پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

سعودی عرب کو اسرائیل کے مقابلے میں کم تر درجے کے ایف 35 جنگی طیارے دیے جائیں گے، امریکی حکام

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

واشنگٹن (رائٹرز) – امریکی حکام اور دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو فروخت کیے جانے والے ایف-35 لڑاکا طیارے اسرائیل کے زیر استعمال طیاروں کے مقابلے میں کم تر ہوں گے، کیونکہ ایک امریکی قانون اسرائیل کی خطے میں عسکری برتری کی ضمانت دیتا ہے۔رائٹرز کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے سعودی عرب کو ایف-35 طیارے فراہم کرنے کا اعلان کیا،

تاہم حکام نے کہا کہ سعودی طیاروں میں وہ جدید خصوصیات شامل نہیں ہوں گی جو اسرائیلی بیڑے میں موجود ہیں، جیسے جدید ہتھیاروں کے نظام اور الیکٹرانک وارفیئر آلات اسرائیل اپنے ایف-35 طیاروں میں ترمیم کے خصوصی اختیارات رکھتا ہے، جن میں ہتھیاروں کے نظام میں تبدیلی، ریڈار جیمنگ صلاحیتیں اور دیگر اپ گریڈ شامل ہیں، جن کے لیے امریکا کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم، اسرائیلی فضائیہ نے مجوزہ فروخت کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام خطے میں اسرائیل کی فضائی برتری کو کمزور کر سکتا ہے۔

مچل انسٹیٹیوٹ فار ایرو اسپیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈگلس برکی کے مطابق سعودی عرب کو یہ طیارے ملنے کے باوجود، امکان ہے کہ انہیں AIM-260 جوائنٹ ایڈوانسڈ ٹیکٹیکل میزائل (JATM) فراہم نہ کیا جائے، جو اگلی نسل کے لڑاکا طیاروں کے لیے تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے۔ایف-35 ہر ملک اور پائلٹ کے لیے تخصیص شدہ ہوتا ہے۔ امریکا کے پاس سب سے زیادہ جدید ورژن موجود ہیں، جبکہ دیگر ممالک کو کم درجے کے طیارے دیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کے طیاروں کو اسرائیلی طیاروں کے مقابلے میں کم مضبوط رکھا جائے گا، جس کا انحصار طیارے کے سافٹ ویئر پیکیج پر ہوگا۔

مزید برآں، اسرائیل عددی برتری بھی رکھتا ہے کیونکہ وہ دو اسکواڈرن ایف-35 چلا رہا ہے اور تیسرا آرڈر پر ہے، جبکہ سعودی عرب کے لیے دو اسکواڈرن محدود کیے جائیں گے جن کی فراہمی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔امریکی حکام نے بتایا کہ فروخت کو حتمی شکل دینے سے قبل اسرائیل کی عسکری برتری کا جائزہ ضروری ہوگا اور سعودی عرب کو ہر فروخت کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ کانگریس میں اسرائیل کی مضبوط حمایت اس معاملے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

یہ فروخت سعودی عرب کو قطر اور متحدہ عرب امارات کے برابر لا کھڑا کرے گی، جنہیں بھی ایف-35 طیاروں کی پیشکش کی گئی ہے، لیکن معاہدے ابھی بھی ڈیلیوری شیڈول، طیاروں کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کی رسائی پر تحفظات کی وجہ سے زیر التواء ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…