ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

مصر سے سمندر میں پھینکی گئی اناج کی بوتلیں معجزاتی طور پر غزہ پہنچ گئیں

datetime 30  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسرائیلی محاصرے اور غزہ میں شدید غذائی قلت کے خلاف جہاں دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں، وہیں مصر کے شہریوں نے ایک منفرد اور جذباتی مہم کا آغاز کیا ہے۔ “سمندر سے سمندر تک” نامی اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی طرح غزہ کے بھوکے اور محصور لوگوں تک بنیادی خوراک پہنچائی جا سکے۔اس مہم کے تحت مصری عوام پلاسٹک کی خالی بوتلوں میں چاول، دالیں، گندم اور آٹا بھر کر انہیں بحیرہ روم کے پانیوں میں چھوڑ رہے ہیں، اس امید پر کہ یہ امدادی سامان غزہ کے ساحلوں تک پہنچ جائے گا۔حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ایک فلسطینی شہری نے سمندر سے بہتی ایک بوتل پکڑی جس میں دال موجود تھی۔

اس نے نہایت جذباتی انداز میں اس بوتل کو بھیجنے والے مصری شخص کا شکریہ ادا کیا اور اس لمحے کو کیمرے میں قید کیا۔یہ مخصوص بوتل 23 جولائی کو ایک مصری شخص نے غزہ کے مظلوم شہریوں تک امداد کی نیت سے سمندر میں ڈالی تھی۔ اس عمل کو عوامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ علامتی مگر اثر انگیز انداز میں فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار ہے۔سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی دیگر ویڈیوز میں بھی دکھایا گیا ہے کہ مزید فلسطینیوں کو ایسی بوتلیں ملی ہیں جن میں چاول یا دیگر ضروری اشیاء موجود تھیں۔ صارفین نے ان مناظر پر حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اللہ ہی ہے جو ایسے مشکل حالات میں بھی راہیں نکالتا ہے۔ایک صارف نے لکھا، “جب نیت خالص ہو، تو راستے خود بن جاتے ہیں۔” دوسرے نے کہا، “یہ ایک سادہ مگر بے مثال نیکی ہے، جو اپنے انجام تک پہنچ گئی۔”غزہ میں امدادی قافلوں پر سخت اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ سے خوراک کی شدید قلت ہے۔ صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ انسانی جانیں خطرے میں ہیں۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں کام کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی خوراک سے متعلق تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط اب محض ایک خطرہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ اگر انسانی بنیادوں پر امدادی اداروں کو فوری اور غیر مشروط رسائی نہ دی گئی تو اس بحران کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…