ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جب بھینس کا دودھ اور چائے پینے کے بعد گاؤں کے درجنوں افراد کو ٹیکے لگوانے پڑے

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)کتے یا سانپ کے کاٹنے کے بعد ویکسین لگوانے کے واقعات تو عام ہیں، مگر بھارت میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک بھینس کا دودھ پینے کی وجہ سے پورے گاؤں کے درجنوں لوگوں کو احتیاطاً انجیکشن لگوانے پڑ گئے۔واقعہ گجرات کے ضلع بھروچ کے ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں آٹھ نومبر کو متعدد دیہاتیوں نے ریبیز سے بچاؤ کے ٹیکے لگوائے۔ اس واقعے کی بنیاد تقریباً ایک سال پہلے اُس وقت پڑی جب گاؤں میں ایک پالے ہوئے بھینس کو آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا۔ حال ہی میں جب اس بھینس میں ریبیز کی واضح علامات نمودار ہوئیں تو صورتحال سنگین ہو گئی۔

بی بی سی گجراتی کے مطابق بھینس کے مالک اور ان کے گھر والوں نے فوراً امود کمیونٹی ہیلتھ سینٹر جا کر ویکسین لگوائی اور پڑوسیوں کو بھی خبردار کیا کہ جس کسی نے اس بھینس کا دودھ یا اس سے بنی کوئی مٹھائی کھائی ہو، وہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرے۔یہ اطلاع گاؤں میں تیزی سے پھیل گئی اور دودھ پینے والے تقریباً تمام افراد ویکسین لگوانے پہنچ گئے۔ بھروچ کے ہیلتھ آفیسر منیرا شکلا نے تصدیق کی کہ اب تک کم از کم 39 افراد کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین دی جا چکی ہے۔ریبیز نہایت خطرناک مرض ہے جو عموماً متاثرہ جانور کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ براہِ راست اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے، اور بروقت علاج نہ ہو تو موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اسی خدشے کے پیشِ نظر محکمۂ صحت نے کوبلہ گاؤں کے رہائشیوں کو احتیاطاً ویکسین لگوانے کا مشورہ دیا ہے۔بھینس کے مالک اور چند دیگر افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس جانور کا دودھ اسی حالت میں پیا جب وہ بیمار ہو چکی تھی۔ بھینس علامات ظاہر ہونے کے صرف تین دن بعد ہلاک ہو گئی، جس کے بعد گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔کوبلا کے سپرپنچ راجو بھرواڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ گاؤں کی آبادی لگ بھگ 500 افراد پر مشتمل ہے، اور جن لوگوں نے بھینس کا دودھ پیا تھا، وہ صورتحال سمجھتے ہی فوراً اسپتال پہنچے۔ ان کے مطابق:”اب تک تمام لوگ بالکل ٹھیک ہیں اور کسی میں بھی ریبیز کے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…