پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

برطانیہ؛ کمسن بچیوں سے اجتماعی زیادتی گینگ کے پاکستانی سرغنہ کو 35 سال قید

datetime 4  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) برطانیہ میں معروف “گرومنگ گینگ” کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے پاکستانی نژاد 65 سالہ محمد زاہد کو 35 سال قید کی سزا سنا دی۔ وہ اس گینگ کا سرغنہ قرار پایا۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مقدمے میں ملوث دو متاثرہ لڑکیوں کی شناخت خفیہ رکھی گئی، جنہیں عدالت میں “اے” اور “بی” کے ناموں سے پکارا گیا۔ یہ دونوں اب 30 سال کی خواتین ہیں اور تقریباً 20 سال قبل پیش آنے والے واقعات کے خلاف انصاف کے لیے عدالت پہنچی تھیں۔

طویل عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان نے 2001 سے 2006 کے دوران مغربی انگلینڈ میں دو کمسن لڑکیوں کو جنسی استحصال، زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کا نشانہ بنایا۔

استغاثہ کے مطابق، گینگ نے لڑکیوں کو پہلے تحائف، پیسے اور کھانے پینے کی اشیا دے کر اپنے جال میں پھنسایا۔ پھر انہیں نشہ آور اشیا کی لت لگا دی گئی تاکہ وہ ان کے قبضے میں رہیں۔

بعد ازاں ملزمان نے نہ صرف خود ان کے ساتھ بار بار زیادتی کی بلکہ انہیں دیگر ٹیکسی ڈرائیورز اور مردوں کے ساتھ تعلقات پر مجبور کیا۔ متاثرہ لڑکیاں عدالت میں یہ بھی نہ بتا سکیں کہ ان پر کتنی بار زیادتی کی گئی — ان کے مطابق پانچ برسوں میں درجنوں مردوں نے سینکڑوں مرتبہ جنسی زیادتی کی۔

ان لڑکیوں کے ساتھ ظلم کے یہ واقعات کاروں، خالی گوداموں، فلیٹس اور دیگر گندے، تنہائی والے مقامات پر پیش آئے۔

عدالت نے دیگر ملزمان کو بھی مختلف مدت کی سزائیں سنائیں، جن میں شامل ہیں:

  • قیصر بشیر (50 سالہ) – 29 سال قید
  • مشتاق احمد (67 سالہ) – 27 سال قید
  • محمد شہزاد (44 سالہ) – 26 سال قید
  • نعیم اکرم (49 سالہ) – 26 سال قید
  • نثار حسین (41 سالہ) – 19 سال قید
  • روہیز خان (39 سالہ) – 12 سال قید

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کیس برطانیہ میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے بدترین واقعات میں شمار کیا جائے گا، جس نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…