ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

74 سالہ شخص نے کروڑوں روپے ادا کرکے 24 سالہ خاتون سے شادی کرلی

datetime 17  اکتوبر‬‮  2025 |

انڈونیشیا (مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا میں ایک 74 سالہ شخص نے اپنی عمر سے تقریباً نصف صدی کم عمر خاتون سے شادی کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس انوکھے رشتے پر اس شخص نے کروڑوں روپے خرچ کیے۔یہ غیرمعمولی واقعہ انڈونیشیا کے صوبہ ایسٹ جاوا کے ضلع Pacitan Regency میں پیش آیا، جہاں 74 سالہ ترمان (Tarman) نے 24 سالہ شیلا اریکا (Shela Arika) سے شادی رچائی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دلہن کو حقِ مہر کے طور پر 3 ارب انڈونیشین روپے (تقریباً 5 کروڑ پاکستانی روپے) ادا کیے گئے۔

شادی کی تقریب یکم اکتوبر کو نہایت شان و شوکت سے منائی گئی، جس میں دلہن کو ایک بڑے چیک کی صورت میں رقم پیش کی گئی۔ اس موقع پر موجود مہمانوں نے دلہا دلہن پر پھول نچھاور کیے اور خوشی کے نعرے لگائے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ روایتی طور پر مہمانوں سے تحائف لینے کے بجائے، میزبان نے خود ہر مہمان کو ایک لاکھ انڈونیشین روپے نقد بطور تحفہ دیے۔یہ شادی شاید معمول کی طرح گزرجاتی، مگر تقریب کی ویڈیو بنانے والی کمپنی کی وجہ سے معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

ویڈنگ فوٹوگرافی کمپنی نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد جوڑا ادائیگی کیے بغیر تقریب سے روانہ ہوگیا اور ان سے رابطہ بھی نہیں کیا۔بعد ازاں آن لائن یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ ترمان ادائیگی سے بچنے کے لیے ایک موٹرسائیکل پر فرار ہوگیا اور یہ بھی کہا گیا کہ دلہن کو دیا گیا چیک جعلی تھا۔تاہم چند روز بعد ترمان نے سوشل میڈیا پر وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ چیک اصلی ہے اور وہ کسی قسم کی دھوکا دہی میں ملوث نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ ہنی مون پر گئے ہیں۔دلہن کے اہلِ خانہ نے بھی افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ شادی بالکل حقیقی تھی اور دونوں خوش ہیں۔دوسری جانب فوٹوگرافی کمپنی کی جانب سے شکایت درج کرائے جانے پر مقامی حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اصل معاملہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…