ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

مشرقی افغانستان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 622 سے تجاوز کر گئی

datetime 1  ستمبر‬‮  2025 |

اسعد آباد(این این آئی)افغان حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی افغانستان میں گزشتہ رات آنے والے شدید زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 622 سے بڑھ گئی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ غیر مصدقہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس زلزلے میں 2000سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اس لیے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ زلزلہ رات 12 بجے کے قریب 6 ریکٹر اسکیل کی شدت سے آیا، جس کا مرکز کنڑ صوبہ بتایا جا رہا ہے۔

تاہم، ننگرہار، نورستان اور لغمان کے کچھ حصے بھی متاثر ہوئے ہیں جہاں ہلاکتیں اور زخمیوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکے خاص طور پر ننگرہار میں محسوس کیے گئے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کنڑ دفتر کے ایک ذریعے نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک 622 سے زائد اموات اور 1000 سے زائد زخمیوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ امارتِ اسلامی کے ترجمان مولوی ذبیح اللہ مجاہد نے اس افسوسناک واقعے پر دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پوری قوت کے ساتھ زلزلہ متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ریسکیو ٹیمیں ہمسایہ صوبوں سے کنڑ پہنچ چکی ہیں۔

دوسری جانب، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے اور زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں اور گاڑیوں کے ذریعے کنڑ، دیگر صوبوں اور کابل کے ہسپتالوں تک منتقل کیا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے امدادی اور ریسکیو دستے کنڑ پہنچ چکے ہیں اور متاثرین کی مدد شروع کر دی گئی ہے۔ مزید برآں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ ملا نورالدین ترابی بھی ابتدائی امدادی سامان کے ساتھ ہیلی کاپٹر کے ذریعے کنڑ پہنچ گئے ہیں۔ امارتِ اسلامی نے ریسکیو آپریشن کے ساتھ ساتھ متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں بھی شروع کر دی ہیں، جن میں کھانے پینے کی اشیا، خیمے اور دیگر ضروری سامان کی تقسیم شامل ہے۔ تاہم، مقامی ذرائع کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور انہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید زخمیوں کو کابل سمیت دیگر صوبوں کے اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…