ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات’ تاریخ کا سب سے مہنگا طلاق کا مقدمہ دائر، ایک ارب درہم کا مطالبہ

datetime 30  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ابوظبی کی سول فیملی کورٹ میں متحدہ عرب امارات کی تاریخ کا سب سے مہنگا طلاق مقدمہ زیر سماعت ہے، جس میں ایک خاتون نے طلاق کے تصفیے کے لیے ایک ارب درہم (یعنی 77 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کا مطالبہ کیا ہے۔خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اگر عدالت نے خاتون کے حق میں فیصلہ دے دیا تو یہ مقدمہ نہ صرف یو اے ای بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی مہنگی ترین طلاق کا ریکارڈ قائم کر دے گا۔

یہ مقدمہ ایک مسلم جوڑے کا ہے جن کا تعلق کیریبین خطے سے ہے اور جو تقریباً دو دہائیوں سے یو اے ای میں سکونت پذیر ہیں۔ 39 سالہ خاتون نے اپریل میں عدالت سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی شادی کو 20 سال ہو چکے ہیں اور پچھلے 18 برسوں میں انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر متحدہ عرب امارات میں ایک بڑی مالیاتی سلطنت قائم کی۔ ان کے تمام بچے بھی یہیں پیدا ہوئے اور پرورش پائی۔مقدمے میں کیے گئے مالی مطالبے میں صرف ازدواجی اثاثے شامل ہیں، جبکہ بچوں کی پرورش اور کفالت کا الگ سے دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔خاتون کی نمائندگی کرنے والے وکیل برائن جیمز کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین امیر اور بااثر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور مقدمے میں مانگی گئی رقم درحقیقت ان کی مشترکہ دولت کے حجم کی نمائندہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مؤکلہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ برسوں کی مشترکہ محنت سے بنائی گئی دولت کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے۔برائن جیمز نے اس مقدمے کو یو اے ای کے عدالتی نظام کی شفافیت اور پختگی کی علامت قرار دیا، اور کہا کہ ایسے مقدمات یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہاں قانونی عمل بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2025 کے آغاز میں اسی عدالت نے ایک امریکی خاتون کے حق میں 10 کروڑ درہم سے زائد کا طلاق تصفیہ منظور کیا تھا، جو کہ اُس وقت یو اے ای میں اپنی نوعیت کا ایک بڑا فیصلہ تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…