ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حسینہ واجد 1400 مرتبہ سزائے موت کی مستحق ہیں: چیف پراسیکیوٹر بنگلادیش

datetime 17  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمے میں استغاثہ نے عدالت سے سزائے موت دینے کی سفارش کر دی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ، جو گزشتہ سال سے ملک سے فرار ہیں، پر 2024ء میں طلبہ تحریک پر ریاستی تشدد کے احکامات دینے اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق تحقیقات کے دوران ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تھی، جس میں شیخ حسینہ کو مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دیتے سنا گیا۔ تاہم سابق وزیر اعظم نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو طاقت کے بے دریغ استعمال کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1400 مظاہرین جان کی بازی ہار گئے۔چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ شیخ حسینہ واجد اپنے جرائم کی سنگینی کے باعث 1400 بار سزائے موت کی مستحق ہیں، مگر چونکہ ایسا ممکن نہیں، اس لیے استغاثہ نے ایک مرتبہ سزائے موت دینے کی استدعا کی ہے۔ان کے مطابق شیخ حسینہ کا مقصد اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنا اور اپنے خاندان کو مستقل سیاسی غلبہ دلانا تھا۔ تاج الاسلام نے مزید کہا کہ سابق وزیرِاعظم اپنے کیے پر کسی بھی قسم کی ندامت یا پشیمانی ظاہر نہیں کر رہیں۔دوسری جانب بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے بھارت سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا باقاعدہ مطالبہ کر دیا ہے، تاکہ ان کے خلاف جاری قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…