حیران کن مظاہرہ ہے۔
ان کے مطابق دنیا کی کوئی اور ریاست وہ کارنامہ انجام نہیں دے سکتی تھی جو امریکا نے انتہائی کم وقت میں کر دکھایا، کیونکہ اس دوران وینزویلا کی پوری عسکری صلاحیت کو مؤثر طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں امریکا کا کوئی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا عسکری سازوسامان ضائع ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائی میں متعدد ہیلی کاپٹر، جنگی طیارے اور بڑی تعداد میں فوجی اہلکار شریک تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا وینزویلا میں مزید اور بڑے حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم پہلے آپریشن کی غیر معمولی کامیابی کے باعث اب شاید اس کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ان کے بقول ابتدا میں دوسری لہر کی تیاری کی گئی تھی، لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے ممکن ہے مزید کارروائی نہ کرنی پڑے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ جب تک وینزویلا میں اقتدار کی محفوظ، منصفانہ اور پائیدار منتقلی مکمل نہیں ہو جاتی، امریکا وہاں انتظامی ذمہ داریاں سنبھالے رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ دوبارہ وہی حالات پیدا ہوں جو گزشتہ برسوں میں دیکھنے میں آئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی عدالتوں کے پاس مادورو کے خلاف ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں جو نہایت سنگین اور چونکا دینے والے ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی مداخلت کے بعد وینزویلا میں امریکی توانائی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ان کے مطابق وینزویلا کا تیل کا شعبہ طویل عرصے سے تباہ حالی کا شکار ہے اور ملک اپنی اصل پیداواری صلاحیت سے کہیں کم تیل نکال رہا تھا۔ امریکا کی بڑی تیل کمپنیاں وہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، انفراسٹرکچر کی بحالی کریں گی اور معیشت کو دوبارہ فعال بنانے میں کردار ادا کریں گی۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا آہستہ آہستہ غیر ملکی دشمن قوتوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن رہا تھا اور خطرناک نوعیت کے جارحانہ ہتھیار حاصل کر رہا تھا، جن میں سے بعض امریکی افواج کے خلاف بھی استعمال ہوئے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی کی حکومتوں نے مغربی نصف کرے میں بڑھتے ہوئے ان خطرات کو یا تو نظرانداز کیا یا بالواسطہ طور پر ان میں حصہ لیا، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں خطے میں امریکی طاقت کا بھرپور انداز میں اظہار کیا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ وینزویلا میں کی گئی کارروائی ہر اس فرد یا حکومت کے لیے تنبیہ ہے جو امریکی خودمختاری یا شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا سوچے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری بیڑا مکمل طور پر الرٹ ہے اور تمام فوجی آپشنز اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک امریکی مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔انہوں نے وینزویلا کی سیاسی اور عسکری قیادت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ مادورو کے ساتھ جو ہوا، وہ دوسروں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اگر وہ اپنی عوام کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار نہیں کریں گے۔جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا کارروائی کے دوران مادورو مارا بھی جا سکتا تھا، تو انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن تھا۔ ان کے مطابق مادورو ایک محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم شدید فائرنگ کے دوران وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا کیونکہ امریکی افواج نے اس راستے کو ناکارہ بنا دیا تھا۔















































