جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

امریکی عدالت نے ٹیرف غیرقانونی قراردیدیا،صدرٹرمپ کا سخت ردعمل

datetime 30  اگست‬‮  2025 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کے عائد کردہ بیشتر عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا ہے جس پر امریکی صدر کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔امریکی وفاقی اپیلز کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کئے گئے زیادہ تر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت کے 11ججوں میں سے 7نے کہا کہ ٹرمپ نے ٹیرف لگاتے وقت اپنے اختیارات سے زیادہ استعمال کیا، کیونکہ صدر کو صرف ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت محدود اختیارات دئیے گئے ہیں۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ ٹیرف 14اکتوبر تک برقرار رہیں گے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی اپیل کورٹ کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جس میں اکثر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا گیا، اور انہوں نے عدالتی فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے عائد کردہ ٹیرف کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تمام ٹیرف اب بھی موثر ہیں!آج اپیل کورٹ نے غلط طور پر کہا کہ ہمارے ٹیرف کو ختم کر دینا چاہیے، مگر وہ جانتے ہیں کہ آخر میں جیت امریکا کی ہی ہوگی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یہ ٹیرف برقرار نہ رکھے گئے تو یہ ملک کے لیے ایک مکمل تباہی ہو گی۔ یہ ہمیں مالی طور پر کمزور کر دے گا، تاہم ہمیں مضبوط رہنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیرف تجارتی خسارے اور غیر ملکی تجارتی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ امریکا اب بڑے تجارتی خسارے اور غیر منصفانہ ٹیرفس اور تجارتی رکاوٹوں کو برداشت نہیں کرے گا، چاہے وہ ممالک دوست ہوں یا دشمن، جو ہماری مینوفیکچرنگ، کسانوں اور دیگر سب کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ کیس بالآخر سپریم کورٹ میں طے کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی مدد سے ہم انہیں اپنے ملک کے فائدے کے لیے استعمال کریں گے، اور امریکا کو دوبارہ مالدار، مضبوط اور طاقتور بنائیں گے۔

امریکی اپیل کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ کے زیادہ تر ٹیرف غیر قانونی ہیں، واشنگٹن ڈی سی کی فیڈرل سرکٹ کی امریکی اپیل کورٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ٹرمپ نے ان ٹیرف کو عائد کرنے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے، جنہیں انہوں نے تجارتی مذاکرات میں طاقت کے طور پر استعمال کیا اور غیر ملکی حکومتوں پر دبائو ڈالنے کے لیے نافذ کیا تھا۔عدالت کا کہنا تھا کہ اگرچہ صدر کو ایمرجنسی کی صورتحال کے دوران وسیع اختیارات حاصل ہیں، ان اختیارات میں خاص طور پر ٹیرف عائد کرنے کی صراحت نہیں کی گئی۔فیصلے میں خاص طور پر اپریل میں ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے گئے جوابی ٹارفس کو نشانہ بنایا گیا، جو ان کی جاری تجارتی جنگ کا حصہ تھے، اور ساتھ ہی فروری میں چین، کینیڈا اور میکسیکو پر عائد کیے گئے علیحدہ ٹیرف کو بھی ہدف بنایا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…