ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بے روزگار شخص فوڈ ڈیلیوری ایپ کو چونا لگاکر 67 لاکھ روپے سے زائد کے کھانے مفت کھاگیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

ٹوکیو (این این آئی)جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک بے روزگار شخص نے فوڈ ڈیلیوری ایپ میں موجود خامی سے فائدہ اٹھا کر 1000سے زیادہ ڈیلیوریز بغیر ادائیگی کے حاصل کر لیں۔جاپانی میڈیا کے مطابق جاپان کے شہر ناگویا سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ تاکویا ہیگاشیموتو نے 2 سال کے دوران جاپانی فوڈ ڈیلیوری ایپ ڈیماے کین سے آرڈر کینسل پالیسی کا فائدہ اٹھاکر ایک ہزار سے زائد کھانے مفت وصول کر لیے۔جاپانی میڈیا کیمطابق تاکویا ہیگاشیموتو نامی یہ بے روزگار شخص ایپ پر رابطے کے بغیر ڈیلیوری کا آپشن منتخب کرتا اور آرڈر ڈیلیور ہونے کے باوجود دعویٰ کرتا کہ اسے آرڈر موصول نہیں ہوا جس کے بعد کمپنی اسے ریفنڈ کر دیتی۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیگاشیموتو نے فوڈ ڈیلیوری ایپ پر فیک ناموں اور جعلی ایڈریس کا استعمال کرتے ہوئے 124 اکاؤنٹس استعمال کیے، جاپانی شہری ان اکاؤنٹس کو رجسٹر کرنے کے لیے پری پیڈ کارڈز کا استعمال کرتا اور کچھ دنوں بعد اپنی ممبر شپ کینسل کروا لیتا، یہی وجہ تھی کہ جاپانی حکام کیلئے اس فراڈ کو پکڑنا مشکل ہوگیا اور اس دوران ہیگاشیموتو نے 24 ہزار ڈالرز (67 لاکھ 41 ہزار سے زائد پاکستانی روپے)کے آرڈرز بغیر ادائیگی وصول کرلیے۔رواں برس 30 جولائی کو بھی ہیگاشیموتو نے ایک ایسے ہی فیک نام اور ایڈریس کے ذریعے ڈیلیوری وصول ہونے کے بعد دعویٰ کیا کہ اسے آئس کریم، بینٹوس اور چکن اسٹیکس کا آرڈر موصول نہیں ہوا، اس فراڈ کے ذریعے جاپانی شخص 105 ڈالر ز کا ریفنڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔جاپانی پولیس کی جانب سے تاکویا ہیگاشیموتو کو گرفتار کیا جاچکا ہے، دوران تفتیش تاکویا ہیگاشیموتو نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ کئی سالوں سے بے روزگار ہوں، شروع میں تو بس آزمایا تھالیکن جب مفت کھانے ملنے لگے تو خود کو روک نہیں سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…