ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بارڈرز تو بدل سکتے ہیں ، کیا پتہ کل کو سندھ بھارت میں پھر سے واپس آجائے‘‘بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ”

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

نئی دہلی— بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اتوار کے روز ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ آج سندھ پاکستان کا حصہ ہے، لیکن یہ خطہ تہذیبی اور ثقافتی طور پر بھارت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے اور ’’ایک دن دوبارہ بھارت میں شامل ہو سکتا ہے‘‘۔

راج ناتھ سنگھ نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ دریائے سندھ کے کنارے واقع صوبہ سندھ 1947 کی تقسیم کے وقت پاکستان کے حصے میں آیا، جس کے بعد بڑی تعداد میں سندھی ہندو بھارت ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ جغرافیائی طور پر گجرات اور راجستھان کے قریب ہے اور ثقافتی طور پر بھی بھارت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے سابق بھارتی نائب وزیرِاعظم ایل کے ایڈوانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی سندھی ہندو اپنی نسل کے مطابق سندھ کی علیحدگی کو دل سے قبول نہیں کر سکے، کیونکہ دریائے سندھ اُن کی تہذیبی شناخت کا اہم حصہ ہے۔

سیاستدان اور مبصرین کے مطابق راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے اور سندھ کے حوالے سے یہ دعویٰ خطے میں حساسیت پیدا کر سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…