جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

مصر سے سمندر میں پھینکی گئی اناج کی بوتلیں معجزاتی طور پر غزہ پہنچ گئیں

datetime 30  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسرائیلی محاصرے اور غزہ میں شدید غذائی قلت کے خلاف جہاں دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں، وہیں مصر کے شہریوں نے ایک منفرد اور جذباتی مہم کا آغاز کیا ہے۔ “سمندر سے سمندر تک” نامی اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی طرح غزہ کے بھوکے اور محصور لوگوں تک بنیادی خوراک پہنچائی جا سکے۔اس مہم کے تحت مصری عوام پلاسٹک کی خالی بوتلوں میں چاول، دالیں، گندم اور آٹا بھر کر انہیں بحیرہ روم کے پانیوں میں چھوڑ رہے ہیں، اس امید پر کہ یہ امدادی سامان غزہ کے ساحلوں تک پہنچ جائے گا۔حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ایک فلسطینی شہری نے سمندر سے بہتی ایک بوتل پکڑی جس میں دال موجود تھی۔

اس نے نہایت جذباتی انداز میں اس بوتل کو بھیجنے والے مصری شخص کا شکریہ ادا کیا اور اس لمحے کو کیمرے میں قید کیا۔یہ مخصوص بوتل 23 جولائی کو ایک مصری شخص نے غزہ کے مظلوم شہریوں تک امداد کی نیت سے سمندر میں ڈالی تھی۔ اس عمل کو عوامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ علامتی مگر اثر انگیز انداز میں فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار ہے۔سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی دیگر ویڈیوز میں بھی دکھایا گیا ہے کہ مزید فلسطینیوں کو ایسی بوتلیں ملی ہیں جن میں چاول یا دیگر ضروری اشیاء موجود تھیں۔ صارفین نے ان مناظر پر حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اللہ ہی ہے جو ایسے مشکل حالات میں بھی راہیں نکالتا ہے۔ایک صارف نے لکھا، “جب نیت خالص ہو، تو راستے خود بن جاتے ہیں۔” دوسرے نے کہا، “یہ ایک سادہ مگر بے مثال نیکی ہے، جو اپنے انجام تک پہنچ گئی۔”غزہ میں امدادی قافلوں پر سخت اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ سے خوراک کی شدید قلت ہے۔ صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ انسانی جانیں خطرے میں ہیں۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں کام کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی خوراک سے متعلق تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط اب محض ایک خطرہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ اگر انسانی بنیادوں پر امدادی اداروں کو فوری اور غیر مشروط رسائی نہ دی گئی تو اس بحران کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…