ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب کو اسرائیل کے مقابلے میں کم تر درجے کے ایف 35 جنگی طیارے دیے جائیں گے، امریکی حکام

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

واشنگٹن (رائٹرز) – امریکی حکام اور دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو فروخت کیے جانے والے ایف-35 لڑاکا طیارے اسرائیل کے زیر استعمال طیاروں کے مقابلے میں کم تر ہوں گے، کیونکہ ایک امریکی قانون اسرائیل کی خطے میں عسکری برتری کی ضمانت دیتا ہے۔رائٹرز کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے سعودی عرب کو ایف-35 طیارے فراہم کرنے کا اعلان کیا،

تاہم حکام نے کہا کہ سعودی طیاروں میں وہ جدید خصوصیات شامل نہیں ہوں گی جو اسرائیلی بیڑے میں موجود ہیں، جیسے جدید ہتھیاروں کے نظام اور الیکٹرانک وارفیئر آلات اسرائیل اپنے ایف-35 طیاروں میں ترمیم کے خصوصی اختیارات رکھتا ہے، جن میں ہتھیاروں کے نظام میں تبدیلی، ریڈار جیمنگ صلاحیتیں اور دیگر اپ گریڈ شامل ہیں، جن کے لیے امریکا کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم، اسرائیلی فضائیہ نے مجوزہ فروخت کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام خطے میں اسرائیل کی فضائی برتری کو کمزور کر سکتا ہے۔

مچل انسٹیٹیوٹ فار ایرو اسپیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈگلس برکی کے مطابق سعودی عرب کو یہ طیارے ملنے کے باوجود، امکان ہے کہ انہیں AIM-260 جوائنٹ ایڈوانسڈ ٹیکٹیکل میزائل (JATM) فراہم نہ کیا جائے، جو اگلی نسل کے لڑاکا طیاروں کے لیے تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے۔ایف-35 ہر ملک اور پائلٹ کے لیے تخصیص شدہ ہوتا ہے۔ امریکا کے پاس سب سے زیادہ جدید ورژن موجود ہیں، جبکہ دیگر ممالک کو کم درجے کے طیارے دیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کے طیاروں کو اسرائیلی طیاروں کے مقابلے میں کم مضبوط رکھا جائے گا، جس کا انحصار طیارے کے سافٹ ویئر پیکیج پر ہوگا۔

مزید برآں، اسرائیل عددی برتری بھی رکھتا ہے کیونکہ وہ دو اسکواڈرن ایف-35 چلا رہا ہے اور تیسرا آرڈر پر ہے، جبکہ سعودی عرب کے لیے دو اسکواڈرن محدود کیے جائیں گے جن کی فراہمی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔امریکی حکام نے بتایا کہ فروخت کو حتمی شکل دینے سے قبل اسرائیل کی عسکری برتری کا جائزہ ضروری ہوگا اور سعودی عرب کو ہر فروخت کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ کانگریس میں اسرائیل کی مضبوط حمایت اس معاملے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

یہ فروخت سعودی عرب کو قطر اور متحدہ عرب امارات کے برابر لا کھڑا کرے گی، جنہیں بھی ایف-35 طیاروں کی پیشکش کی گئی ہے، لیکن معاہدے ابھی بھی ڈیلیوری شیڈول، طیاروں کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کی رسائی پر تحفظات کی وجہ سے زیر التواء ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…